تحریک انصاف کی اکثریت کا احترام کیا جائے


گزشتہ رات ابتدائی انتخابی نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار بڑی اکثریت میں جیت رہے تھے۔ تحریک انصاف کے لیڈر بیرسٹر گوہر علی نے اعلان بھی کر دیا کہ قومی اسمبلی کی 150 قومی نشستوں پر کامیابی کے بعد مرکز کے علاوہ تحریک انصاف، پنجاب اور کے پی کے میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ اس کے بعد نتائج آنا بند ہو گئے اور رات طویل ہو گئی۔ کیا یہ ملکی تاریخ میں ایک نئی شب ظلمت تھی؟

الیکشن کمیشن اپنے ہی اعلان کے مطابق رات ایک بجے تک انتخابات کا اعلان نہیں کر سکا تھا۔ جمعہ کو رات گئے تک قومی اسمبلی کی دو تہائی نشستوں کے نتائج ہی سامنے آئے تھے۔ اس دوران میں نتائج سامنے آنے کی رفتار کم اور افواہوں، قیاس آرائیوں اور الزام تراشیوں کی شدت زیادہ تھی۔ جوں جوں وقت گزرتا رہا سوشل میڈیا تبصروں و آرا کے ذریعے اس قیاس کو تقویت ملنے لگی کہ درحقیقت تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوچکے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کو عبرت ناک شکست ہوئی ہے لیکن اب ’جادوئی طریقے‘ سے تحریک انصاف کو ہرانے اور مسلم لیگ (ن) کو جتوانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ابھی تک انتخابات کے جو نتائج موصول ہوئے ہیں، ان کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ قیاس آرائیاں کسی حد تک بے بنیاد ہیں لیکن الیکشن کمیشن کی نا اہلی اور بدانتظامی نے ایک نسبتاً شفاف انتخابات کو بھی داغدار اور مشکوک بنا دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے انتخابی نتائج کے حتمی اعلان کا وقت گزرنے کے بعد رات دو بجے ایک اعلامیہ میں تمام ریٹرننگ افسروں کو نصف گھنٹے میں نتائج کا اعلان کرنے کا حکم دیا تاہم نتائج کی رفتار سے دیکھا جاسکتا ہے کہ اس ہدایت پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ الیکشن کمیشن کو اس سنگین بدانتظامی کی ذمہ داری قبول کرنا پڑے گی۔ تحریک انصاف کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن پر طویل عرصہ سے جانبداری کا الزام لگایا جا رہا تھا۔ پارٹی سے انتخابی نشان واپس لینے کے فیصلہ کے بعد سے ان الزامات میں شدت آ گئی تھی۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کو ریاستی اداروں کی طرف سے بھی ہراسانی کا سامنا تھا۔ الیکشن کمیشن نگران حکومتوں کو اس بات کا پابند نہیں کر سکا کہ وہ تحریک انصاف کے امیدواروں کو پریشان یا گرفتار کرنے کا سلسلہ بند کریں اور نہ ہی یہ یقینی بنایا گیا کہ تحریک انصاف کو بھی انتخابی مہم چلانے اور ووٹروں تک اپنا موقف پہنچانے کا مساوی موقع فراہم کیا جائے۔ حتی کہ تحریک انصاف نے اس سلسلہ میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا اور سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ تحریک انصاف کے ساتھ کسی ناجائز طریقے کی اجازت نہ دے اور اسے انتخابات میں حصہ لینے کا مساوی موقع ملنا چاہیے۔ الیکشن کمیشن بوجوہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

اس پس منظر میں پولنگ بند ہونے کے بعد سامنے آنے والی تاخیر اور نتائج کے اعلان میں سستی اگر فطری انتظامی نقائص، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی اور عملے کی کوتاہی کی وجہ سے بھی رونما ہوئی، پھر بھی اس الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد ہو گا اور یہی تاثر قوی ہو گا کہ الیکشن کمیشن نے ایک خاص پارٹی کو جتوانے کے لئے سست رو ہتھکنڈے اختیار کیے تاکہ نتائج میں گڑ بڑ کی جا سکے۔ یہ موضوع ہمیشہ اختلافی رہا ہے کہ ایک دفع پولنگ مکمل ہو جانے کے بعد نتائج کیسے اور کیوں کر تبدیل ہوسکتے ہیں۔ لیکن 2018 کے انتخابات میں تاخیر کے سبب اسی قسم کے شبہات سامنے آئے تھے اور اپوزیشن پارٹیاں مسلسل عمران خان کو ’نامزد‘ وزیر اعظم قرار دے کر انتخابی دھاندلی کا الزام عائد کرتی رہی تھیں۔ اگرچہ ان کا یہ ہتھکنڈا، اس وقت از خود ناکام ہو گیا جب اپریل 2022 میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے بعد انتخابات کا اعلان کرنے کی بجائے، شہباز شریف کی قیادت میں اسی اسمبلی کی نمائندہ حیثیت کی بنیاد پر مخلوط حکومت قائم کرلی گئی۔

اس تجربہ کے بعد الیکشن کمیشن کو 2024 کے انتخابات کے حوالے سے خاص طور سے چوکس رہنے کی ضرورت تھی۔ لیکن دیکھا جا رہا ہے کہ نتائج کے اعلان کا ایک کے بعد دوسرا وقت دیا جاتا رہا لیکن جمعہ کو رات گئے تک حتمی نتائج سامنے نہیں آئے۔ اس دوران میں یہ افواہیں مسلسل گردش میں رہی ہیں کہ متعدد نشستوں پر تحریک انصاف کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو جتوانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاکہ یہ پارٹی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آ سکے۔ اس تاثر یا غلط فہمی کی پوری ذمہ داری الیکشن کمیشن کو قبول کرنی چاہیے اور مان لینا چاہیے کہ نتائج میں تاخیر اس کی کوتاہی، بدانتظامی اور ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ اس حوالے سے خاص طور پر یہ حقیقت قابل غور رہنی چاہیے کہ شروع میں معمول کے مطابق حلقوں سے نتائج آرہے تھے۔ لیکن جوں ہی ابتدائی نتائج میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی کامیابی کی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں، انتخابی نتائج کا سلسلہ بند ہو گیا۔ اس کے بعد صرف افواہوں یا خاموشی کا راج تھا۔ اس صورت حال پر تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے احتجاج کیا لیکن مسلم لیگ (ن) مہر بلب رہی۔ اس رویہ نے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کے الزامات کو شدت دی۔

اصولی طور سے یہ مانا جاسکتا ہے کہ پانچ چھے لاکھ ووٹروں والے حلقے میں چند ہزار ووٹوں کی بنیاد پر کسی کی کامیابی یا ناکامی کا قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اگر اس قسم کے اندازوں کی روک تھام کے لیے نتائج کا جزوی اعلان بند کیا گیا تھا تو حتمی نتائج مقررہ وقت پر سامنے آنے چاہئیں تھے تاکہ کسی قسم کی کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہوتی لیکن الیکشن کمیشن اس مقصد میں بھی بری طرح ناکام ہوا۔ اور نہ ہی اس بات کی وضاحت کی گئی کہ ابتدا میں نتائج عام کرنے کا فیصلہ، فوری بعد ہی کیوں تبدیل کیا گیا۔ حتمی نتائج میں تاخیر کے حوالے سے گو کہ انٹرنیٹ کی بندش کا عذر سامنے آیا ہے لیکن چیف الیکشن کمشنر سے جب انٹر نیٹ بندش پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ اس سے انتخابی نتائج جمع کر کے ان کا اعلان کرنے کا انتظام متاثر نہیں ہو گا۔ اب اس بندش کو عذر بنا کر درحقیقت الیکشن کمیشن خود اپنی شفافیت کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کا موجب بنا ہے۔

رات گئے تک جو نتائج سامنے آئے ہیں، ان کے مطابق تحریک انصاف قومی اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آ رہی تھی۔ اس حساب سے اسے ہی پنجاب میں بھی قابل ذکر اکثریت بھی حاصل ہونی چاہیے لیکن نواز شریف نے جمعہ کی شام کو انتخابی ’کامیابی‘ کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے اور پنجاب میں بھی اسے اکثریت حاصل ہے۔ یہ اعلان مضحکہ خیز حد تک ناقابل فہم ہے۔ قومی اسمبلی کی 224 نشستوں پر سامنے آنے والے نتائج کے مطابق کامیاب ہونے والوں میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کی تعداد 91 تھی جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 64 امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ انتخابی نتائج کی اس تصویر میں نواز شریف کس منہ سے اپنی کامیابی کا اعلان کر رہے ہیں؟

تحریک انصاف نے شدید پابندیوں، اپنی قیادت کی حراست اور کسی انتخابی نشان کے بغیر ان انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ اس کے باوجود اسے بڑی اکثریت حاصل ہوئی ہے اور قومی اسمبلی میں اس کی نمائندگی آسانی سے ایک سو ارکان سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے سب آزاد ارکان اگر ایک دو روز میں اپنی پارٹی میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان کر دیتے ہیں تو پارٹی کو قومی اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے اکثریت مل سکتی ہے یا وہ کسی چھوٹی پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتی ہے۔ البتہ اس کے ساتھ ہی یہ اعلانات و دعوے بھی سامنے آنے لگے ہیں کہ منتخب ہونے والے سب آزاد ارکان کا تعلق تحریک انصاف سے نہیں ہے۔ گویا یہ اشارہ دیا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کے ووٹر کی حمایت سے کامیاب ہونے والے آزاد ارکان اپنے سیاسی فائدے کے لیے کسی پسندیدہ پارٹی کی طرف بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ اس قسم کی کوئی بھی کوشش پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ بھونڈا مذاق ہو گا۔ اس طریقے سے ملکی سیاسی ماحول کی تلخی میں اضافہ ہو گا اور مستقبل قریب میں قائم ہونے والی حکومت کا رہا سہا اعتبار بھی ختم ہو جائے گا۔ وسیع تر قومی مفاد میں ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے گریز کرنا ضروری ہے۔ لیکن اگر اقتدار کی ہوس، جمہوریت اور قومی مفاد پر حاوی رہی تو آئندہ چند دنوں میں سیاسی منظر نامہ بگاڑنے کی متعدد کوششیں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔

نواز شریف نے سب سے بڑی پارٹی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے سب کو ساتھ لے کر چلنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اسی تقریر میں انہوں نے شہباز شریف اور اسحاق ڈار کو دوسری پارٹیوں سے رابطہ کا جو ٹاسک دیا ہے، اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تحریک انصاف کو نیوٹرل کرنے کے لیے پیپلز پارٹی اور دیگر پارٹیوں کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حالانکہ جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایک پارٹی کی مضبوط حکومت چاہتے ہیں، مخلوط حکومت کی بات نہ کی جائے۔ اس کے علاوہ عملی طور سے مسلم لیگ (ن) کی بجائے اس وقت تحریک انصاف سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اسے اپنے طور پر حکومت سازی کے لیے ضروری اکثریت حاصل ہو سکے گی یا نہیں لیکن سب سے بڑی پارٹی کے طور پر پی ٹی آئی ہی کو حکومت سازی کی کوشش کرنے کا پہلا حق ملنا چاہیے۔ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کو فراخدلی سے اس کے اس حق کو تسلیم بھی کرنا چاہیے۔

جیسا کہ متعدد حلقوں کی جانب سے اشارہ بھی کیا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی مل کر حکومت بنا سکتی ہیں۔ مسلم لیگ کو اس عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی بجائے خود اپوزیشن میں بیٹھ کر ملکی استحکام اور ترقی میں پارلیمانی کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس طرح نواز شریف یہ واضح کرسکیں گے کہ ان کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ ملکی مفاد کی حفاظت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک بڑی پارٹی اور منجھے ہوئے سیاست دان کی طرف سے یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ پارلیمانی نظام میں اپوزیشن پارٹی کا کردار بھی اہم ہوتا ہے۔

انتخابات 2024 کے نتائج میں کسی ایک پارٹی کو واضح اکثریت نہیں مل سکی۔ یہ ملکی معیشت اور ایک مضبوط حکومت کے قیام کے لیے بری خبر ہے۔ البتہ اگر سب سیاسی پارٹیاں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اب بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے اپنے پارلیمانی جثہ کے مطابق کردار ادا کرنے کا قصد کیا جائے تو ملک میں جمہوریت کا پہیہ گھومنا شروع ہو سکتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2718 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments