الیکشن 2024: جماعت اسلامی کے بارے میں بھی سوچیے!


الیکشن میں چند دن باقی ہیں۔ ایسے میں عوام کو سوچ و فکر کے محدود دائروں سے نکل کر پہلے سے آزمائی ہوئی چند جماعتوں کے علاوہ بھی غور کرنا چاہیے۔ جماعت اسلامی بھی خدمت اور سیاست کا ایک معروف نام ہے۔ جماعت اسلامی کے تصور سیاست، انداز سیاست، فہم اسلام وغیرہ سے اختلاف بھی کیا جاتا ہے اور ان پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ ظاہر ہے یہ جمہوری عمل کا حصہ ہے لیکن آئیے ہم جماعت اسلامی کی ان چند خوبیوں پر نظر ڈالیں جو اسے دیگر سیاسی جماعتوں سے ممتاز بناتی ہیں۔

1۔ اندرونی مثالی جمہوریت:الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق 160 سے زائد جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔ ان جماعتوں میں اندرونی جمہوری نظام کیا ہے؟ قیادت کا انتخاب، فیصلہ سازی کا طریقہ کار، ٹکٹوں کی تقسیم کیسے کی جاتی ہے؟ ان سوالوں کے جواب مشکل نہیں ہیں۔ ملکی سیاسی جماعتوں کی اندرونی جمہوریت افسوسناک ہے۔ ملکی سیاسی جماعتوں کی اکثریت موروثی اور خاندانی سیاست کو فروغ دے رہی ہیں۔ دادا، باپ، بیٹا، بیٹی، شوہر، بیوی اور ان کی اولاد، داماد، سب کے سب سیاسی جماعتوں کے قائد یا مستقبل کے قائد ہوتے ہیں۔ ٹکٹوں کی تقسیم کی بات ہو یا وزارتوں کا تعین، ہر جگہ قومی مفاد کی بجائے ”خاندانی منصوبہ بندی“ کو پیش نظر رکھا جا تا ہے۔ جن جماعتوں میں موروثیت نہیں وہاں جماعتیں فرد واحد کی آمرانہ خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔

ایک سو ساٹھ سے زائد سیاسی جماعتوں میں جماعت اسلامی کے اندرونی جمہوریت کا نظام ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ایک بہتر جمہوری ڈھانچے کی تصویر پیش کرتا ہے۔ جماعت اسلامی میں مرکزی امیر سے لے کر وارڈ، یونین کونسل، صوبوں اور اضلاع کی سطح پر ہر جگہ جماعت کے ارکان کے ووٹوں کی بنیاد پر قیادت کی تبدیلی کا خودکار نظام کام کر رہا ہے۔ اس نظام میں بے شمار خامیوں کی نشان دہی کی جا سکتی ہے لیکن جماعت اسلامی کے اندرونی جمہوریت کی مضبوطی دیگر تمام جماعتوں کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ ہے۔

2۔ وی آئی پی کلچر کی بجائے سادگی کا کلچر: غریب عوام کے خون، پسینے کی کمائی سے جمع ہونے والے خزانے کا ایک بڑا حصہ اشرافیہ کے اللے تللوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔ صدر، وزیر اعظم، وزرا، وفاقی و صوبائی وزراء، بیوروکریسی، مسلح افواج کے اعلیٰ عہدے دار، ضلعی انتظامیہ، ان سب کی معمولی نقل و حرکت بھی قوم کو مہنگی پڑتی ہے۔ ان کے مقابلے میں جماعت اسلامی کے وزرا عنایت اللہ، سراج الحق، بلدیاتی قیادت عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان مرحوم کی سادگی، درویشی اور دیانت داری قوم کے مشاہدے میں آ چکی ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت مڈل کلاس کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگر قوم جماعت اسلامی کو ووٹ دے تو امید کی جا سکتی ہے کہ سراج الحق جیسی سادہ اور عوام دوست قیادت ملک کو وی آئی پی کلچر کے عذاب سے نجات دلا سکتی ہے۔

3۔ بغیر حکومت عوامی فلاح و بہبود کے کامیاب منصوبے : اگرچہ جماعت اسلامی انتخابات میں کبھی نمایاں کامیابی نہیں حاصل کر سکی لیکن جب کبھی قوم کو زلزلے، سیلاب یا کسی آفت کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام کی مدد کے لیے جماعت اسلامی کے رضاکار ادارے قومی اداروں کے شانہ بہ شانہ سرگرم نظر آتے ہیں۔ جماعت اسلامی سے منسلک این جی اوز کے تحت یتامیٰ کی کفالت اور عوام کو سستی اور معیاری تعلیمی و طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے سینکڑوں سکولز، کالجز، ہسپتال اور لیبارٹریاں، دستکاری ادارے پورے ملک میں عوامی خدمت میں ایک نمایاں نام ہیں۔ ان خدمات کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا سکتی ہے کہ جو پارٹی عوامی عطیات کی بنیاد پر عوام کی فلاح و بہبود کا جامع نظام ترتیب دے سکتی ہے، اگر اسے وسیع پیمانے پر قومی وسائل کا انتظام دیا جائے تو تعمیر و ترقی کے ضمن میں قوم ایک خوشگوار تبدیلی محسوس کر سکے گی۔

4۔ تعصبات سے پاک سیاست : پاکستان میں رنگ، نسل، مسلک، ذات پات کی بنیاد پر سیاست عام ہے۔ پنجاب، سندھی، سرائیکی، پختون اور مہاجر کارڈ کی بنیاد پر سیاست عام ہے۔ رنگ، نسل، برادری کے نام پر بھی ووٹ مانگے جاتے ہیں۔ مذہبی جماعتیں بھی دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث یا مسلکی بنیادوں پر سیاست میں عار محسوس نہیں کرتیں۔ ان کے مقابلے میں جماعت اسلامی رنگ، نسل، مذہب، ذات پات، زبان، فرقے اور مسلک سے بالاتر ہو کر اپنی سیاست اور دعوت کو عام کر رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک و قوم کی ترقی کے لیے ہر طرح کے تعصبات سے آزاد ہو کر نفرتوں اور تقسیم کے عمل کو روکا جائے۔ جماعت اسلامی کا تعصبات سے پاک سیاسی چہرہ ملک اور قوم کو یکجہتی کی لڑی میں پرو کر تعمیر اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

5۔ گڈ گورننس:جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے بلدیاتی نمائندے، ناظم، میئر اور خیبر پختون خواہ میں خزانے اور بلدیات کے وزراء قومی ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں۔ کراچی کو روشنیوں کا شہر بنانے میں جماعت اسلامی کے بلدیاتی نمائندوں سابقہ میئر عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان مرحوم کی خدمات کو عوام و خواص میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کے وفاقی صوبائی وزرا عوامی خدمت اور عوامی خزانے کو عوام پر خرچ کرنے میں نمایاں طور پر پہچانے جاتے ہیں۔

عنایت اللہ سراج الحق، پروفیسر خورشید، مشتاق احمد خان، حافظ نعیم الرحمنٰ، عبدالرشید سمیت درجنوں نمائندوں نے وزراء اور دیگر عوامی عہدوں پر کام کیا۔ جماعت اسلامی کے وزراء اور عوامی نمائندوں کے دامن پر کرپشن کے داغ نہیں ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت حکومت میں آنے کے بعد سرکاری سطح پر کرپشن کو کم کر کے قومی وسائل کو ضائع ہونے سے بچا نے میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

فلاحی ریاست کے قیام کے لیے وطن عزیز کے ووٹرز کو جماعت اسلامی کی ان خوبیوں کو ضرور مد نظر رکھنا چاہیے۔

Facebook Comments HS