انتخابات کے بعد حلقہ این اے 166 اور حلقہ پی پی 250 کا سیاسی منظر نامہ

8 فروری کو پاکستان پارلیمانی سیاست کے نئے عہد میں داخل ہوا، تمام تر خدشات کے باوجود ملکی تاریخ کے 12 ویں عام انتخابات منعقد ہو گئے اور جمہوریت نے ایک اور منزل طے کر لی۔ 16 ویں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی تشکیل کے لیے 855 حلقوں پر 12 کروڑ 79 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز نے اپنا کردار تاریخی امنگوں کے مطابق ادا کیا۔ یہ بڑی فتح ہے ورنہ فلک کج رفتار نے انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے کیا کیا سیاسی فتنے اور کون کون سے انتخابی افسانے نہیں تراشے تھے۔ ملکی تاریخ کے یہ اہم ترین اور ”گرانقدر“ انتخابات آخری وقت تک غیر یقینی صورت حال کا شکار رہے۔
8 فروری کے عام انتخابات کے دوران قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 166 (بہاول پورiii) میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سید سمیع الحسن گیلانی اور صوبائی حلقہ پی پی 250 (بہاول پور vi) میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے امیدوار سید عامر علی شاہ کی فقیدالمثال کامیابی نے تمام اندازوں اور سیاسی صورت حال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔
2023 ء کی مردم شماری کے تحت ہونے والی حلقہ بندیوں کے تناظر میں حلقہ پی پی 250 میں میونسپل کمیٹی اوچ شریف، تحصیل احمد پور شرقیہ کا حلقہ قانون گوئی طاہر والی، حلقہ قانون گوئی اوچ گیلانی بشمول مانک نوشہرہ پٹوار سرکل، حلقہ قانون گوئی اوچ بخاری، حلقہ قانون گوئی کوٹلہ موسیٰ خان بشمول کوٹلہ موسیٰ خان اور واہی بہاول شاہ کے علاقے شامل ہیں اور اس صوبائی حلقے میں کل آبادی 414667 نفوس پر مشتمل جب کہ رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد 211093 درج ہے، جس میں خواتین ووٹرز کی تعداد 97860 اور مرد ووٹرز کی تعداد 113233 شامل ہے۔
پنجاب اسمبلی کا موجودہ حلقہ پی پی 250 نومبر 1988 ء، اکتوبر 1990 ء، اکتوبر 1993 ء اور فروری 1997 ء کے عام انتخابات میں پی پی 218، اکتوبر 2002 ء، فروری 2008 ء اور مئی 2013 ء کے عام انتخابات میں پی پی 267 اور جولائی 2018 ء کے عام انتخابات میں پی پی 254 کے نام سے جانا جاتا تھا۔
اسی طرح قومی اسمبلی کے حلقہ 166 میں میونسپل کمیٹی احمد پور شرقیہ، میونسپل کمیٹی اوچ شریف، تحصیل احمد پور شرقیہ کا حلقہ قانون گوئی طاہر والی، حلقہ قانون گوئی اوچ گیلانی، حلقہ قانون گوئی اوچ بخاری، احمد پور شرقیہ اربن قانون گوئی، حلقہ قانون گوئی سکھیل، حلقہ قانون گوئی کوٹلہ موسیٰ خان اور ملکانی بستی پٹوار سرکل آف ہتھیجی قانون گوئی کے علاقہ جات شامل ہیں۔ یاد رہے کہ 2023 ء کی مردم شماری کی بنیاد پر ہونے والی حلقہ بندی میں این اے 167 خانقاہ شریف (سابقہ این اے 176 ) سے بستی ملکانی پٹوار سرکل ہتھیجی قانون گوئی حلقہ پٹوار کو کاٹ کر این اے 166 میں شامل کر دیا گیا، اسی طرح این اے 166 سے حلقہ قانون گوئی کلاب، قانون گوئی چنی گوٹھ اور ٹاؤن کمیٹی چنی گوٹھ کی آبادیوں کو این اے 165 یزمان میں شامل کر دیا گیا۔ اس قومی حلقہ میں کل آبادی 829152 ہے جب کہ کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 437448 درج ہے، جس میں خواتین ووٹرز 203970 اور مرد ووٹرز 233478 ہیں۔
قومی اسمبلی کا موجودہ حلقہ این اے 166 نومبر 1988 ء، اکتوبر 1990 ء، اکتوبر 1993 ء اور فروری 1997 ء کے عام انتخابات میں این اے 141، اکتوبر 2002 ء، فروری 2008 ء اور مئی 2013 ء کے عام انتخابات میں این اے 183 اور جولائی 2018 ء کے عام انتخابات میں این اے 174 کے نام سے جانا جاتا تھا۔
حلقہ این اے 166 میں کل 12 امیدوار انتخابی میدان میں صف آراء تھے، جن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سید سمیع الحسن گیلانی (انتخابی نشان شیر) ، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے امیدوار سید علی حسن گیلانی (انتخابی نشان تیر) ، جمیعت العلمائے اسلام پاکستان کے امیدوار سیف الرحمن راشدی (انتخابی نشان کتاب) ، تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار دیوان سید عشرت جہانیاں بخاری (انتخابی نشان کرین) ، تحریک جوانان پاکستان کے امیدوار ملک جہانزیب وارن (انتخابی نشان سن فلاور) ، پاکستان کسان اتحاد کے امیدوار رحیم بخش (انتخابی نشان ہل) ، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے امیدوار مہر محمد مجاہد (انتخابی نشان کرسی) ، آزاد امیدوار پرنس بہاول عباس خان عباسی (انتخابی نشان حقہ) ، آزاد امیدوار حیدر علی خالد (انتخابی نشان مور) ، آزاد امیدوار شیخ محمد حسن علی (انتخابی نشان رباب) ، آزاد امیدوار ملک خالد محمود بابر (انتخابی نشان ہینڈ پمپ) اور انتخابی نشان سے محروم پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار کنول شوذب (انتخابی نشان رولر کوسٹر) مدمقابل تھے۔
این اے 166 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سید سمیع الحسن گیلانی کی پرفارمنس ناقابل یقین اور کانٹے کی رہی، انتخابی نتائج کے مطابق سید سمیع الحسن گیلانی نے مذکورہ حلقے کے 294 پولنگ اسٹیشنز سے کل 62148 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار پرنس بہاول خان عباسی نے حقہ کے انتخابی نشان پر 48599 ووٹ لے کر دوسرے اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے امیدوار سید علی حسن گیلانی 48375 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے، پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار کنول شوذب محض 35394 ووٹ حاصل کر سکیں۔
واضح رہے کہ سید سمیع الحسن گیلانی کو 1998 ء کے بلدیاتی انتخابات میں ضلع کونسل بہاول پور کے سب سے کم عمر چیئرمین بننے کا اعزاز حاصل ہے، وہ 2001 ء میں صدر جنرل پرویز مشرف کے نافذ العمل مقامی حکومتوں کے نظام میں بھاری اکثریت سے احمد پور شرقیہ کے تحصیل ناظم بھی منتخب ہو چکے ہیں۔ 11 مئی 2013 ء کے انتخابات میں سید سمیع الحسن گیلانی بہاول پور نیشنل عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کی نشست پر کھڑے ہوئے اور 47381 ووٹ حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی، ان کے مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سید علی حسن گیلانی تھے، جو 62839 ووٹ لے کر ایم این اے منتخب ہوئے تھے۔
25 جولائی 2018 ء کے انتخابات میں سید سمیع الحسن گیلانی پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر 63884 ووٹ لے کر پہلی مرتبہ ایم این اے منتخب ہوئے تھے، تاہم اپریل 2022 ء کو وزیر اعظم عمران خان کے خلاف حزب اختلاف کی اتحادی جماعتوں (پی ڈی ایم) کی طرف سے پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کے دوران آپ ”غیر علانیہ طور پر“ پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کا حصہ رہے۔
اسی طرح حلقہ پی پی 250 میں کل 14 امیدواروں نے الیکشن میں حصہ لیا، استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار سید افتخار حسن گیلانی (انتخابی نشان عقاب) ، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے امیدوار سید عامر علی شاہ (انتخابی نشان تیر) ، جماعت اسلامی کے امیدوار طاہر منظور (انتخابی نشان ترازو) ، جمیعت العلمائے اسلام پاکستان کے امیدوار مہر غلام ربانی کاٹھیہ (انتخابی نشان کتاب) ، تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار دیوان سید عشرت جہانیاں بخاری (انتخابی نشان کرین) ، آزاد امیدوار ندیم احمد (انتخابی نشان بوتل) ، آزاد امیدوار شیخ فاروق حمید (انتخابی نشان گھڑیال) ، آزاد امیدوار ملک نوید خالد (انتخابی نشان گدھا گاڑی) ، آزاد امیدوار سید عمر رضا گیلانی (انتخابی نشان کانٹا) ، آزاد امیدوار ملک احمد یار (انتخابی نشان حقہ) ، آزاد امیدوار ملک جہانزیب وارن (انتخابی نشان چارپائی) ، آزاد امیدوار ملک خالد محمود بابر (انتخابی نشان ٹوتھ برش) ، آزاد امیدوار زاہد محمود (انتخابی نشان چڑیا) اور پاکستان تحریک انصاف کے ”مبینہ“ امیدوار مجیب الرحمن شاہد (انتخابی نشان مرغی) مدمقابل تھے۔
حلقہ پی پی 250 کے انتخابی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سید عامر علی شاہ نے کل پولنگ اسٹیشنز 138 سے 26260 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ 1997 ء سے 2018 ء تک انتخابی میدان میں مسلسل ’ناقابل تسخیر‘ رہنے والے سید افتخار حسن گیلانی 24253 ووٹ لے کر دوسرے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ آزاد ملک نوید خالد وارن گدھا گاڑی کے انتخابی نشان پر 17245 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔
واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور استحکام پاکستان پارٹی کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اس صوبائی حلقے سے اپنا کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا البتہ پارٹی ڈسپلن کی ”مجبوریوں“ کے باعث حلقہ این اے 166 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سید سمیع الحسن گیلانی آزاد امیدوار ملک نوید خالد کی انتخابی مہم چلاتے رہے تھے۔
سید افتخار حسن گیلانی درگاہ قادریہ، غوثیہ عالیہ کے سجادہ نشین کی حیثیت سے حلقے کے عوام سمیت ملک بھر میں قدر و منزلت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ اکتوبر 1993 ء میں پہلی مرتبہ انہوں نے اس صوبائی حلقے (حلقہ پی پی 218 بہاول پورi) سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے انتخابی نشان شیر پر انتخابات میں حصہ لیا تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار میجر (ر) سمیع اللہ شیخ کے ہاتھوں آپ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، ان انتخابات میں میجر (ر) سمیع اللہ شیخ نے 17163 اور سید افتخار حسن گیلانی نے 15837 ووٹ حاصل کیے تھے۔
وہ 3 فروری 1997 ء کے عام انتخابات میں اس صوبائی حلقہ (حلقہ پی پی 218 بہاول پورi) سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر 27113 ووٹ لے کر پہلی مرتبہ ایم پی اے منتخب ہوئے، 10 اکتوبر 2002 ء کو (حلقہ پی پی 267 بہاول پورi) سے جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے ”زیر سایہ“ منعقد ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر 27725 ووٹ لے کر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، 18 فروری 2008 ء کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر جیت سمیٹی، 11 مئی 2013 ء کے عام انتخابات میں بہاول پور نیشنل عوامی پارٹی کے انتخابی نشان بیل گاڑی پر 31926 ووٹ لے کر کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھا، پورے ملک میں اس پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے آپ واحد امید وار تھے، جب کہ 25 جولائی 2018 ء کو ”باجوہ ڈاکٹرائن“ کے تحت ہونے والے ”ہائبرڈ“ انتخابات میں آپ نے اس صوبائی حلقے (حلقہ پی پی 254 بہاول پور v) سے پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی نشان بلے پر 36644 ووٹ حاصل کر کے مسلسل پانچویں ایم پی اے بننے کا منفرد اعزاز حاصل کیا۔ ان کے مدمقابل پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے امیدوار سید عامر علی شاہ تھے جنہوں نے 27403 ووٹ لے کر تب سیاسی حلقوں کو حیران اور محض پانچ سال کے عرصہ میں اب کامیابی سمیٹ کر اپنے حریفوں کو پریشان کر دیا ہے۔

