مانگنے والوں کی اشرافیہ کا موسم!

لکھاری کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے، سیاسی، سماجی اور سائنسی موضوعات پر لکھتے ہیں، سال 2019 میں توانائی کے شعبے میں آگاہی ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔
مارکیٹنگ کی غرض سے سارا سال مختلف ڈیلروں کے دفاتر اور دکانوں پر خاصہ وقت گزرتا ہے۔ انہیں مقامات اور چوک چوراہوں پر مانگنے والوں سے سامنا رہتا ہے۔ ان روایتی مانگنے والوں کی اکثریت ایک سی ہی ہوتی ہے۔ ان میں سے کچھ سکوں کے حصول پر ہی اکتفا کرتے ہیں، باقی دس، بیس، پچاس اور سو کے نوٹ پر ہنسی خوشی رضا مند ہو جاتے ہیں۔
سارے سال میں چند ہی ایسے ملتے ہیں جو استدعا کریں کہ وہ حقیقی معنوں میں مجبور اور لاچار ہیں۔ اور ان کا پچاس اور سو کے نوٹ سے گزارا ممکن نہیں، انہیں بھاری مالی مدد فراہم کی جائے۔ یہ تو سارے سال کا سلسلہ ہے مگر گزشتہ ماہ سے میں نے ایک اور طرح کے مانگنے والوں کا دفاتر، دکانوں اور چوک چوراہوں پر خاصہ رش دیکھا ہے۔ تھوڑے مشاہدے کے بعد اندازہ ہوا کہ یہ تو مانگنے والوں کی کوئی خاصی امیر اور منظم کلاس ہے، جو اپنے کام میں باقی مانگنے والوں سے زیادہ مہارت رکھتی ہے۔ بھکاریوں کا یہ اشرافیہ گروہ گزشتہ ماہ سے خاصا متحرک ہے۔
ان کے مانگنے کا طریقہ انتہائی دلکش اور حیرت انگیز ہے۔ لاکھوں مالیت کے اشتہارات ان کی مانگنے کی جستجو کو تقویت بخشتے ہیں۔ کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں سے اتر کر گلاب کی پتیوں کے برسات میں پھولوں اور مہنگے نوٹوں کی مالاؤں میں دبے اور عوام کے ہجوم میں دھنسے ہوئے یہ ماہر مانگنے والے اشرافیہ جب اپنی سحر انگیز تقریر کے الفاظ میں جھوٹ کا نپا تولا سا سہارا لیتے ہیں تو عوام کا ہجوم پھولے نہیں سماتا۔ جیسے کسی مسیحا کا نزول ہو چکا ہو۔
بھائی درحقیقت مسیحا تو وہ ہیں ہی مگر اپنی آنے والی نسلوں کے لئے۔ ہم سب جن کو بھکاری سمجھتے ہیں وہ تو کسی کھاتے میں ہی نہیں۔ انتہائی نچلے درجے کہ یہ بھکاری تو مانگنے والوں کی ذات پر بد نما سا دھبا ہیں۔ بھائی جب عزت کا اوڑھنا اتار کر ضمیر کو مردہ کر کے جھوٹ کا بیوپار کرنا ہے تو پھر چند روپوں کا کاروبار کیوں؟ اتنی بڑی قربانی کے بعد حق تو یہ ہی بنتا ہے کہ کروڑوں، اربوں مالیت کے بیوپار کو فروغ دیں۔ متاثر کن بات یہ ہے کہ اشرافیہ بھکاری مہینے بھر کی محنت کے ثمرات سے سارا سال کی بجائے پانچ سال تک بھی فیض یاب ہو سکتے ہیں۔
رینگ رینگ کر مانگنے سے تو بہتر ہے ایک ہی ماہ کا سیزن پوری محنت اور تگ و دو سے لگایا جائے۔ اپنی پوری مہارت اور ہنر کا استعمال کیا جائے۔ مہارت کی بات کی جائے تو یہ اپنے کام میں انتہا درجہ کے ماہر ہیں۔ تبھی تو لوگ ان کے جھوٹے دعوؤں کی بدولت ان پر پھولوں کو نچھاور کرتے ہیں، ان کی گاڑیوں کے آگے رقص کرتے ہیں، ان کے لئے مہنگے اور لذیز پکوان پکواتے ہیں۔ ان کی مہم کی پذیرائی کے لئے لاکھوں مالیت کے اشتہارات بنواتے ہیں۔
ان کے پیچھے اپنی گاڑیوں کے ٹائر گھساتے ہیں۔ ان کا آخری اور کامیاب ترین ہتھیار ہے لالچ، جو ان کے سحر میں مبتلا نہ ہوں ان کو لالچ کے عوض ٹریپ کر لیا جاتا ہے۔ بعض متوالے ان کے ساتھ تصاویر بنوا کر پانچ سال تک ایسے مطمئن ہو جاتے ہیں، جیسے ان کے نزدیک سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل جیسی کوئی خرابی ہی نہ ہو۔ تعلیم، صحت، توانائی اور انصاف سے زیادہ اثر تو جیسے ان تصویروں اور ملاقاتوں میں ہو، جو اس ایک مہینے کی مانگنے والی مہم سے لوگوں کو حاصل ہوئی ہیں۔
ان کی تقاریر شاید بھنگ سے بھی زیادہ پر اثر ہوتی ہیں۔ جو لوگوں دنیا کی فکروں سے آزاد اور ان کے سہر میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ مانگنے والی مہم تو اختتام کو پہنچ گئی ہے۔ اب اس کے نتائج کے بعد جیتنے والے بڑے عہدوں پر براجمان ہو جائیں گے۔ ان گروہوں کے ٹھکانے بدل جائیں گے۔ نہ بریانی ہوگی نہ قورمہ نہ ڈھول نہ ملاقاتیں۔ میں نہیں جانتا، تو کون! سی کشمکش ہوگی۔ معصوم لوگ پانچ سال لوگوں کو یہ ہی یقین دلاتے پھریں گے کہ فلاں سے میرا بڑا تعلق ہے۔ اور اس ایک ماہ سے حاصل شد تصویریں اور چند میٹھی باتیں ہی عوام کا اثاثہ ہیں۔
موجودہ انتخابی صورتحال سے مماثلت محض اتفاقیہ ہے، درحقیقت موضوع کچھ اور ہے۔ پھر بھی کسی کو بات دل پر لگی ہو تو وہ اس پریشانی سے اس وجہ سے بھی نکل سکتا ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ درحقیقت یہ ایک مزاح ہے، کسی بھی قسم کی دل آزاری پر پیشگی معذرت!

