عوامی حقوق اور پارلیمان


ریاست کی بنیاد ہی اس ضرورت کے تحت پڑی۔ کہ جب لوگ قانون فطرت کے تحت جنگلی طرز زندگی گزار رہے تھے۔ ہر وقت مرنے اور مارنے پر تیار رہتے۔ سول حقوق اور سہولیات کا تو نام و نشان تک ہی نہیں ہوتا تھا۔ ان حالات سے تنگ آنے، جان کی امان پانے کی خواہش اور شعوری ارتقاء کی وجہ سے لوگ رضا کارانہ طور پر یا بزور جنگلی زندگی سے گلو خلاصی اور فرار اختیار کرنے پر آمادہ ہوئے۔ اور اس کے لیے اپنے بہت سے فطری حقوق سے دستبردار ہوئے۔ کسی نہ کسی کو بڑا یا آقا مان کے رضا کارانہ غلامی قبول کرلی اور ریاست اور تنظیم کی بنیاد ڈال دی۔

بعد میں جب جان کی تحفظ کا انتظام تو ہو گیا مگر ساتھ ساتھ مقتدر شخص اور طبقہ کے ظلم اور زیادتی کی وجہ سے لوگ تنگ آ جاتے۔ تو وقت کے ساتھ ساتھ لوگ ان آقاؤں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے، بغاوت کرتے اور تھوڑے بہت حقوق حاصل کرلیتے۔ اور یوں معاشرہ غلامی اور جاگیرداری سے ہوتے ہوئے نیم جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام اور جمہوریت تک آن پہنچا۔

دنیا کے تمام مہذب ممالک میں عوام اپنے حقوق کی جنگ پارلیمان میں لڑتے ہیں اور چونکہ پارلیمانی نمائندگان عوام کی اکثریتی رائے اور قوت سے ہی کامیاب ہو کر آتے ہیں۔ اس لیے ایسی جنگیں خوش اسلوبی اور آسانی سے جیت بھی جاتے ہیں۔ ویسے بھی جمہوریت کی تعریف ہی ”عوام کے لیے، عوام پر، عوام کے ذریعے“ ہی ہے۔ اس لیے عوام جمہوری طریقے سے اپنے نمائندگان پارلیمان کو منتخب کر کے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہی بھیجتے ہیں۔

یہی سب کچھ اپنے پاکستان میں بھی ہوتا چلا آ رہا ہے۔ لیکن کئی بار عوام کی منتخب جمہوری حکومتیں آئیں۔ مگر ایسی حکومتوں نے ایسی کوئی خاطر خواہ قانون سازی اور اقدامات نہیں کیں، جس سے عوام کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہوئی ہوں اور انہوں نے مطلوبہ، دل بھاتی اور نظر آتی معاشی اور معاشرتی ترقی کی ہوں۔ بلکہ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو ہر بار قومی اہمیت کے اداروں کی تنظیم نو اور اصلاح کرنے کی بجائے بقول ان کے ریاست کی مالی مشکلات سے چھٹکارا پانے کے لیے، اسے اونے پونے ہی فروخت کر دیتے ہیں۔

مزید گہری نظر سے اگر دیکھا جائے تو عوامی نمائندگان (جن کی اکثریت خواص کی ہی ہوتی ہے ) پارلیمان پہنچ کر یا تو سرے سے پارلیمان کی حیثیت اپنے انتخاب کے مقصد سے ہی لا علم ہوتے ہیں یا پھر ”بنیا کا بیٹا کچھ دیکھ کے ہی گرتا ہے“ کے مصداق وہاں کی چکا چوند روشنیوں سے ان کی آنکھیں ایسے خیرہ ہو جاتی ہیں کی عوامی فلاح اور ملکی ترقی کی اپنی بنیادی ذمہ داری پس پشت ڈال کے غیر جمہوری قوتوں اور مخصوص طبقہ کے ہاتھوں کھلونے بن کے ان ہی کے حقوق کے تحفظ کرتے ہیں اور اس پر قانونی مہر ثبت کراتے ہیں۔

عوام جو ملک کی تقریباً نوے پچانوے فیصد ہیں اور باقی پانچ دس فیصد ہی اشرافیہ ہے۔ لیکن اس طرح کا مخصوص ماحول اور حالات بنا دیے گئے ہیں کہ عوام کے لیے تو پارلیمان دروازے بند ہی کر دیے گئے ہیں۔

ایسے میں پارلیمان میں عوامی حقوق کی جنگیں نہیں لڑی جائیں گی بلکہ ان پر مٹی ڈالنے کی ہی بات ہو گی۔ اور عوام سڑکوں پر ہی نکلیں گے یا پھر ان کے حقوق پامال ہوتے اور وہ ظلم سہتے رہیں گے۔ ایسے حالات میں نہ تو انفرادی اور نہ ہی اجتماعی خوشحالی اور ترقی ممکن ہے۔

ایسے حالات میں سیاسی پارٹیاں جو خود کو عوامی نمائندگان کہتی ہیں، پر ہی اولین ذمہ داری پڑتی ہے۔ ایسی سیاسی پارٹیاں جتنے بھی انتخابی ٹکٹیں دیں تو الیکٹیبلز کی بجائے عام کارکنان کو دے کر پارلیمان کو پہنچا دیں۔ بالکل اسی طرح کی جیسے ایوان بالا یعنی سینٹ، بالا طبقہ اشرافیہ کے لیے غیر علانیہ طور پر مخصوص کر دیا گیا ہے۔ اور ایوان زریں قومی اسمبلی جو عوامی فورم ہے، پر ڈاکا زنی نہ کریں نہ کرنے دیں۔

جب پارلیمان میں حقیقی اور اصلی عوامی نمائندگی بوگی تب ہی عوامی حقوق کی جنگیں سڑکوں کی بجائے پارلیمان میں لڑیں اور جیتی جائیں گے۔ امن ہو گا، ترقی ہوگی اور خوشحالی ہوگی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments