کرسی کا نشہ


دن ہی کتنے ہوتے ہیں یہ اقتدار کا نشہ ہرن ہوجاتا ہے، کرسی کی طاقت بلاشبہ زیادہ ہے لیکن یہ صدا نہیں رہتی، چکا چوند اور روشنیاں ایک دن مدھم پڑ جاتی ہے اور وہی باقی رہتا ہے جس نے عدل کیا، انصاف کا دامن تھامے رکھا، مظلوم کی آس بنا اور ظالم کو تہس نہس کر دیا۔ کچھ لوگوں کو جب اختیارات ملتے ہیں تو وہ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں، اوقات کا لبادہ اتار پھینکتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ تو فقط چند دنوں کی بات ہے، پھر اقتدار بھی ختم ہو گا اور اختیارات بھی محدود ہو جائیں گے لیکن سمجھ تب آتی ہے جب چڑیاں کھیت چگ کر اڑ چکی ہوتی ہیں۔

نشہ بری عادت ہے بلکہ ایسی گندی بلا ہے کہ اس سے کلی اجتناب برتنا چاہیے لیکن ہم سردست کرسی کے نشے کی بات کرتے ہیں، اقتدار کا نشہ، پروٹوکول کا نشہ اور ہٹو بچو کی صدائیں انسان کا دماغ خراب کر دیتی ہیں لیکن کچھ ان میں سے بھی عظیم لوگ ہوتے ہیں جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

وہ کہاں گئے جو مکے لہرایا کرتے تھے، جن کا طوطی بولا کرتا تھا ان کی کوئی خبر بھی ہے کیا؟ ، وہ جو بات بات پہ نوٹس لیا کرتے تھے وہ بھی قصہ پارینہ ہو چلے، بس وہی قائم رہا جس نے اختیارات ہوتے ہوئے بھی قناعت کو نہ چھوڑا، اپنی طاقت کا مثبت استعمال کیا اور ایسے لوگ ہی عظیم ہوتے ہیں جو لوگوں کے دلوں میں گھر کر جائیں۔

حسن ماند پڑ جاتا ہے، کرسی سدا نہیں رہتی، نزاکتیں ختم ہو جاتی ہیں اور وقت کے ساتھ اختیارات بھی سلب ہو جاتے ہیں بس یہی کیجئے کہ عاجزی کا دامن تھامے رکھیو، تکبر سے اجتناب کیجئے اور گھمنڈی چال سے گریز بھی لازم ہے۔

ہمارے یہاں الیکشن کا موسم ہے، بھانت بھانت کی بولیاں ہیں، بلند و بالا دعوے ہیں، خوبصورت وعدے اور دلکش نعرے ہیں، لیکن پولنگ کے دن شام کا منظر بڑا عجب ہوتا ہے جو ابھی خود کو عوام کا خادم گردانتے ہیں یہ غائب ہو جاتے ہیں، جیتنے والا بھی گم اور ہارنے والے بھی نظر نہیں آتا، فقط باتوں کی گونج رہ جاتی ہے، جھوٹے وعدوں کا آسرا بچتا ہے اور پھر سے امیدوار اجنبی بن جاتے ہیں۔

پڑھا تھا کہ سیاست عبادت ہے تاہم مشاہدے سے یہ نظر آیا کہ ہمارے یہاں سیاست کا چلن بھی عجیب ہے یہ پروٹوکول کا دوسرا نام ہے، جو کہتے تھے کہ یہ خدمت کا نام ہے وہ معدودے چند رہ گئے جن کو ڈھونڈنے نکلیں تو دن ہفتوں میں بدل جائیں اور کچھ تو اس کھیل کو بھی کاروبار سمجھتے ہیں۔

سیاسی کشمکش میں لعن طعن، طنز و تشنیع اور بہتان بازی کے بعد جو سرفراز ہوتا ہے وہ عوام کا نمائندہ اسی دن سے اپنے آپ کو خواص میں شمار کرتا ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ حسن جب آتا ہے تو نزاکت آ جاتی ہے اور یہاں تھوڑا سا اختیار کیا ملتا ہے کہ طاقت کا نشہ سر چڑھ کر بولنے لگتا ہے۔

ہمارے یہاں دو مثالیں بڑے فخر سے پیش کی جاتی ہیں کہ بحیثیت مسلمان ہمارے رول ماڈل خاتم النبیین حضرت محمدﷺ ہیں، ہمیں ان کے اسوۂ حسنہ کو اپنانا چاہیے اور دوسرا ہمیں ترقی یافتہ یورپی ممالک کی مثال دی جاتی ہے لیکن ہم صرف باتیں کرتے ہیں مثالیں پیش کرتے ہیں نہ سرکارﷺ کی سیرت کو اپناتے ہیں اور نہ ہی ترقی یافتہ ممالک کی اچھی عادات پہ چلنے کی سعی کرتے ہیں، اگر ہم سرکارﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں گے تو ہم پہ یہ عیاں ہو گا کہ جب وہ طاقت میں تھے تو انہوں نے کیا کردار ادا کیا تھا اور آج نام نہاد ان کے پیروکار جب با اختیار ہوتے ہیں تو ان کا رویہ کیا ہوتا ہے، اور دوسری طرف ترقی یافتہ ممالک میں اختیار کے حامل شخص اور عام شہری کے حقوق میں کوئی فرق نہیں ہوتا لیکن ہمارے پاس جس کی ”لاٹھی“ اس کی بھینس۔

وقت کا کیا ہے، گزر جاتا ہے اچھا وقت بھی سدا نہیں رہتا اور برا بھی ہمیشہ نہیں رہتا، کیونکہ گھڑیال کی ٹک ٹک بتا رہی ہے کہ وقت کو قابو کرنا ناممکن ہے بس یہی کیجئے کہ طاقتور ہیں تو ایسا ظلم نہ کیجئے کہ کوئی بندہ اٹھ کر آپ کی شکایت اس کریم رب سے لگا دے، کیونکہ یہ کرسی ہمیشہ نہیں رہنی اور طاقت کا نشہ جلد ہرن ہونے کو ہے بس خیال کیجئے، انصاف کیجئے، کیونکہ وہ اختیار دے کر بھی آزماتا ہے اور طاقت لے کر بھی آزمائش میں ڈالتا ہے۔

کہاں ہیں وہ جو بڑے کروفر سے، ٹھاٹ باٹ سے، پروٹوکول میں نکلا کرتے اور مستقبل کے پلین بنایا کرتے تھے پھر ہوا ایسی مخالف چلی کہ سب کچھ تہس نہس ہو گیا، منصوبے ختم ہوئے، لیکن اچھے اقدامات کی تعریف ہر جگہ ہوتی رہے گی جو صاحب اختیار کر جاتا ہے، آج کے مسند نشین کل نجانے کہاں ہوں گے لیکن اگر انہوں نے کوئی ایسا کارنامہ سرانجام دے دیا تو وہ بھی امر ہوجائیں گے اور لوگوں کے دل میں رہیں گے کیونکہ طاقت سدا نہیں رہتی ہے، جو آیا، اس کا جانا لازم ہے بس سدا بقا ہے میرے اللہ کو۔

Facebook Comments HS