آہ! نادان شاعرہ، ساکشی صدف
ہم کو دنیا کے اجالوں سے بہت نفرت ہے
ہم چمکتا ہوا سورج بھی بجھا سکتے ہیں
اس طرح کے معنی خیز، خوبصورت شعر کہنے والی نوجوان شاعرہ ساکشی صدف کے بارے میں لوگ سمجھتے رہے کہ شاید یہ زندگی کے کسی تجربے یا مشاہدے کو موضوع بنا رہی ہے۔ کسے معلوم تھا کہ وہ اپنے بہت سے خیالات کو عملی تجربے سے محسوس کرنا چاہتی ہے! وہ ساری زندگی اپنے فکر انگیز اشعار سے انسانی رشتوں اور وجود کی پیچیدگیوں کے کرب کو کم کرنے کے لیے خاموشی اور شور کے راستے میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کر سکی۔ اس نے اپنے اندر کلبلاتے بہت سے غیر محسوس جذبات کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے کی خواہش میں 9 فروری 2024 ء کی سہ پہر خودکشی کر لی!
صدف، خوش شکل، خوش اخلاق اور خوش اطوار تو تھی مگر اسے کوئی خوشی راس نہ آئی تو اس نے شعراء کے اس قبیلے کی طرف ہجرت کی جو اس سے قبل موت کو ایسے ہی گلے لگا چکے تھے۔ اب وہ عدم میں اپنے ہم خیالوں انس معین، سارہ شگفتہ، ثروت حسین، شکیب جلالی، قمر بشیر، شبیر شاہد کے ساتھ محو گفتگو ہو گی، بالخصوص 1984 ء میں موت کو گلے لگانے والی سارہ شگفتہ کے ساتھ، جس نے کہا تھا:
تجھے جب بھی کوئی دکھ دے
اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا
ساکشی کہتی ہو گی، کہ میں اپنا نام دکھ رکھنے پر تو قادر نہ تھی مگر میں نے مختصر زندگی میں اپنے اندر دکھوں کا تانا بانا بنا اور دکھوں کے لبادے میں ہی دائمی پناہ کو عافیت جانا۔ اس نے 1966 ء میں موت کو پر کشش جاننے والے ثروت حسین کی فکر پر مہر تصدیق ثبت کر کے اسے کہا ہو گا کہ ثروت آپ ٹھیک کہتے تھے :
موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروؔت
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خودکشی کے بارے میں
ساکشی صدف نے 1986 ء میں موت کے پس پردہ رازوں کو جاننے کے متمنی انس معین کے اس شعر کی داد بھی اسے ضرور دی ہو گی:
اس کے پیچھے چھپی ہیں کتنی دیواریں
جسم کی یہ دیوار گرا کر دیکھوں گا
شاید ساکشی صدف کے من میں 1974 ء میں اپنے کمرے کا دروازہ کھلا چھوڑ کر راوی کنارے جا کر آج تک نہ لوٹنے والے شبیر شاہد کا حیرت کدہ دیکھنے کی خواہش تھی، جس نے کہا تھا:
فرط حیرت سے بھرا گھر دیکھتا رہ جائے گا
ہم چلے جائیں گے دروازہ کھلا رہ جائے گا
ساکشی صدف کو 1991 ء میں موت کی بانہوں میں جھول جانے والے قمر بشیر کا یہ شعر تو اچھا لگتا تھا:
موت کی بانہوں میں ہی جا کر قمر
زندگی کے راز کو سمجھوں گا میں
مگر کیا وہ موت کے جھولے میں زندگی اور موت کے نا حل طلب عقدے کو حل کر پائی ہو گی، یقیناً نہیں!
وہ 1966 ء میں موت کے قلزم میں ہمیشہ کے لیے غوطہ زن شکیب کو کہتی ہو گی، کہ آپ نے کہا تھا
تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
تو شکیب مجھے بھی ایسے نام نہاد غم گساروں سے نفرت تھی، میں ان کے ساتھ نہیں چل سکتی تھی۔ تبھی تو میں نے کہا تھا:
دوست دشمن یا اور کوئی رشتہ ہو
صرف وہ کیجیے جو آپ نبھا سکتے ہیں
لہٰذا میں نے ساتھ نبھانے کے لیے موت کا انتخاب کیا۔ ساکشی کے اشعار پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ زندگی سے فرار کا رستہ اس نے اچانک نہیں چنا۔ رشتوں میں عدم خلوص، سرد مہری اور منافقت سے دکھی ساکشی اپنے خلوص کا اظہار شاعری میں مسلسل بر ملا کرتی نظر آتی ہے :
تیرے ہی نام کے آنسو ہیں میری آنکھوں میں
تیرے ہی نام کا کاجل لگا رہی ہوں میں
تمھاری یاد میں کھوئی ہوں کس قدر دیکھو
سفید رنگ کو نیلا بتا رہی ہوں میں
اور کئی اشعار میں بھی ساکشی کو بصری دھوکے سے نیلے رنگ کا گمان محض ایک واہمہ ہی نہیں تھا بلکہ یہ داخلی خلوص اور خارج میں منافقت کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والے زہر کی علامت تھا جو آہستہ آہستہ ساکشی کے رگ و پے میں سرایت کرتا رہا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سماج میں نظر آنے والے تضادات نے ساکشی کے وجود میں بے اطمینانی اور شک کو جنم دیا، جس سے اس کے ذہن میں ایسی کیفیت پیدا ہو گئی جہاں پھول بھی کانٹے نظر آنے لگتے ہیں :
روز کھا لیتے ہو قسم مجھ کو بھلانے کی مگر
سچ بتاؤ کہ حقیقت میں بھلا سکتے ہو؟
سوچنا تبھی میرا ہاتھ پکڑنے کے لیے
زندگی بھر جو میرا ساتھ نبھا سکتے ہو؟
ساکشی نے اپنے وجود کی پیچیدگیوں کے اظہار کے لیے شاعری کا سہارا لیا تھا کہ شاید اس طرح اس کی ذات کا کتھارسس ممکن ہو سکے۔ وہ اپنی ہر الجھن کو فنکارانہ انداز میں اپنی شاعری کے ساختی تانے بانے میں سموتی تو ہے مگراس کے وجود کا خمیر پیار سے گندھی مٹی سے اٹھا ہے جس کے باعث معاشرے میں ہر جگہ عدم تحفظ کا احساس اسے خاموشی کی طرف مائل کر دیتا ہے۔ یہ چیز اس کے دل و دماغ میں تناؤ کی کیفیت پیدا کر دیتی ہے، چنانچہ وہ ہر جگہ ایک سہمے ہوئے بچے کی طرح نظر آتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ساکشی کے اشعار میں الفاظ کے جذباتی استعمال کا تاثر زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا:
جو مجھ پر الزام لگاتے رہتے ہیں
آئینہ ان کو دکھلانا پڑتا ہے
تم سے ہاتھ ملانے کی بے تابی میں
ہم کو سب سے ہاتھ ملانا پڑتا ہے
جو بھی ہو، ساکشی نے موت سے ہاتھ ملا کر اچھا نہیں کیا، وہ کہا کرتی تھی:
اپنی انکھوں سے کئی شور سنا سکتے ہیں
رہ کے خاموش بھی ہم شور مچا سکتے ہیں
کاش ساکشی زندگی کی آغوش میں میں خاموش رہ کر شور مچاتی تو اچھا لگتا، مگر اس نے موت کے گہوارے میں جا کر سب کو خاموش کر دیا، ماضی میں خود کشی کر لینے والا نوجوان ادیب، احسن فارقلیط کسی عربی دانشور کے قول یا شعر کا ترجمہ دہرایا کرتا تھا:
”زندگی بوجھ بن جائے تو باقی ماندہ سانسیں عزرائیل کے منہ پر دے مارو“ مگر زندگی ساکشی کے لیے تو بوجھ نہیں تھی، اگر تھی تو اس نے اس کا کسی کو احساس تک نہیں ہونے دیا۔ اس کے عام رویوں میں اس قدر جھنجھلاہٹ بھی نہیں تھی، اس کے باوجود اس نے زندگی کی سانسوں کا قرض اتارنے کا اس قدر بھیانک فیصلہ کیا۔ افسوس کسی کو نہیں معلوم کہ ساکشی صدف کے باطن میں کیا شورش بپا تھی۔ اس کی بے وقت نادان موت کے کرب کو شکیب جلالی کے الفاظ میں محسوس کیا جا سکتا ہے :
موت نے آج خود کشی کر لی
زیست پر کیا بنی خدا جانے


