بہار دوستاں اور چمن حیات


آفاقی حقیقتوں میں سے ایک یہ ہے کہ دوستوں کے بغیر زندگی بے رنگ رہتی ہے۔

انسان کی دوستیاں اس کی شخصیت پر بہت گہرا اثر رکھتی ہیں اور عصر حاضر میں جب لوگ گھر والوں سے زیادہ وقت اپنے حلقہ احباب میں گزارتے ہیں تو یہ اثر مزید بڑھ جاتا ہے۔

انسانی شخصیت کی تعمیر میں انسان کے افکار و نظریات سے لے کر افعال و اخلاق تک، زبان و بیان سے لیے کر اشغال و ترجیحات تک ہر چیز میں انسان اپنے حلقۂ احباب سے متاثر نظر آتا ہے۔

کسی انسان کے دوست ہی اس کو سفر حیات میں منزل آشنا بناتے ہیں یا منزل کی جانب اس کے بڑھتے قدموں کی سمت بدل دیتے ہیں۔

اس لیے ہی اہل فکر و دانش نے ہمیشہ انتخاب رفقاء میں کمال درجہ احتیاط کی تلقین کرنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی شخص کی عادات و اطوار کو جاننے کے لئے بھی جو طریقہ بیان کیا وہ یہ ہے کہ اس کے حلقۂ احباب کی عادات و اطوار کو دیکھ لیا جائے۔

اکثر اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ دوست آپس میں ہم مزاج اور ہم خیال ہوا کرتے ہیں لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوستوں کے مزاج، خیالات، عادات و اطوار کے علاوہ ان کے اشغال و ترجیحات حتیٰ کہ ان کے نظریات بھی الگ ہوتے ہیں۔

مگر ان کی دوستی مثالی ہوا کرتی ہے بلکہ اکثر اوقات تو ان کے یہ اختلافات ان کی فکری اور شعوری پختگی کی رفتار کو تیز کر دیتے ہیں۔

وہ ان اختلافی موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں اور ایک بات کو مختلف پہلوؤں سے دیکھ کر ذہن کے بند کواڑوں پر مدتوں سے پڑے زنگ آلود قفل کھولتے ہیں اور مباحث میں گزرے لمحات ان کی الواح حیات پر حسیں یادوں کے طور نقش ہوتے ہیں، جس میں ہنسی، قہقہے، سنجیدگی، دلائل اور نا جانے کیا کیا شامل ہوتا ہے۔

اس سب کے باوجود نا جانے کیا وجہ ہے کہ جب دو دوستوں میں کسی سیاسی پارٹی کے حوالے سے اختلاف جنم لیتا ہے تو اکثر اوقات یہ رشتہ کچے دھاگے کی مثل ثابت ہوتا ہے۔ پتا نہیں کس طرح لوگ اپنے سیاسی رجحانات کی وجہ سے اپنی دوستی جیسی چمن حیات کی حقیقی بہار سے محرومی قبول کرلیتے ہیں۔

بہار دوستاں کے بغیر چمن حیات کی رونق
چہ معنی دارد

علی معراج عباسی
Latest posts by علی معراج عباسی (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments