شادی کے بعد خوب روپ آیا


یہ ان دنوں کی بات ہے میری پوسٹنگ بورے والا میں تھی۔ جبکہ رہائش بورے والا سے تقریباً بیس کلومیٹر کے فاصلے پر گاؤں میں تھی۔ اور میں ہر جمعرات کو اپنے عجوبہ روزگار موٹر سائیکل پر شہر سے گاؤں اور پھر ہفتے کر واپس گاؤں سے شہر آیا کرتا تھا۔ اس موٹر سائیکل کی اپنی ایک تاریخی حیثیت تھی۔ غالباً سوزوکی موٹر سائیکل بنانے والوں کی ابتدائی کوششوں میں سے ایک کوشش یہ بھی تھی۔ ماڈل وغیرہ کا اس لیے بھی کچھ پتہ نہیں تھا کہ اس میں تیس سالہ پرانے پارٹس کے ساتھ ساتھ عصر حاضر میں بنائے گئے پارٹس بھی اپنی پوری چکا چوند کے ساتھ موجود تھے۔

اس نابغہ روزگار موٹر سائیکل کے حصول کی کہانی کچھ یوں ہے کہ جب ہماری پوسٹنگ اپنے گاؤں کے قریبی مڈل سکول میں بطور ہیڈ ماسٹر ہوئی تو اس عہدے کا بھرم رکھنے کے لیے ایک عدد موٹر سائیکل کی ضرورت محسوس ہوئی۔ دولت کی لکیر خدا کے فضل و کرم سے شروع سے ہی ہاتھ سے غائب ہی رہی۔ اب سوال یہ تھا کہ بغیر پیسوں کے یہ جنس نایاب حاصل ہو تو کیسے ہو۔ اس قسم کے چھوٹے موٹے مسائل کا حل صادق صاحب کے پاس ہمیشہ موجود رہتا۔ موضع مراد علی میں ان کے ایک دوست اسلام شاہ کے پاس موٹر سائیکل موجود تھا۔

جو مرمت کے لیے ورکشاپ میں کھڑا تھا نہ شاہ صاحب کو توفیق ہوئی اور نہ ہی اس کی مرمت ہوئی۔ بہرحال سودا اس موٹر سائیکل کا شاہ صاحب سے ان شرائط پر طے ہوا کہ فی الحال اس کو مرمت کروا کر استعمال میں لے آیا جائے۔ اس کی قیمت کا یقین بعد میں کر لیا جائے گا۔ اس طرح یہ موٹر سائیکل جو یقیناً سوزوکی موٹرز کی ابتدائی کاوشوں میں سے ایک کاوش تھی۔ ہمارے حصے میں آ گئی۔ تقریباً چار پانچ سال یہ موٹر سائیکل ہمارے پاس رہی۔

بڑی وفادار اور نسلی قسم کی موٹر سائیکل تھی۔ کبھی کبھار چین اترنے کے علاوہ کوئی بڑا شرعی عیب اس میں موجود نہ تھا اور وہ بھی اب ہم خود ہی چڑھا لیا کرتے تھے۔ ڈیڑھ دو سال بعد اسلام شاہ کو پیسوں کی ضرورت پڑی تو اس نے صادق صاحب سے موٹر سائیکل مذکورہ کی قیمت کی ادائیگی کا تقاضا کیا جو ابھی تک طے نہیں کی گئی تھی۔ گھر میں موجود مویشیوں میں ایک کٹا بیچنے کے لیے تیار تھا۔ صادق صاحب نے اس کا رسا کھول کر اسلام شاہ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا۔

بس یہی موٹر سائیکل کی قیمت ہے۔ اسے بیچ کر وصول کر لو۔ ہاں اگر تم نہ بیچنا چاہو تو پھر بھی کوئی بات نہیں۔ تم اس کی سواری بھی کر سکتے ہو اور موٹر سائیکل کے برعکس اسے پیٹرول اور مکینک کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ بہرحال وہ بھلا آدمی اس پر بھی رضامند تھا۔ یہ تمہید کچھ طویل ہو گئی۔ بہرحال اب ہم اصل قصے کی طرف رخ کرتے ہیں۔

ایک دن ہم سکول سے فارغ ہوئے۔ بازار سے کچھ سبزی اور پھل وغیرہ خرید کر موٹر سائیکل کے ہینڈل کے ساتھ شاپنگ بیگ میں لٹکا لیے اور گاؤں کو چل دیے۔ ابھی ہم شہر میں ہی خراماں خراماں جا رہے تھے کہ پیچھے سے آواز آئی۔ خالد صاحب سیب۔ ہم سمجھے کہ کسی شخص نے ہمیں سیب سے تشبیہ دی ہے کیونکہ موسم میں کچھ حدت تھی اور ہمیں زعم تھا کہ دھوپ میں ہماری رنگت سیب کی طرح سرخ ہو جاتی ہے۔ ابھی اسی شش و پنج میں آگے جا رہے تھے کہ سامنے سے پیدل آنے والے شخص نے ہماری طرف ہاتھ کر کے عجیب سا اشارہ کیا۔

جسے سمجھنے سے ہم قاصر رہے اور ساتھ ہی اس نے ہمیں کچھ بتانے کی بھی کوشش کی لیکن اس کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میں سے سیب کے ایک لفظ کے علاوہ اور کچھ بھی ہمارے پلے نہ پڑا۔ اسی ادھیڑ بن میں آگے بڑھتے جا رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ آج اچانک ہی چہرے کی رنگت سیب جیسی کیونکر ہو گئی ہے کہ ہر کس و ناکس ہمیں یہی بات باور کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہم سوچ رہے تھے کہ شاید یہ نئی نئی شادی کا کمال ہے۔ بوڑھی عورتیں عموماً کہا کرتیں کہ فلاں پر شادی کا روپ چڑھا ہے اور خوب چڑھا ہے۔

اس خیال کے آتے ہی موٹر سائیکل پر اور بھی اکڑ کر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دور آگے بڑھے تو دو سٹوڈنٹس ٹائپ لڑکوں کو اوور ٹیک کیا جو سائیکلوں پر جا رہے تھے۔ ان کے پاس سے گزرا تو ان کی ہنسی اور کچھ اشاروں کنایوں کے ساتھ سیب کا لفظ پھر کان میں پڑا۔ اب دل میں گرہ سی پڑ رہی تھی کہ معاملہ کیا ہے۔ لیکن دل کو پہلے سے موجود قیاس سے تسلی دی۔ جب ہم فارم نمبر 2 پہنچے تو سامنے سے ہمارے ایک واقف کار نے تیزی سے موٹر سائیکل پر ہمیں کراس کیا۔

جب وہ ہمارے پاس سے گزرے تو ان کی اونچی آواز سنائی دی۔ خالد صاحب سیب۔ یا الہٰی یہ ماجرا کیا ہے۔ آج ہر آدمی ہمیں سیب سے ہی تشبیہ کیوں دے رہا ہے۔ چہرے پر ہاتھ پھیر کر اور پھر موٹر سائیکل کے ساتھ لگے ہوئے آئینے میں دیکھ کر یقین کیا کہ ہنوز چہرہ ہی ہے سیب میں تبدیل نہیں ہوا۔ اسی شش و پنج میں ہمارا گاؤں قریب آ گیا۔ یہاں جب میں موٹر سائیکل سے اتر کر ایک نالہ عبور کرنے لگا تو سامنے غلام نبی کھڑا نظر آیا۔

جو کسی کندھے پر رکھے اپنی فصلوں کو پانی دے رہا تھا۔ اس نے ہنستے ہوئے میری طرف اشارہ کر کے کہا کہ خالد صاحب سیب۔ اب تو میرا صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کے بعد باہر کو اچھل رہا تھا۔ میں نے انتہائی غصے میں دریافت کیا۔ کیا ہے تمہیں؟ وہ انتہائی عاجزی سے بولا۔ حضور مجھے تو کچھ نہیں ہے لیکن آپ کو یقیناً کچھ ہے کہ آپ اپنے سارے سیب راستے میں گرا آئے ہیں۔ صرف ایک ہی باقی بچا ہے جو شاپر کے دوسرے کونے میں کہیں اٹکا ہوا ہونے کی وجہ سے شاپر میں موجود ہے۔

اب اس ایک سیب کو گھر لے جا کر ایک تو آپ گھر والوں کو اس واحد سیب کے حصول کے لیے آپس میں لڑائی جھگڑے کا موقع فراہم کریں گے اور دوسرے جب آپ اس کہانی کو سنائیں گے تو سب گھر والے آپ کا خوب مذاق اڑائیں گے۔ ٹیوب ویل چل رہا ہے اس کے حوض کی دیوار پر بیٹھ کر پاؤں پانی میں ڈال کر مسلسل ہلاتے ہوئے اسے تازہ پانی سے دھو کر کھا لیں اور اس کا قصہ تمام کریں اور ہم نے حسب ہدایت ایسا ہی کیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments