جنگ عظیم سوئم کے خدشات


ھم کافی عرصہ سے دیکھ رہے تھے کہ دنیا میں مختلف خطوں میں چھوٹے بڑے جنگی واقعات ہو رہے تھے جس سے آنے والے خطرات نمایاں ہوتے جا رہے تھے اب غزہ کی تازہ ترین صورتحال نے تو لگتا ہے تصویر میں رنگ بھر دیے ہیں اور آنے والا وقت کسی بہتری کی امید نہیں دکھاتا، تمامتر آثار و قرائن تو تیسری عالمی جنگ کی جانب اشارے دے رہے ہیں۔ امریکیوں نے عراق کے اندر ایرانی مدد سے چلنے والی تنظیم الشباب الھشد الشھابی پہ تازہ ترین میزائل حملوں سے ظاہر کیا ہے کہ وہ کام کو آگے ہی لے کر جا رہے ہیں وہ بیک وقت کئی محاذوں میں مصروف ہیں۔

شام میں اسرائیل بہت سے ایرانی جانثاروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ قاسم سلیمانی کو 2020 میں ٹارگٹ کر کے کے مارا گیا تھا اور ایرانیوں نے لال پرچم بلند کر دیا گیا تھا جس کا مطلب اعلان جنگ ہے۔ ایرانی بڑی بڑی زبانی باتیں تو کرتے ہیں کہ بھرپور جواب دیں گے اور ایسا کریں گے ویسا کریں گے مگر ہنوز دلی دور است۔ امریکیوں کے لئے اب سے بڑا نشانہ اس وقت داعش ہے جو ان کی نظر میں سب سے بڑا درد سر بنا ہوا ہے، ان کی نظر میں اس کی سرپرستی بھی ایران ہی کر رہا ہے۔

عراقی گلہ کرتے ہیں کہ امریکہ اپنے بدلے چکانے کے لئے عراق کو میدان جنگ بنا رہا ہے۔ الھشد الشھابی کی تعداد اب کافی بڑھ چکی ہے اور اندازہ ہے کہ اس کے پاس 240000 جنگجو موجود ہیں جس کی سربراہی القدس فورس اور حزب اللہ تنظیم کرتی ہے۔ یہ لوگ صرف بلاد شام یا عراق تک اپنی سرگرمیاں محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ پورے خطے کے محافظین کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم مشرق وسطیٰ کے اندر ان مسائل کا غور سے جائزہ لیں تو ایک بات واضح ہوتی ہے کہ جب تک آپ کے ملک کی ریگولر آرمی صحیح طور کام نہ کر رہی ہو ملکی آئین و قانون کے مطابق حکومت وقت کے احکامات کی پابند نہ ہوتو پھر ایسے سرکش عناصر کا سر اٹھانا اور ملکی معاملات کو اپنے ہاتھ اپنی محدود سوچ کے مطابق اپنا اپنا لائحہ عمل بننے سے روکنا ٹوکنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔

ایسے خودسر عناصر کی سرکوبی کرنا ملکی وحدت و یک جہتی کے لئے اشد لازمی ہے۔ یہ عناصر تنظیمی طور پہ کتنے ہی منظم ہوجائیں ملکی وحدت اور معیشت پارہ پارہ ہوجاتی ہے جو عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دیتی ہے۔ اب عراق کی مثال لیجیے جو بحیثیت ریاست امریکی امداد پہ انحصار کرتی ہے مگر یہ خودسر گروہ اس کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ آیت اللہ خمینی نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ ملکی وحدت کا دفاع کرنا سب سے بڑا فرض ہے جو کسی بھی چیز سے بالاتر ہے تب امریکی سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنز نے جو اباً کہا تھا کہ یہ لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں چاہے پورے خطے کو آگ میں جھونک دیں۔

2006 میں جو معرکۂ لبنان ہوا تھا تب سے لے کر اب تک لبنان کی بدقسمتی اور بدامنی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی اس کی معیشت بھی ختم ہو چکی اور فاسفورس بموں نے کھیت کھلیان اجاڑ ڈالے ہیں۔ امریکی صدر کافی حد تک اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں اور اسی پریشانی میں کسی انتہائی اقدام ہی توقع کی جا سکتی ہے۔ امریکی ترجمان دفتر خارجہ جان کر بی کہتا ہے کہ ہم ایران سے براہ راست کوئی جنگ نہیں چاہتے مگر ان سرکش گروہوں کے خلاف جنگ لازماً ہوگی اور ان کا خاتمہ ضروری ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ٹونی بلنکن اب پانچواں دورہ کر رہے ہیں جو صورت احوال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اب دو ریاستی حل کے بغیر حماس اس جنگ کو بند کرنے کے موڈ میں نہیں ادھر ان کے قبضے سے اسرائیلی مغویوں کی بازیابی سب سے اہم ترین فریضہ ہے۔ فلسطینیوں کی مشکلات کا انہیں کچھ احساس نہیں۔ ان مقاصد کے حصول میں ان کی دلچسپی ہے کہ ایرانیوں کی ان گروہوں کی امداد سدراہ نہ بنے۔ بنجمن نیتن یاہو جس طریقے سے معصوم بچوں اور خواتین کو مار رہا ہے وہ بظاہر امریکی احکامات کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے مگر وہ ایک حد تک ہی خودمختار ہے ظاہر ہے کہ امریکی خوشنودی کا طالب ہے۔

جنگ کو ایک نقطہ تک محدود رکھنا ضروری ہے ورنہ معاملات اگر مزید بگاڑ کا شکار ہوئے تو پھر یہ لاکھوں مجاہدین شاید زیادہ دیر صبر و تحمل کا مظاہرہ نہ کر پائیں اور واقعتاً اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالنے کی کوشش کر بیٹھیں اور پھر نتیجتاً امریکہ براہ راست اس جنگ میں کود کر اسرائیل کے دفاع کے کود پڑے گا اور یوں تیسری جنگ شروع ہو جائے گی۔ لگتا تو نہیں کہ صدر جو بائیڈن اپنے عہدے صدارت کے آخری سال کسی بڑی خوفناک جنگ تک حالات کو جانے دیں۔ ہمیں امید کا دامن چھوڑنا نہیں چاہیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments