زندگی کے نام


کوئی ننھی سی بچی چہرے پر مسکراہٹ سجائے موت کے ہاتھوں سفارشی چٹھی لائی ہے۔ میں ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑ لوں کیا؟ زندگی سے نظر چرا کر اسے پڑھ لوں کیا؟ کس کتاب، کس تحریر، کس تحقیق، کس مقالے سے یا کس انسائیکلوپیڈیا سے خودکشی کی وجوہات نکالوں؟ انسان کی تنہائی شاید دنیا کا سب سے بڑا المیہ ہے جس پر کوئی سیمینار نہیں ہونا۔ لوگ کہتے ہیں خودکشی پر بات کی جائے مگر بات نہیں کرتے اور بات کرتے بھی ہیں تو دل کی حالت بیاں نہیں کرتے۔

سماجی، معاشی، ثقافتی، مذہبی، نفسیاتی اور نہ جانے کن کن پہلوؤں سے خودکشی کی وجوہات کو نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر صاحب، جہاں ایک روتا ہوا چہرہ خودکشی کی جانب ہاتھ بڑھاتا ہے وہیں ایک ہنستا ہوا چہرہ خودکشی کو کر گزرتا ہے۔ آخر دل شکستگی کا وہ ایسا کون سا عالم ہوتا ہے کہ جس کے ہاتھوں انسان اپنی ہی سانسیں ہار جاتا ہے؟ ان سوالات کے جوابات ڈھونڈنے نکلو تو یہی سوالات نہ جانے اور کتنے لامتناہی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

وہ بچی، جو مسکراتے ہوئے موت کی چٹھی لائی ہے، ذرا غور کرو تو اس کی آں کھوں میں اک تیرگی سی ہے۔ وہ چٹھی میرے لیے لائی ہے مگر شاید کہیں خود بھی اسے پڑھ کر آئی ہے۔ وہ جانتی ہے اسے پڑھنے کا انجام کیا ہو گا۔ وہ جانتی ہے اب شمعیں بجھنے والی ہیں۔ وہ جا رہی ہے کہ اب اندھیرے بڑھنے والے ہیں۔ وہ جانتی ہے کہ ہم دونوں کا انجام فقط تنہائی ہے۔ یہ میرے دل کی اداسیوں کا رنگ اب شفق میں بھرتا جا رہا ہے۔ اب ابر برسے کا آنکھوں سے مگر اسے ضبط کا بندھ باندھنا ہو گا۔

اور یہیں سے شروعات ہوتی ہے حزیں مسکراہٹ کی جسے کوئی جان نہیں پاتا۔ جو آہستہ آہستہ خودکشی کی جانب لے جاتی ہے۔ چہرے پر ہی نہیں، آنکھوں پر مکھوٹے پہن رکھے ہیں شہر کے شہر نے۔ خودکشی کرنے والے کو لوگ فقط اپنے نظریے سے دیکھ رہے ہیں، مروجہ تقاضوں پر پرکھ رہے ہیں۔ اسے اس کی نظر سے کوئی کیوں نہیں دیکھتا، اس کے عکس کی تنہائی کیوں نہیں دیکھتا؟ شاید تنہائی کی بھی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ معاشی تنہائی کہ غربت جان لیوا ہوتی ہے۔

سماجی تنہائی کہ بات کرنے والا کوئی نہیں۔ نفسیاتی تنہائی کہ اپنے اندر ہی کوئی رنج ندی سے دریا اور سمندر بنتا رہتا ہے۔ جسمانی تنہائی اور یہ تنہائی کی وہ قسم ہے جس پر ڈھونڈے سے بھی کوئی ایک آدھا لفظ نہیں ملتا جو اسے بیان کر سکے۔ تنہائی تو بہرحال تنہائی ہے جس کی گہرائی کو کوئی سمجھا ہی نہیں۔ تنہائی المیہ ہے خودکشی کا اور خودکشی المیہ ہے موت کا اور زندگی اس سب میں کہیں کھو کر رہ گئی ہے۔ زندگی حالت جنگ میں ہے موت کے خلاف اور تنہائی خودکشی سے آنکھیں چرا رہی ہے۔

ایک دن موت
اس ننھی سی بچی کی طرح
میرے سامنے آئے گی
تب اس کے ہاتھ میں کوئی چٹھی نہ ہوگی
اور نہ کوئی سفارش
اک نظر مسکرا کر وہ میری آنکھیں چرا لے گی
مجھے گلے سے لگا لے گی

اقصیٰ اشفاق
Latest posts by اقصیٰ اشفاق (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments