تاریخ کا گمشدہ ہیرو حر سپہ سالار شہید امین فقیر


جو قومیں اپنے شہیدوں کو یا ہیروز کو بھول جاتی ہیں وہ مٹ جایا کرتی ہیں لیکن زندہ قوموں کا شیوہ رہا ہے کہ وہ اپنے ہیروز کو کبھی نظر انداز نہیں کرتیں اور ان کو نہ صرف زندہ رکھتی ہیں بلکہ ان کے کارہائے نمایاں سے سیکھتی ہیں اور پھر قومی تقاضوں کے پیش نظر ان کے چھوڑے ہوئے ورثہ سے استفادہ کرتی ہیں مگر ہم وہ حرماں نصیب قوم ہیں جو قومی ہیروز کو ان کی زندگی میں تو بے توقیر کر دیتے ہیں اور ان کے جانے کے بعد بڑے تزک و احتشام سے ان کے یوم مناتے ہیں اور ان کی یاد میں منعقدہ تقریبات میں بھی اپنی تحریر و تقریر کو سب سے بہتر انداز اور اسلوب میں پیش کرتے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم بڑے لکھاری اور ممتاز دانشور ہیں کیونکہ انہیں اپنی قابلیت کی دھاک بٹھانا مقصود ہوتا ہے اور جس شخصیت کے بارے میں یہ تقریب انعقاد پذیر ہوتی ہے اس کو اپنی تحریر اور تقریر کے مقابلے میں ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔

میں یہاں سندھ کے بہادر سپوت امام انقلاب، بطل حریت، شہید سورہیہ بادشاہ کے سپاہی اور محسن ملت شاہ مردان شاہ (کنگ میکر) کے دل کے قریب شہید چیف خلیفہ اور حروں کے سپہ سالار شہید امین فقیر منگریو کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ بہادر سپوت، دلیر مجاہد اور سپہ سالار امین فقیر (شہید) کا جنم بھارت کے صوبہ راجھستان میں ہوا اور شہید کی سپہ سالاری میں 1965 ء کی جنگ میں راجھستان کے قلعہ کشن گڑھ پر پاکستانی پرچم سربلند کیا گیا تھا۔

1943 ء میں شہید سورہیہ بادشاہ کی شہادت کے ایک دہائی بعد یعنی 1952 ء میں پیر صاحب پگاڑا کی گدی بحال ہوئی محسن ملت شاہ مردان شاہ ثانی ساتویں پیر پگاڑا بنے۔ پیر پگاڑا شاہ مردان شاہ ثانی کے حکم کے تحت جماعت کو منظم کرنا، حروں کی جسمانی آزادی، پیر صاحبان کی حویلیاں، سید محمد راشد (روضہ دھنی) کے مقبرے کی از سر نو تعمیر اور بہت سارے دیگر کام جو پیر جو گوٹھ اور حر جماعت سے منسلک تھے ان کاموں کو سرانجام دینے میں شہید امین فقیر سر فہرست تھے۔ شہید امین فقیر نے 1965 ء اور 1971 ء کی جنگ میں حروں کے سپہ سالار کے طور پر اپنے ذمے داری سرانجام دی۔ وہ تاریخ 8 ستمبر 1965 ء کو جب شاہ مردان شاہ ثانی المعروف پیر پگاڑا کے حکم پر لاکھوں حر امر کوٹ میں جمع تھے اور فضا میں شاہ مردان شاہ ثانی المعروف پیر پگاڑا کے تاریخی الفاظ گونج رہے تھے۔

”میرے پیارے حر مجاہدو۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ آج اللہ تعالیٰ نے ہمیں جہاد کا موقع عطا فرمایا ہے۔ ایسے مواقع روز روز نہیں ملتے۔ آج بھی کفار اپنے لشکر اور اسلحہ کے غرور میں ہم پر حملہ آور ہوا ہے تاکہ ہم کو برباد اور ہمارے وطن کو تباہ کر سکے۔ اس لئے تم آگے بڑھو اور ملک ’اسلام اور قوم کو عزت و ناموس اور بقاء کے لئے مردانہ وار مقابلہ کرو۔ دیکھنا تمہارے قدم پیچھے نہ ہٹنے پائیں۔ دشمن پر بھرپور حملہ کرو اور فتح حاصل ہونے تک لڑتے رہو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اللہ تمہارا محافظ ہے۔ آمین۔“

یہ خطبہ بھی تاریخی تھا اور مخاطب بھی اور خطاب کرنے والے بھی اور مقام بھی۔ شاہ مردان شاہ المعروف پیر پگاڑا نے حروں کی جنگ میں سپہ سالاری کا کام مرد مجاہد امین فقیر کو سونپا گیا اور ذمے داری کو ایسے نبھایا کہ تاریخ میں امین فقیر کی بہادری کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ میرے دادا مرحوم غازی فقیر پٹان بھیو نے 2003 ء میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا، ”رن آف کچھ سے لئے کر رحیم یار خان تک متعدد چوکیاں پر امین فقیر شہید جا کر حروں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور حر مجاہدین کو ہمت دینے کے لئے کبھی ہیلی کاپٹر میں، کبھی گاڑی میں، کبھی پیدل چل کر آتے تھے، اچانک ایک بار گھوٹاڑو قلعہ کے قریب ہمارے گولیاں ختم ہو گئی تھی، جب امین فقیر کو اطلاع ملی وہ خود پیدل چل کر ہمارے لیے گولیاں لئے کر آئے تھے، وہ سپہ سالار کے ساتھ ساتھ پیر صاحب پگاڑا کا سچا سپاہی تھا۔“

اس شہر میں کتنے چہرے تھے، کچھ یاد رہے، کچھ بھول گئے،
اک شخص کتابوں جیسا تھا، وہ شخص زبانی یاد رہا۔

شہید امین فقیر حر مجاہدوں کے سپہ سالار کے ساتھ ساتھ ایک بہترین اور محبت کرنے والے انسان تھے وہ اپنے پڑوس کا خاص خیال رکھتے تھے، اور آج بھی ان کے صاحب زادے وہ کام سر انجام دے رہے ہیں۔ شہید امین فقیر منگریو کو آج بھی اقلیت کے لوگ خوب یاد کرتے ہیں۔ مرد مجاہد کی بہادری کا ذکر ہر گھر میں ہوتا ہے۔

1970 ء کے عام انتخابات کے آس پاس بھٹو صاحب پر سانگھڑ میں حملہ ہوا تھا لیکن بھٹو صاحب محفوظ رہے لیکن جام صادق علی بھٹو صاحب کو خوش کرنے کے لئے حروں سے انتقام لینا چاہتے تھے۔ حروں کے خلاف غیر قانونی کارروائیاں کی اور متعدد حروں کو گرفتار، شہید اور لاپتہ کر دیا گیا۔ سیشن کورٹ کے جج سید اویس مرتضی حروں کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے رہا تھا، لیکن جام صادق علی حروں سے انتقام لینے کے لیے بیتاب تھا لیکن جج سید اویس مرتضی صاحب رکاوٹ ڈال رہا تھا، جج صاحب کو چیمبر سے گرفتار کر کے لاکپ کر دیا گیا۔

بعد میں سندھ ہائی کورٹ کی مداخلت پر جج صاحب کو رہائی ملی اور ان کا وہاں سے تبادلہ کر دیا گیا۔ ان دنوں امین فقیر سینٹرل جیل سکھر میں قید تھے وہاں سانگھڑ میں جام صادق علی کے دیرینہ دوست اور پیپلز پارٹی رہنما علی بخش جونیجو یکم اکتوبر 1973 ء کو دن دیہاڑے بھرے بازار میں قتل ہو گئے، جام صادق علی کو حروں کے اس قتل میں ملوث ہونے کا شک تھا مگر قانونی طریقہ اختیار کرنے کی بجائے ان کے اشارے پر پولیس نے شاہ پور جا کر کے نواحی گاؤں میں چھاپہ مارکر کچھ حروں کو گرفتار کر لیا اور چار دن بعد ان میں سے 6 افراد کو شہر سے باہر لے جا کر گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔

اس سے اگلے روز سانگھڑ پولیس شہید امین فقیر کو جعلسازی سے بنائے گئے کاغذات پر سکھر سینٹرل جیل سے اپنی تحویل میں لے کر سانگھڑ آئی جہاں کہا جاتا ہے کہ تین چار دن تک ان کے پیپلز پارٹی رہنماؤں اور سرکاری افسروں کے ساتھ مذاکرات چلتے رہے اور مذاکرات کی ناکامی پر ان کو شہید کر کے ان کی جسد خاکی کسی نامعلوم مقام پر دفن کر دی گئی۔ انگریزوں کے بعد اگر کوئی دور حروں کے سیاہ ترین دور گزرا ہے وہ وہ پیپلز پارٹی کا تھا۔ لیکن آج بھی شہید کے بیٹے اپنی لوگوں اور اپنی عوام کے ساتھ شانا بشانہ کھڑے ہیں۔

2024 ء کے عام انتخابات کے لئے شہید کا لخت جگر فقیر غلام نبی منگریو صاحب اپنے تک امر کوٹ سے صوبائی سیٹ کے لئے الیکشن لڑا رہا ہے ابھی تک کے حالات کے مطابق شہید کا بیٹا عوام میں مقبول ہے لیکن پھر بھی ہمیں 8 فروری کا انتظار رہے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments