مصنوعی ذہانت کی گورننس میں دنیا کی شراکت


ابھی حال ہی میں اقوام متحدہ کے ایک فورم میں چین کی جانب سے واضح کیا گیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات اور حکمرانی کو فروغ دینے کی عالمی کوششوں میں حصہ لینے کا خواہاں ہے تاکہ اس سے تمام انسانیت کو فائدہ پہنچے۔ ”مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے منظرنامے کو تبدیل کرنا“ کے عنوان سے منعقد ہونے والے اس فورم میں 67 ممالک کی حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، تعلیمی اور تحقیقی اداروں، این جی اوز اور کاروباری اداروں کے 600 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔

چین کا اس موقع پر یہ موقف بھی رہا کہ مختلف ممالک کی جانب سے تجویز کردہ مصنوعی ذہانت کے گورننس کے منصوبے ان کے تجربے کی عکاسی کرتے ہیں اور عالمی اتفاق رائے حاصل کرنے اور مشترکہ طور پر عالمی گورننس کے منصوبوں کی تشکیل کے لئے بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں چین، تمام فریقوں کی بات سننے، عالمی مصنوعی ذہانت پر مواصلات، تبادلے اور عملی تعاون کو آگے بڑھانے، مشترکہ طور پر ایک کھلا، منصفانہ اور موثر گورننس میکانزم بنانے اور تمام انسانیت کے فائدے کے لئے مصنوعی ذہانت کو فروغ دینے کا بھی خواہاں ہے۔

دنیا تسلیم کرتی ہے کہ چین نے مصنوعی ذہانت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نہ صرف اقدامات اور قوانین کا ایک سلسلہ تیار کیا ہے بلکہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کے منفی پہلوؤں کو دور کرنے کی بین الاقوامی کوششوں میں بھی فعال طور پر حصہ لیا ہے، جس کا مقصد لوگوں کو بہتر نتائج فراہم کرنا ہے۔ دیکھا جائے تو آج موسمیاتی تبدیلی اور ڈیجیٹل انقلاب کے نئے تناظر میں بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ یہاں، سب کے لئے اہم سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اس انقلاب میں فعال طور پر شریک ہو گی یا صرف خاموش مبصر بن کر رہے گی۔

دوسری جانب اس حقیقت کا ادراک بھی لازم ہے کہ دنیا کے تقریباً سبھی خطوں کے پاس مصنوعی ذہانت تشکیل دینے کی ترغیب، طاقت، علم اور ذمہ داری ہے جو لوگوں کی بھلائی کے لئے کام آ سکتی ہے، لیکن مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات اور حکمرانی کے بارے میں آگہی کا فروغ بھی لازم ہے۔ اس میں بہترین طریقوں، موثر مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کاروباری اداروں میں اخلاقی مصنوعی ذہانت کو مربوط کرنا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ مصنوعی ذہانت گزرتے وقت کے ساتھ ہماری زندگی، پیداوار کے طریقے اور ترقی کے امکانات کو گہرائی سے تبدیل کر رہی ہے۔ ان میں ٹیکنالوجی، اقتصادی ترقی کے نمونے، قومی گورننس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعلقات کا احاطہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے مصنوعی ذہانت کے معاشرے پر منظم، گہرے اور جامع اثرات کو ہمیشہ مدنظر رکھنا ہو گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک جانب، کچھ ممالک اور خطے تیزی سے ترقی پذیر مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کی تفہیم، اطلاق اور حکمرانی میں بدستور قدرے پیچھے ہیں۔

دوسری جانب، کچھ ممالک اپنی تکنیکی خوبیوں اور بالادستی کو آگے بڑھانے کے لئے اپنے تکنیکی فوائد پر انحصار کر رہے ہیں، جس نے دوسرے ممالک اور لوگوں کے ترقیاتی مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے میں مصنوعی ذہانت سے متعلق گورننس لازم ہو چکی ہے تاکہ یہ تمام ممالک کے مفاد کے مقصد کو آگے بڑھا سکے۔ اس ضمن میں چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے مجوزہ گلوبل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) گورننس انیشی ایٹو ایک بروقت اقدام ہے جو ایک بڑے عالمی رہنماء کے طور پر چینی صدر کی دور اندیشی اور بصیرت کا مظہر بھی ہے۔ اس اقدام میں مصنوعی ذہانت کی حکمرانی سے متعلق چین کی تجاویز کو منظم طریقے سے تین پہلوؤں سے پیش کیا گیا ہے، جن میں مصنوعی ذہانت کی ترقی، سلامتی اور گورننس شامل ہیں۔

اس اقدام میں چین نے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں عوام پر مرکوز نقطہ نظر کو برقرار رکھیں اور انسانیت کی بھلائی کے لئے مصنوعی ذہانت کی ترقی کے اصول پر عمل کریں، خاص طور پر جب عسکری میدان میں ٹیکنالوجی کا اطلاق ہوتا ہے تو اس میں انسانی پہلو کو فوقیت دی جائے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مصنوعات اور خدمات برآمد کرتے وقت، فراہم کنندگان کو بیرونی ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے، مقامی قوانین کی پاسداری کرنی چاہیے، اور ان کے دائرہ اختیار کو قبول کرنا چاہیے۔ وسیع تناظر میں یہ انیشی ایٹو ایک منظم سوچ پر عمل پیرا ہے جو ترقی اور سلامتی کو یکساں اہمیت دیتا ہے، اور دوسرے ممالک کو مصنوعی ذہانت کی ترقی سے روکنے کے لئے نظریاتی لکیریں کھینچنے یا خصوصی گروہ بندی کی مخالفت کرتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments