جب پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی (حصہ دوم)
ناہید خان بیان کرتی ہیں جلسے گاہ سے روانہ ہوتے ہوئے بی بی نے مجھ سے کہا میاں نواز شریف کا فون ملاؤ تاکہ ان سے تعزیت کرسکیں، فون ملانے سے پہلے بی بی گاڑی کے اردگرد جمع عوام کے نعروں کا جواب دینے اور انہیں ہاتھ ہلانے کا فیصلہ کیا، گاڑی کے سن روف میں کھڑی ہو گئیں کچھ ہی دیر میں تین فائر اور ایک دھماکے کی آواز سنائی دی بینظیر سن روف سے اندر گر گئیں۔ یوں ایک اور بھٹو قتل ہو گیا اور راولپنڈی ایک اور سابق وزیر اعظم کا مقتل قرار پایا۔
اس دھماکے میں دو درجن سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ میاں نواز شریف واقع کی اطلاع ملنے پر ہسپتال پہنچے پیپلز پارٹی کے جیالے ان کے گلے لگ کر روتے رہے۔ آصف علی زرداری بچوں کے ہمراہ دبئی سے پاکستان واپس آئے اور بی بی کی تدفین کی۔ اس دلخراش واقعے کے بعد ملکی نازک حالات کے باعث انتخابات 8 جنوری سے 18 فروری تک ملتوی کر دئے گئے۔ 30 دسمبر کو دو مرتبہ کے ”مرد اول“ آصف علی زرداری نے ایک بلاول زرداری کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کی، جس میں بینظیر بھٹو کی ایک وصیت کے تحت بلاول کو ان کے سیاسی جانشین کے طور پر متعارف کروایا گیا تاہم کم عمری اور زیر تعلیم ہونے کے باعث عملی سیاست سے فی الوقت دور رکھا گیا اور آصف زرداری کو پارٹی کا شریک چیئرمین بنا دیا گیا۔ بلاول نے اس پریس کانفرنس میں اپنی والدہ کے ”جمہوریت بہترین انتقام ہے“ کے جملے کو دہرایا۔ اسی پریس کانفرنس میں الاعلان بلاول، بختاور اور آصفہ کے ناموں کے ساتھ لفظ بھٹو کی اضافت کردی گئی۔
بدامنی، دہشت گردی، بجلی کی لوڈشیڈنگ، سی این جی کے لیے گاڑیوں کی طویل قطاریں، مہنگائی، آئینی/عدالتی مسائل کی فضاء میں 18 فروری 2008 ء کو ملک بھر میں نویں عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔ صدر مشرف کو باوردی دس مرتبہ صدر منتخب کروانے کی دعوے دار مسلم لیگ اور چھ مذہبی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل بری طرح سے انتخابات میں شکست کھا گئیں، مسلم لیگ کے صدر ایک بار پھر شکست کھا گئے جو اس بار شجاعت حسین تھے، سابقہ حکومت میں کئی اہم وزارتوں پر فائز رہنے والے شیخ رشید، سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سپیکر چوہدری امیر حسین، عمر ایوب، زبیدہ جلال، دانیال عزیز، راؤ سکندر اقبال اپنی نشستوں پر ہار گئے۔
وہ سیاسی جماعتیں جنہیں گزشتہ آٹھ برس سے صدر مشرف نے سیاست سے باہر کر رکھا تھا عوام نے انہی پر اعتماد کیا۔ آنجہانی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی نے 89، مسلم لیگ نواز 68، مسلم لیگ (ق) 42، 30 آزاد، متحدہ قومی موومنٹ 19، عوامی نیشنل پارٹی 10، متحدہ مجلس عمل 6 اور دیگر پر چھوٹی جماعتیں کامیاب ہوئیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے مسلم لیگ نواز کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا عندیہ دیا۔ پنجاب میں مسلم لیگ نواز، سندھ میں پیپلز پارٹی، سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان میں مسلم لیگ ق نے اکثریت حاصل کی۔
انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی کو بے حد مسائل کا سامنا تھا جن میں سب سے اہم ان کی وزارت اعظمیٰ کی امیدوار محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والا سیاسی قیادت کا خلاء تھا، کسے پارٹی کا امیدوار بنائے جائے مختلف چہ مگوئیاں جاری تھیں، محترمہ کے قریب سمجھے جانے والے، ان پر حملے کے وقت گاڑی میں ساتھ موجود پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر مخدوم امین فہیم کے بارے میں عام تاثر تھا کہ وہی وزارت اعظمیٰ کے امیدوار ہوں گے مگر ان کے اور پارٹی کی دیگر قیادت بشمول پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے درمیان اعتماد کا فقدان تھا۔
مری اور اسلام آباد میں پیپلز پارٹی اور ممکنہ اتحادی جماعتوں کے درمیان مشاورت جاری تھی، مشاورت کے بعد پریس کانفرنس میں جب آصف زرداری سے مخدوم امین فہیم کی عدم شرکت سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا وہ مصروفیت کے باعث شریک نہیں ہوئے، جب یہی سوال امین فہیم سے کیا گیا تو ان کا کہنا تھا میں تو فقیر ہوں، بغیر اذاں نماز پڑھنے نہیں جاتا۔ ایسے میں سابقہ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے وزارت اعظمیٰ کے امیدوار ملتان کے شاہ رکن عالم دربار کے گدی نشین مخدوم شاہ محمود قریشی، سابق سپیکر قومی اسمبلی یوسف رضا گیلانی اور گجرات سے چوہدری شجاعت کو ہرانے والے سروس ٹائر /شوز کے مالک چوہدری احمد مختار کا نام گردش کرنے لگا۔ ایک تاثر یہ بھی موجود تھا کہ جو بھی وزیر اعظم بنے گا اسے چند ماہ بعد کرسی آصف زرداری کے لیے چھوڑنا ہوگی۔
ایک اور مسئلہ اتحادی حکومت میں اتحاد کا تھا، ممکنہ حکومت کی سب سے بڑی اتحادی مسلم لیگ نواز ججوں کی بحالی کا مطالبہ کر رہی تھی اور صدر مشرف کو صدر تسلیم کرنے سے انکاری تھی جبکہ پیپلز پارٹی ان دونوں باتوں پر فوری عمل سے گریز کر رہی تھی۔ 17 مارچ 2008 ء کو صدر مشرف نے قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس بلانے کے احکامات جاری کیے، اسمبلی کا پہلا اجلاس بلائے جانے سے قبل ہی آصف علی زرداری تمام مقدمات میں بری ہو گئے۔
17 مارچ کو 342 کے ایوان میں 329 نو منتخب اراکین اسمبلی نے حلف اٹھایا، پھر سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کا مرحلہ آیا، 19 مارچ کو سپیکر و ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوا جس میں پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کی سپیکر کے عہدے کا لیے امیدوار ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، ڈپٹی سپیکر کے لیے فیصل کریم کنڈی (جنہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان نے مولانا فضل الرحمٰن کو شکست دی تھی) جبکہ مسلم لیگ ق کے سردار اسرار ترین سپیکر کے لیے اور متحدہ قومی موومنٹ کی خوش بخت شجاعت ڈپٹی سپیکر کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ امیدوار تھیں۔
نتائج پہلے ہی واضح تھے، فہمیدہ مرزا 249 ووٹ لے کر سپیکر منتخب ہو گئیں انہیں پہلی خاتون سپیکر کا اعزاز بھی حاصل ہوا اور ان کے مخالف اسرار ترین 70 ووٹ حاصل کرسکے۔ اسی طرح فیصل کریم کنڈی 246 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے اور خوش بخت شجاعت 68 ووٹ حاصل کر پائیں۔ صوبہ سندھ سے سپیکر اور صوبہ سرحد سے ڈپٹی سپیکر منتخب ہونے کے بعد امین فہیم کے وزیر اعظم بننے کے امکانات تقریباً معدوم ہو گئے اور یہ تاثر عام ہو گیا کہ وزیر اعظم یقیناً پنجاب ہی سے ہو گا، اس وقت تک وزارت اعظمیٰ کی دوڑ ملتان کے دو سیاسی خاندانوں گیلانی یا قریشی تک محدود ہو چکی تھی۔
ابتداء میں کہا گیا کہ وزارت اعظمیٰ کے امیدوار کے نام کا اعلان پیپلز پارٹی کے نوعمر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بیرون ملک سے آ کر کریں گے مگر ایسا نہ ہوا اور شریک چیئرمین آصف زرداری کا بیان پارٹی ترجمان فرحت اللہ بابر نے میڈیا کے سامنے سنایا اور سید یوسف رضا گیلانی کو امیدوار نامزد کر دیا۔ مسلم لیگ ق، متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ فنکشنل، نیشنل پیپلز پارٹی، پیپلز پارٹی شیرپاؤ کی جانب سے متحدہ قومی موومنٹ کے ڈاکٹر فاروق ستار کو وزارت اعظمیٰ کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا تاہم ان کی جانب سے عین وقت پر کاغذات واپس لیے جانے اور یوسف رضا گیلانی کی حمایت کیے جانے کے بعد مسلم لیگ ق کے چوہدری پرویز الٰہی کو امیدوار نامزد کیا گیا۔ 24 مارچ 2008 ء کو وزیر اعظم کا انتخاب ہوا اور سید یوسف رضا گیلانی 264 (دو تہائی اکثریت سے بھی زیادہ ) ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہو گئے جبکہ ان کے مخالف چوہدری پرویز الٰہی 42 ووٹ حاصل کرسکے۔

