انتخاب، عوام اور ریاست


پاکستان کی تاریخ کے متنازعہ ترین انتخابات کا انعقاد ہونے کو ہے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیاں بڑے بڑے جلسے کر چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر سب سے مقبول پارٹی اور اس کا لیڈر پارٹی، نشان اور حکمت کی تمام باتیں گنوائیں کے بعد اب اس امید پر جیل سے غرار رہا ہے کہ 8 فروری کو عوام تاریخی طور پر باہر نکل کر اس کو جیل سے نکال لیں گے مگر شاید وہ تاریخ سے نابلد ہے۔ اس کو معلوم ہی نہیں کہ اس ملک میں اشرافیہ کے نظام نے عوام کو بری طرح جکڑ رکھا ہے بانی چیئرمین نے شاید ہوم ورک کے بغیر ہی عوام سے امیدیں باندھ لیں ہیں۔

انہیں معلوم نہیں کہ ملک میں خواندگی کی شرح کیا ہے۔ غربت نے عوام کو کس نہج پر پہنچا دیا ہے۔ حلقہ کی اور قومی سیاست کے کیا رموز و اوقاف ہوتے ہیں صورتحال تو یہ ہے کہ پنجاب کے پسماندہ ترین علاقے مظفر گڑھ میں امریکہ کی گریجویٹ شکاگو سے پبلک پالیسی میں ڈگری کا ذکر ان سے کر رہی ہے جو سکول کالج سے محروم ابھی بھی ان سے ان کے دادا کے قصے سن رہے ہیں۔ ملک میں سیاست کی حالت تو یہ ہو چکی ہے کہ جنوبی پنجاب میں ملتان سے لے کر راجن پور تک وڈیروں، شوگر مافیا کے کرتا دھرتوں، جاگیر داروں، نوابوں اور سرمایہ داروں کے ڈیرے ہیں ملتان میں گیلانی خاندان، رحیم خان میں مخدوم زادوں اور شوگر لینڈ لارڈز نے قبضہ کیا ہوا ہے۔

ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں لغاریوں، کھوسوں، دریشکوں، مزاریوں اور گوچانیوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ سندھ میں بڑے بڑے زمیندار میدان میں ہیں اور بلوچستان میں جو جس پارٹی میں ایڈجسٹ ہوا اس نے اسی میں عافیت جانی۔ خیبر پختونخوا میں حالات اس سے قدرے مختلف تو ہیں مگر بہتر نہیں ہیں۔ ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت کا پورا خاندان انتخابی سیاست میں بر سر پیکار ہے۔ اگر تبدیلی کی جماعت کے امیدواروں کا موازنہ سٹیٹس کو کی جماعتوں سے کیا جائے تو بانی پارٹی نے جنوبی پنجاب میں وڈیروں پر ہی بھروسا کیا ہے قیوم جتوئی سے لے کر سلطان محبوب تک ان کا انتخاب بھی روایتی ہے۔

ایک امید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ باعث امر مجبوری اور غیر ارادی طور پر پاکستان تحریک انصاف نے وسطی پنجاب اور شمالی پنجاب سے نئے لوگوں کا انتخاب کیا ہے اگر یہ لوگ جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور اور منڈی میں فروخت نہ ہوئے تو غیر شعوری طور پر ایک تبدیلی بھی رونما ہو سکتی ہے جس کی خواہش بانی چیئرمین اور عوام کیا کرتے تھے۔ بلاول بھٹو اس تاریخی متنازعہ الیکشن میں سے مثبت پہلو تلاش کریں گے تو ہی اگلے انتخابات کے نتائج ان کے حق میں ہو سکتے ہیں۔

ان کو ایک نہایت تجربہ کار وزیراعظم سے سیکھنے کو ملے گا تجربہ کی اس بھٹی میں وہ کندن بن کر عوام کے لیے گوہر نایاب بھی بن سکتے ہیں اور دوسرا راستہ احتجاجی سیاست کا ہے جس کے نتائج ماضی سے مختلف نا ہوں گے ۔ پاکستان کو اگر میاں محمد نواز شریف اپنے تجربے سے بحرانوں سے نکالنے میں ناکام ہو گئے تو ان کی سیا ست میں کہنے کو کچھ نہ رہ جائے گا۔ اس اسمبلی میں تجربہ مقابلہ توانائی اور صلاحیت جو بھی جیتے فتح عوام کی ہونی چاہیے۔

مسلم لیگ نون کا دعوی ہے کہ وہ سادہ اکثریت حاصل کر لیں گے اس کے لیے انہیں فیصل آباد، راولپنڈی اور ڈیرہ غازی خان میں غیر معمولی کارکردگی دکھانا ہو گی اگر مسلم لیگ نون خیبرپختونخوا اور سندھ بلوچستان کو ملا کر 15 نشستیں بھی حاصل کر لیتی ہے تو حکومت سازی میں کامیاب ہو جائے گی۔ اس کے برعکس پیپلز پارٹی کی امیدوں کا مرکز سندھ ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اندورن سندھ تو کامیابی حاصل کر لیں گے مگر کراچی اور حیدر آباد میں انہیں مشکلات کا سامنا ہو گا اور اگر روایتی طور پر کراچی اور حیدر آٓباد سے ایم کیو ایم کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو یہ مسلم لیگ نون کے لیے کافی سود مند ثابت ہو گا۔

پیپلز پارٹی کی اگر یہ خواہش ہے کہ وہ پاکستان میں حکومت سازی کرے تو انہیں کراچی سمیت بلوچستان سے بھی نشستیں حاصل کرنا ہوں گی کیونکہ پنجاب سے انہیں ملتان، سرگودھا، لالہ موسیٰ اور رحیم خان سے ہی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ 2018 میں پاکستانی عوام کے لیے ہر مکتبہ فکر کی مذہبی سیاسی جماعتیں بھی موجود ہیں۔ 2018 کے انتخابات میں پنجاب میں 3 نمبر پر رہنے والی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار تو ملک بھر میں موجود ہیں مگر 2024 کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی کے امیدوار بھی میدان میں جیت لیے پر امید ہیں۔

سیاست کا اصل لٹمس پیپر خیبر پختونخوا ہو گا۔ بلوچستان سے روایتی سیاستدان کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے کامیاب ہو کر اسمبلی میں پہنچ جائیں گے۔ 2024 کے انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام کی سیاسی حالت بالکل 2008 والی عوامی نیشنل پارٹی جیسی ہو چکی ہے اگر کسی سیاسی جماعت کے سربراہ نے سب سے کم سیاسی جلسوں سے خطاب کیا ہے تو وہ مولانا فضل الرحمن ہیں۔ پاکستان کو اس وقت لامحدود چیلنجز کا سامنا ہے۔ بجلی گیس کی کم سمیت اس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور اس پر دی جانے والی سبسڈی اور مینوفیکچرنگ کا ختم ہو جانا، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زراعت پر منفی اثرات، سیلابوں سے اربوں روپے کا نقصان، درآٓمدات میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

سیاسی طور پر سب سے پہلے سیا سی استحکام ضروری ہے اس کے بعد معاشی ترقی کے ٹارگٹ رکھ کر محنت کی جائے اور مہنگائی کے ناسور سے عوام کو چھٹکارا دلایا جائے۔ سیاست دان ایک محاورے کا بہت زیادہ استعمال کیا کرتے ہیں کہ حکومت پھولوں کی سیج نہیں ہے۔ اگر پاکستان نے ترقی کی منازل طے کرنی ہیں تو پاکستانی جمہوریت کو مسلسل 50 سال چاہیے امید کرنی چاہیے کہ 8 فروری کو طلوع ہونے والا سورج 1972 کیا انتخابات سے بالکل مختلف ہو۔

پاکستان میں کوئی بھی جماعت یا ایک جماعت کے آٓزاد امیدوار کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ان کی قبولیت ہونی چاہیے اگر ریاست ایسا نہیں کرتی تو تقسیم سے بچنا ناممکن ہو جائے گا۔ ان انتخابات سے عوام کی امیدیں تو بہت کم ہیں اگر 2024 کے انتخابات شفاف نہ ہوئے تو اس نظام کے خلاف مزاحمت بھی ہو سکتی ہے ریاست کے تمام ادارے قوم کی آواز کو ووٹ میں تبدیل ہونے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں

Facebook Comments HS