ہم اور سائنس کا نوبل پرائز
خامہ خراب نے ایک عمر سائنس کے خارزاروں میں گزاری ہے۔ شعر و ادب کے گل زار میں تو اب آئے ہیں اور جب ہم نے اس کشت زعفران میں قدم رکھا تھا تو زمیں سے آنے لگی صدا: ’یہ سبز قدم کہاں سے آیا؟‘ ہمیں ادب کے میدان میں ٹانگ اڑانے کا چنداں شوق نہیں تھا۔ ہم تو سائنس کے طالب علم تھے۔ یہ خود کو ’طالب علم‘ تو ہم نے ازراہ انکسار کہا ہے وگرنہ یادش بخیر، اساتذۂ کرام تو ہمیں سائنس دان خیال کرتے تھے۔ فزکس کے استاد گرامی ہمیں ’نیوٹن‘ کے نام سے پکارتے تھے جب کہ بیالوجی کے استاد محترم نے ہمارا نام ’ڈارون‘ رکھا ہوا تھا۔
وہ اس خاکسار کے حال پر اتنے مہربان تھے کہ جب ”مرغوں کی حیات“ کے موضوع پر لیکچر دیتے تو صرف ہم سے، تمام جماعت کے سامنے مرغا بننے کی درخواست کرتے، کبھی کسی اور شاگرد یہ عزت نہیں بخشی۔ ترنگ میں ہوتے تو اپنے مرغ دست آموز کو ”حکم اذاں“ بھی دیتے تھے۔ بخدا ہم نے بھی بانگ دینے میں وہ مہارت تامہ حاصل کر لی تھی کہ محلے کی مرغیاں اور لڑکیاں ہنس ہنس کے دھری ہو جاتی تھیں۔ ہم کہتے ہی رہ جاتے ”اری نیک بختو! ہم اصل مرغ تھوڑے ہیں، یہ تو تعمیل ارشاد میں مشق نغمہ کرتے ہیں۔“ مگر ان کے قہقہے رکنے کا نام نہیں لیتے تھے۔
سب سے زیادہ مبالغہ کیمسٹری کے استاد صاحب کرتے تھے۔ ان کی پیش گوئی تھی کہ اگر ہم نے سو برس کی عمر پائی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں سائنس کے میدان میں نوبل پرائز سے نہ نوازا جائے۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ بات سن کر ہم محجوب سے ہو جاتے اور دل میں مصمم ارادہ کر لیتے کہ اگر شاطران مغرب نے انصاف پسندی سے کام لیا اور ایسے کسی اعزاز سے نوازنے کی کوشش کی تو لینے سے صاف انکار کر دیں گے اور حضرت علامہ کی طرح یہ شرط رکھ دیں گے پہلے ہمارے استاد محترم کو یہ اعزاز دیجیے جن کی جوتیوں کے صدقے ہم اس مقام پر پہنچے ہیں۔ (ان جوتیوں کے نقوش آج بھی ہماری پشت پر ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں ) اپنی سعادت مندی اور نیک نفسی پر ہم خود حیران رہ جاتے اور ایک جذب کی کیفیت طاری ہو جاتی، آنکھیں نم ناک ہو جاتیں۔ استاد گرامی کی خدمت میں عرض کرتے :
”آپ تو ہمیں کانٹوں میں گھسیٹتے ہیں۔“
وہ جواب میں فرماتے : ”تمہیں تو انگاروں میں گھسیٹنا چاہیے کہ لوہا آگ میں تپ کر گل و گل زار بنتا ہے۔“
ایک روز ہم کیمسٹری کی لیبارٹری میں محو تجربہ تھے کہ استاد صاحب قریب آئے اور تشویش ناک لہجے میں گویا ہوئے ”میاں! جیتے نظر نہیں آتے۔“
غالباً انہوں نے یہ بات ہماری کم عمری اور روشن دماغی کی ستائش میں کہی تھی مگر جانے کیوں وہ یہ جملہ کہہ کر تیزی سے لیبارٹری سے رخصت ہو گئے۔ دراصل اس وقت ہم مختلف تیزابوں کے باہم کیمیائی تعامل کا جائزہ لینے کے لیے انہیں شیشے کی چھوٹی بوتلوں سے نکال کر ایک نلکی کے ذریعے بڑی بوتل میں منتقل کر رہے تھے۔ اچانک ایک زوردار دھماکا ہوا اور بوتل سے جن باہر نکل آیا۔ ہر طرف دھواں پھیل گیا۔ شیشے کی بوتل ایک دستی بم کی طرح پھٹ پڑی مگر حرام ہے جو ایک قطرہ بھی ہم پر گرا ہو۔
تمام محلول اچھل کر نوشتۂ دیوار ہو گیا۔ سنا ہے طویل عرصے تک یہ نقش و نگار دیوار پر ثبت رہے اور نئے طلبہ کو لیبارٹری میں داخلے کے وقت یہ کہہ کر ان کا دیدار کرایا جاتا: دیکھو اسے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو۔ اس کے بعد خامہ خراب کے ذوق علمی کا تذکرہ ہوتا اور آخر میں سائنس کے میدان میں مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر روشنی ڈالی جاتی۔ ان رسومات کے بعد ہی لیبارٹری میں باقاعدہ تجربات کا آغاز ہوتا۔
یہاں یہ عرض کرتے چلیں کہ اس واقعے کو لیبارٹری اسسٹنٹ نے خوب نمک مرچ لگا کر پرنسپل صاحب کے سامنے اس رنگ میں پیش کیا کہ وہ ہمیں کالج سے بے دخل کرنے پر تل گئے۔ پرنسپل صاحب یوں بھی کانوں کے ذرا کچے تھے مگر کیمسٹری کے پروفیسر صاحب اڑ گئے کہ اس ہونہار کو کالج سے کیوں نکالتے ہو، میں ہی استعفیٰ دے دیتا ہوں۔ اگرچہ بعض مفسدہ پرداز اس جملے کی مختلف تعبیر کرتے ہیں تاہم اس نازک موقعے پر ہم نے مداخلت کی اور استاد گرامی سے گزارش کی آرٹس کالج قریب ہی ہے، ہم وہاں داخلہ لے لیں گے، آپ زحمت کیوں کرتے ہیں۔
ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کی خدمت میں ہر ہفتے حاضری دیتے رہیں گے۔ تب کہیں جا کر وہ آمادہ ہوئے۔ ہماری سعادت مندی دیکھیے کہ شرف نیاز حاصل کرنے کے لیے ہر ہفتے کالج جاتے تھے مگر گیٹ کیپر (جو لیبارٹری اسسٹنٹ کی سگی خالہ کا سوتیلا بیٹا تھا) ہمیں کالج میں داخل ہونے سے روک دیتا تھا۔ استاد محترم جانے کیا سوچتے ہوں گے کہ نئے کالج میں جا کر ہم نے انہیں فراموش کر دیا۔
صاحبو، وہ گزرا ہوا زمانہ اور چھوڑی ہوئی منزل ہمیں یوں یاد آئی ہے کہ آج ہی ہم نے اخبار میں ایک خبر پڑھی ہے کہ کیمسٹری کے نوبل پرائز کے لیے تین سائنس دانوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ عجیب سے ان کے نام ہیں : مونگی ہاونیڈی، لوئیس بروس اور الیکسی ایکیموف! ان کے نام پڑھ کر یاد آیا کہ ایک روز استاد صاحب جب ’مسلمان سائنس دانوں کے کارناموں‘ پر لیکچر دے رہے تھے تو انہوں نے تختۂ سفید پر سبز مارکر سے ان سائنس دانوں کے اسمائے گرامی تحریر کیے تھے اور پھر کہیں دور خلاؤں میں تکتے ہوئے، معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ، آخر میں جلی حروف میں سرخ مارکر سے حوصلہ افزائی کے لیے ہمارا نام نامی بھی لکھ دیا تھا:
جابر بن حیان، یعقوب بن طارق، الخوارزمی، الجاخط، الکندی، ابوبکرالرازی، الفارابی، احمد بن وحشیہ، خامہ خراب!
ہائے ہائے، غالب کیا بے محل یاد آیا ہے : فقط ’خراب‘ لکھا، بس نہ چل سکا قلم آگے۔
آج یہ واقعہ یاد آیا ہے تو کلیجہ (دل اور گردے سمیت) منہ کو آتا ہے۔ اگر وہ لیبارٹری اسسٹنٹ سازش نہ کرتا تو آج نوبل پرائز سے ہمیں نوازا جاتا اور ہم یوں ادب کے گل زاروں میں دھکے نہ کھاتے پھر رہے ہوتے۔

