مسلم لیگ (ن) کا انتخابی منشور!
انتخابات میں چند دن باقی ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ یہ انتخابات اور ان کے نتائج پاکستان کے لئے خوشحالی اور ترقی کی نوید ثابت ہوں (آمین) ۔ اس وقت ملک بھر میں انتخابی سر گرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ تمام قابل ذکر سیاسی جماعتیں جلسوں اور ملاقاتوں وغیرہ میں مصروف ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتوں نے عوام کے سامنے اپنے انتخابی منشور پیش کر دیے ہیں۔ میری نگاہ سے بھی اہم سیاسی جماعتوں کے منشور گزرے ہیں۔ کچھ دن پہلے مجھے مسلم لیگ (ن) کا انتخابی منشور پڑھنے کا اتفاق ہوا۔
اس منشور سے میری دلچسپی اس لئے بھی زیادہ ہے کہ چند ماہ پہلے (ن) لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے انتخابی منشور کی تشکیل کے لئے سینیٹر عرفان صدیقی صاحب کی سربراہی میں باقاعدہ ایک کمیٹی قائم کی تھی۔ عرفان صدیقی صاحب دانشور شخصیت ہیں۔ اس لئے امید تھی کہ ایک منفرد منشور عوام کے سامنے آئے گا۔ مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ سینیٹر صاحب کی سربراہی میں قائم کمیٹی مسلسل مشاورت اور ملاقاتوں میں مصروف رہی۔ صدیقی صاحب نے ایک بار تذکرہ کیا تھا کہ جب میاں صاحب نے انہیں منشور کمیٹی کے چیئرمین کی ذمہ داری سونپی تو صرف ایک ہدایت کی کہ منشور میں کوئی ایسا وعدہ نہ کیا جائے جو قابل عمل نہ ہو۔
دوسرے الفاظ میں یہ کہ عوام کو بے وقوف بنانے اور سبز باغ دکھانے کے لئے کوئی نکتہ منشور میں شامل نہ کیا جائے۔ منشور کی تشکیل کے لئے عوام الناس، مختلف اداروں اور دانشور طبقے سے تجاویز لینے کے لئے باقاعدہ ایک پورٹل قائم کیا گیا تھا۔ اس میں ساڑھے سات ہزار سے زائد افراد اور اداروں نے اپنی تجاویز دیں۔ ان تجاویز پر غور ہوا اور اہم نکات کو منشور کا حصہ بنایا گیا۔ چند دن پہلے میاں نواز شریف کی صدارت میں انتخابی منشور کا اعلان کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی صاحب نے بتایا کہ انہوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین پر مشتمل 32 ضمنی کمیٹیاں قائم کی تھیں۔ ان کمیٹیوں نے انہیں تجاویز کے بجائے تحقیقی مقالے بھجوا دیے۔ نہایت محنت کے بعد حاصل شدہ تحقیقی پلندوں کو نکات کی شکل میں ڈھالا گیا۔
مسلم لیگ (ن) کے منشور کی ایک منفرد بات یہ ہے کہ اس منشور میں ہر شعبے کے حوالے سے مستقبل کی منصوبہ بندی یا ارادوں کا تذکرہ کرنے سے پہلے ماضی کی حکومتی کارکردگی بیان کی گئی ہے۔ یعنی اگر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2024 میں حکومت ملنے کی صورت میں مہنگائی کم کریں گے تو اس بات کا ذکر بھی کیا ہے کہ ان کے گزشتہ دور حکومت میں مہنگائی کم ترین سطح پر تھی۔ مطلب یہ کہ عوام کا یہ بتایا ہے کہ وہ جھوٹے وعدوں پر یقین نہیں رکھتے۔ نا عوام کو پہلے سبز باغ دکھائے تھے اور نہ اب دکھائیں گے۔
منشور میں ہر شعبہ کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کے حکومتی ادوار میں ہونے والی پیشرفت کا ذکر کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ناقدین اکثر یہ کہتے ہیں کہ (ن) لیگ شہباز شریف کی وفاقی حکومت کو own نہیں کرتی۔ منشور میں اس بات کی نفی ہوتی ہے۔ اس انتخابی منشور میں 2022 سے 2023 کی شہباز حکومت کی کارکردگی کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ خاص طور پر اس نکتے پر زور ہے کہ شہباز حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا تھا۔
ماضی کی حکومتی کارکردگی کا تذکرہ کرنا ہمیشہ سے مسلم لیگ (ن) کی انتخابی کمپین کا اہم حصہ رہا ہے۔ 2013 کے انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) نے 2008 میں بننے والی شہباز شریف کی پنجاب حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کا ذکر کیا تھا۔ اس وقت کہا جاتا تھا کہ نون لیگ نے یہ انتخاب شہباز شریف حکومت کی کارکردگی پر جیتا ہے۔ آج کل بھی مسلم لیگ (ن) کے قائدین اپنے جلسوں میں نواز شریف کی 2013 میں قائم ہونے والی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہیں۔ اسی طرز پر منشور میں بھی نہایت فخر کے ساتھ ماضی کی کارگزاری کا ذکر ہے۔
منشور 2024 میں نیب کا خاتمہ کرنا، انسداد بدعنوانی کے اداروں کو مضبوط بنانا، آمر ضیا الحق کے دور میں 62، 63 میں کی گئی ترامیم کا خاتمہ، بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ، نظام عدل میں اصلاحات، سمندر پار پاکستانیوں کے لئے ایک عظیم الشان شہر کا قیام کے اہم نکات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ برآمدات میں اضافہ کرنے، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی لا کر کسان کو خوشحال بنانے، انفارمیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فروغ، سستی بجلی کی پیداوار، توانائی کے ذرائع کا تحفظ، آئینی، قانونی اور عدالتی اصلاحات، نوجوانوں اور خواتین کی ترقی کے لئے اقدامات، تعلیمی انقلاب، صحت عامہ کی سہولیات، ٹرانسپورٹ، مزدوروں کی فلاح، فلم، ڈرامہ اور میوزک انڈسٹری کی ترقی، سیاحت کے فروغ وغیرہ کی بات کی گئی ہے۔
معیشت ہمیشہ سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی توجہ کا محور رہی ہے۔ 2024 کے انتخابی منشور میں بھی نون لیگ نے معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ مہنگائی کی شرح کو 30 اور 40 فیصد سے کم کر کے سنگل ڈیجٹ پر لانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ جی۔ ڈی۔ پی کو 5 سالوں میں 6 فیصد سے زائد پر لے جائیں گے۔ اس وقت معیشت کی جو حالت ہے۔ اس تناظر میں یہ دعویٰ قابل عمل معلوم نہیں ہوتا۔ معاشی حالت کو سدھارنا اور مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنا نہایت مشکل کام ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنتی ہے دیکھتے ہیں کہ تو وہ کس طرح اس مشکل اہداف کو حاصل کرے گی۔ اللہ کرے کہ نئی بننے والی حکومت عوام الناس کی زندگیوں میں آسانی لانے اور ملک کو منجدھار سے نکالنے میں کامیاب رہے۔


