دے جا سخیا راہ خدا


ملک عزیز میں آج کل الیکشن کا دور دورہ ہے، سیاستدانوں اور عوام کی گہما گہمی عروج پہ ہے۔ جلسے جلوس منعقد ہو رہے ہیں، ہر پارٹی اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ کارنر میٹنگز کا غوغا ہے۔ پارٹی کے منشور کی تشریحات بتائی جا رہی ہیں۔ کہیں اپنی کارکردگی کا ذکر ہے تو کہیں مخالفین کے قصے بیان ہو رہے ہیں۔ کہیں نئے عہد و پیماں کیے جا رہے ہیں تو کہیں نئی منزلوں، نئی بلندیوں، نئے اہداف اور نئے خوابوں کی نوید سنائی جا رہی ہے۔ عوام بھی وقتی طور پر اپنی مستقل مشکلات بھلا کر اس ہنگامے میں اپنے مستقبل میں بہتری کی امید پہ مصروف ہیں۔ پرنٹ میڈیا ہو یا مین سٹریم میڈیا، سوشل میڈیا ہو یا پھر کوئی اور نجی میڈیا ہر طرف ایک ہی مانگ کا چرچا ہے، ووٹ مانگنے کا چرچا۔

عمومی طور پہ بھکاری لوگ بھیک مانگنے کے لئے اپنی کوئی نہ کوئی مجبوری یا معذوری بیان کرتے ہیں۔ اکثر نے کوئی ایکسرے یا ڈاکٹری نسخہ بھی بطور ثبوت پکڑ رکھا ہوتا ہے۔ کچھ نے تو باقاعدہ زبانی پمفلٹ رٹا ہوا ہوتا ہے کہ کیسے وہ ایک عظیم الشان منصوبے پہ ملک و قوم کی خاطر وہاں جان جوکھم والی محنت مزدوری کیا کرتے تھے، کیسے ان کو کثیر المنزلہ عمارت پہ کام کرنا پڑا، ان کی ڈیوٹی کون سی منزل پہ تھی اور کس ذمہ داری کے دوران ان کا پاؤں پھسلا اور کیسے ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ہل گئے اور کیونکر چوکنے (کولہے ) کی ہڈی کا غلط آپریشن ہو گیا۔ اب گھر میں کس کس عمر کے کون کون سے لوگ ان پہ انحصار کیے بیٹھے ہیں اور کس کس کی شادی کی ذمہ داری ابھی بھی ادا ہونا باقی ہے۔

بچپن میں ایک ایسے ہی بھکاری کو اپنے آبائی محلے میں دیکھا تھا۔ شاید اس نے ہمارے محلے کا پرمٹ لیا ہوا تھا کہ اس کے سوا کوئی اور بھیک مانگنے ادھر کا رخ نہیں کرتا تھا۔ سر پہ برسوں سے ان دھلے بالوں کا جوڑا، بے ترتیب سی گھنی داڑھی، ہاتھ کی انگلیاں مخلتف پتھروں سے مزین، پیوند لگے کپڑے جن کے بارے میں میرا غالب گمان تھا کہ ان کا اصل رنگ کوئی اور ہو گا لیکن وقت کی ریخت کے ساتھ کپڑوں کا رنگ بھی اس بھکاری کے رنگ کی طرح سیاہ ہو گیا تھا۔ قد لمبا تھا اور گلے میں ڈالا تھیلا بھی اتنا ہی لمبا ہوتا تھا۔ اپنے ہفتہ وار دورے میں وہ محلے کی نکڑ ہی سے آواز لگانا شروع کر دیتا تھا:

اللہ والیو، خیر پا دیو (اللہ کے بندو، کچھ خیرات دے دو)

سادہ دور تھا، لوگ دودھ کو اللہ کا نور اور گندم کے آٹے کو ہی خیر مانتے تھے۔ ہر کوئی حسب استطاعت اس کے لئے خیر (آٹا) لئے دروازے پہ آ جاتا اور وہ بخوشی اپنا تھیلا آگے کر کے آٹا اکٹھا کرتا رہتا۔ ہمارے گھر کے باہر لگا شہتوت کا درخت اس کے سستانے کی جگہ مقرر تھی۔ وہاں نہ صرف اس کے تھیلے میں آٹا ڈالا جاتا بلکہ اسے روٹی دینے کا بھی اہتمام ہوتا۔ وہ بیٹھتے ہی باآواز بلند کہہ دیتا کہ:

اکو ای روٹی پکائیو (بس ایک ہی روٹی پکانا)

ایک دن اس بھکاری کے دیون ہار سے پوچھا کہ جب سب اس کو آٹا دیتے ہیں تو ہم اس کے لئے آٹے کے ساتھ روٹی کا اضافی لوازمہ کیوں کرتے ہیں؟ تو بچے کی فہم کے مطابق سمجھایا گیا کہ اللہ کا رزق ہمیشہ بانٹ کے کھانا چاہیے۔ یہ عمل نا صرف اللہ کو بہت پسند ہے بلکہ اس کے قرب کا بھی ذریعہ ہے اور اللہ اس عمل کے بدلے مزید برکت عطا فرماتا ہے۔

وہ چھوٹی سی بتائی گئی بات آج دنیا کے بڑے کینوس پہ اسی تناظر میں اپنی پوری آب و تاب سے صرف موجود ہی نہیں بلکہ ایک سچی اور اٹل حقیقت کی شکل میں موجود ہے۔ اپنی ضرورت سے زائد دوسرے ضرورت مندوں میں بانٹ دینا یقیناً کارخیر ہے لیکن سخاوت کا اعلیٰ مرتبہ یہ ہے کہ اپنی ضرورت کو پس پشت ڈالتے ہوئے دوسروں کی مدد کو ترجیح دی جائے اور اس کے صلے کی امید فقط رب سے ہو تو اس کے نتیجے میں ملنی والی برکت اور انعام و اکرام کبھی بھی اس دنیا میں تھوڑ پنے (کسی کمی) کا احساس نہیں ہونے دیں گی۔ تمام ضروریات کے اسباب اللہ کریم اپنی شان رحیمی سے عطا فرماتے جائیں گے۔

شکم سیر ہونے پہ تو شیر بھی بچا ہوا دوسروں کے لئے چھوڑ دیتا ہے، کھانے سے پہلے تقسیم کرنا اور اپنے دستر خوان پہ دوسروں کو شامل کرنا ہی ہمیں اشرف المخلوقات بناتا ہے۔ ہمارے اسلاف کی سیرت میں ایسے کئی واقعات مل جائیں گے۔ پانی اس دنیا میں حقیقت کا مظہر ہے۔ بادل بھی جب بوجھ اٹھانے سے قاصر ہو جائیں تو برس پڑتے ہیں۔ ان سے برسا پانی نشیب کے علاقوں کو بھرنے کے بعد فراز کے علاقوں کو سیراب کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ڈیم پہ بنی سر ریز (سپل وے ) اس کی کیسی ہی عمدہ مثال ہے۔ بانٹیے، دیجیے، اللہ کریم وسعتیں عطا فرمائے گا۔ دانائے راز کہہ گئے کہ تقسیم کریں گے تو آباد رہیں گے، تقسیم ہوں گے تو برباد ہو جائیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments