جنسی تسکین کے لیے دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے والے ٹھرکی


عدت میں شدت، زنا بالجبر، دوران عدت حرام زدگی اور عدت کے دوران منہ کالا کرنے ایسی گند زبانی پر مبنی اصطلاحات سے سوشل میڈیا اور ٹویٹر بھرا پڑا ہے۔

ایک فیصلہ کیا آیا کہ سارے گٹر ایک ساتھ ہی ابل پڑے، ہر کوئی اپنی بساط یا استطاعت کے حساب سے اس مکروہ اور نجس پروپیگنڈے میں اپنا اپنا حصہ ڈالنے میں مصروف ہے۔

ہمارا سماج داروغوں پر مشتمل ہے، جہاں ایک نارمل اور باشعور انسان یا تو فرشتہ بن کے زندگی بسر کر سکتا ہے یا پھر شیطان۔ تیسرا آپشن یہاں دستیاب ہی نہیں ہے اور ہمارے معاشرتی داروغے ہر وقت ہاتھ میں لٹھ لیے دوسروں کے بیڈ روم میں گھسنے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔

ان کی مومنانہ اور پاکیزہ نگاہیں دن رات اس قسم کے پاپی ڈھونڈنے میں مگن رہتی ہیں
کہیں کوئی زنا بالجبر یا دوران عدت حرام زدگی تو نہیں کر رہا۔
کہیں دو بالغ ایک دوسرے سے جنسی تسکین حاصل تو نہیں کر رہے۔
یا کسی جگہ شراب نوشی یا مجرا تو نہیں ہو رہا۔
کوئی خاتون رات کے اندھیرے میں کدھر منہ اٹھائے چلی جا رہی ہے ضرور اس کا باہر کوئی چکر ہو گا۔
جو لڑکیاں کالج یا اسکول پڑھنے جاتی ہیں ان کے بوائے فرینڈ ہوتے ہیں جو ان کے ساتھ سیکس کرتے ہیں۔

مطلب 21 ویں صدی میں ہمارا کردار بس اتنا سا رہ گیا ہے کہ ہم دوسروں کے کردار کا عمیق بنیادوں پر جائزہ لیں کہ کہیں وہ آپس میں یا مخالف جنس کے ساتھ غیر قانونی طور پر ”ڈنگ ڈانگ“ تو نہیں کر رہے؟

ہماری ترجیحات بتاتی ہیں کہ ہم آج کے منظر نامے پر کہاں کھڑے ہیں اور ہماری ذہنی سطح کا معیار کیا ہے؟

انفرادیت، نجی زندگی، پرائیویسی اور مذہب جیسے عناصر کو مہذب دنیا میں انسانی حقوق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور ان دائرہ کار میں گھسنے کو بد اخلاقی اور مداخلت تصور کیا جاتا ہے۔ انسانوں کے انتہائی نجی معاملات بارے ہمارا معاشرہ ابھی ناپختہ بلکہ ناخواندہ ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ اس کے متعلق ہمارا شعور یا فہم ابھی عہد طفولیت میں ہے۔

ہمارے ہاں ابھی بہت کچھ شجر ممنوعہ کی زمرے میں آتا ہے۔ انسانوں سے جڑے لا تعداد مسائل یا معاملات کو حقیقی بنیادوں پر سمجھنے یا جاننے کے لیے اس معاشرے کو ابھی خاصا وقت درکار ہے اور اس سطح کا شعور پنپنے میں ایک طویل مدت درکار ہے کہ سیکس دو انسانوں کے بیچ کا معاملہ ہوتا ہے اور زندگی کا یہ دورانیہ انتہائی نجی ہوتا ہے۔

اپنی زندگی میں یا اپنے گھر کی چار دیواری میں کوئی کیا کرتا ہے اس سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ہاں اگر کسی کے عمل یا رویے سے دوسرے انسانوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا ان کے بنیادی حقوق سلب ہوتے ہیں تو یہ چیز نقص عامہ کے دائرہ کار میں آتی ہے۔

گھٹن زدہ سماج میں انسانی رویے بھی انتہائی تعفن زدہ ہو جاتے ہیں اور جنسی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔

اس قسم کے بدبودار معاشرے میں بہت سے ایسے مکروہ کردار پیدا ہو جاتے ہیں جو معاشرے میں غلاظت پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔

اسی قسم کی غلاظت سے بھرپور مہم ایک ”زیر عتاب“ شخص کے متعلق چل رہی ہے اور اس کے ساتھ نجانے کیا کچھ منسوب کیا جا رہا ہے۔

اقتدار سے رخصتی کے بعد پرائیویٹ آڈیو ویڈیوز کا سلسلہ شروع ہوا، سیکشوئل ٹوائز کی کہانیاں کھلیں، ناجائز تعلقات کی کہانیاں زبان زد عام ہوئیں۔ ایک سابقہ پارٹنر نے تو موصوف کی کم و بیش نجی و جنسی زندگی پر ایک کتاب ہی لکھ ڈالی اور اب موجودہ لائف پارٹنر کے متعلق نجانے کیا کیا قصہ خوانیاں ہو رہی ہیں۔

اب دو بالغ اور باشعور انسان باہمی رضامندی سے جیسے بھی اور جس حالت میں بھی ایک ساتھ رہنا چاہیں کسی کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟

اپنے گھر کی چار دیواری میں کوئی کیسے بھی جینا چاہے اس سے ایک عام بندے کی زندگی پر کیا فرق پڑتا ہے؟

اپنی نجی زندگی میں کوئی گے ہے یا لسبین یا کوئی بھی جنسی رجحان رکھتا ہے اس سے دوسروں کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے؟

کوئی پلے بوائے ہے یا ڈھیلے ڈھالے کردار کا مالک اگر وہ اپنے تئیں ہے تو ہمیں داروغہ بننے کی کیا ضرورت ہے؟

ہاں معاملات وہاں بگڑتے ہیں جب ریاست اور عوام کسی کو مسیحا، اوتار یا صادق و امین پینٹ کرنے لگتے ہیں اور تعریف و تعظیم کے پہاڑ کھڑے کر کے ایک عام سے بندے کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں کہ وہ ایک دن واقعی خود کو اوتار یا کامل و اکمل سمجھنے لگتا ہے اور کہلوانا پسند بھی کرنے لگتا ہے۔

زیر عتاب شخص کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ماجرا ہوا ہے، پوری ریاستی مشینری کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک مسیحا تراشا گیا اور اسے آسکر وائلڈ کے مشہور علامتی کردار ”دی ہیپی پرنس“ کے سانچے میں ڈھال کر ریاست مدینہ کے ایک اہم ستون کی حیثیت سے دنیا بھر میں ایک رجسٹرڈ صادق و امین کے کامل نمونے کے طور پر متعارف کروایا گیا۔

مطلوبہ ٹارگٹ حاصل نا ہونے پر اس کے پاؤں کے نیچے سے اقتدار کھینچ لیا گیا اور اس کے ”سرابی و خیالی“ مجسمے کو بیچ چوراہے بے آ سرا چھوڑ دیا گیا۔

جسے اب سب نوچنے میں لگے ہیں تاکہ جلد از جلد حقیقی صورت واضح ہو سکے اور ہماری بے چینی ختم ہو۔

اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا کوئی اس قوم سے بھی پوچھ لے جنہیں شروع دن سے بے وقوف بنایا جا رہا ہے اور وہ ایک بار پھر حق رائے دہی کے نام پر آٹھ فروری کو دوبارہ سے بے وقوف بننے جا رہے ہیں۔

کیا اس قوم کے مقدر میں صرف بے وقوف بننا ہی رہ گیا ہے؟
ان کے دن کب پھریں گے اور خوشحالی کب ان کے در پر دستک دے گی؟

اس عوام کو کسی صادق و امین، امیر المومنین، مرد مومن مرد حق یا امہ کے لیڈر کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انہیں اپنے حقیقی نمائندے کی ضرورت ہے جو انہی میں سے ہو اور انہی کی طرح سے سوچتا ہو اور ایک نارمل رہنما کی طرح اپنی سیاسی بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے سسکتی عوام کے دکھوں کا مداوا کرے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments