امریکی حکمت عملی
یہ ہفتہ امریکی خارجہ پالیسی کے لئے اچھا نہیں رہا۔ ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی کے درمیان مخاصمت اور ریپبلکن پارٹی کے اندرونی کچھاؤ کی وجہ سے کیپٹل ہل کا ماحول خاصا کشیدہ رہا۔ ظاہر ہے کہ اس کے اثرات معاشرے پہ بھی پڑتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ کل عالم پہ اثرات بد مرتب ہوتے ہیں۔ جنوبی سرحد پہ مہاجرین کا بوجھ ہو یا یوکرائن کی فوجی امداد ہو کسی بات پہ کوئی یکسوئی نہیں پائی جاتی۔ امریکی سردردی کا باعث روسی اور ایرانی اتحاد بھی ہے۔ اس ہفتۂ رواں میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں نے امریکی عوام اور حکومت کے اوسان خطا کر دیے پھر 100 سے زائد زخمیوں نے گویا زخموں پہ نمک چھڑک دیا جو ان کے شام میں اڈوں پر قریباً 200 حملوں کے بعد ہوئے جس کے لئے امریکن حکومت ایرانی ملیشیا کو ذمہ دار گردانتے ہیں۔
ادھر حوثیوں کے حوصلے بھی کسی صورت پست ہونے کا نام نہیں لے رہے جنہوں نے بحر احمر میں کمرشل بحری جہازوں کی آمدورفت میں مسلسل رخنہ اندازی کر کے عالمی معیشت کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ جو بائیڈن نے ان کے خلاف نیم دلانہ ہوائی حملے کر کے پیغام دیا کہ موقع کی نزاکت کے مطابق اس کے پاس اور کوئی چارہ گری نہیں یوں حوثیوں کے حوصلے مزید جلا پا گئے۔ صدر محترم کے پاس یوکرائن کے حوالے سے بھی کوئی قابل عمل حل موجود نہیں۔
دسمبر 2022 میں 400 ملین ڈالر کی امداد کانگریس نے منظور کی تھی وہاں کانگریس ممبران کا مزاج اب بدلا ہوا لگ رہا ہے۔ وہ مزید احسان مندی کرنا نہیں چاہتے۔ یوکرائن کو ملنے والی امداد درجہ بندی کے حوالے سے دنیا میں تیسویں مقام پہ نظر آتی ہے اسی وجہ سے یوکرائنی فوج اپنے اسلحے اور گولہ و بارود کا ذخیرہ کر رہی ہے جو بوقت ضرورت ہی استعمال کیا جائے گا۔ ادھر روس مزید کامیابیاں سمیٹنے میں مشغول ہے۔ اس صورتحال میں امریکی عوام کی خواہش تو یوکرائن کی فوری اور بھرپور امداد پہ ہے کہ وہ اسے اپنی فتح و شکست سمجھتے ہیں کیونکہ وہ روس کو سب سے بڑا حریف سمجھتے ہیں یورپ ان کا اتحادی ہے جس کو شدید خطرات لاحق ہیں اور اگر روسی کامیابی ہوئی تو وہ وہیں تک رک کر مطمئن نہیں ہو گا ظاہر ہے وہ آگے بڑھا تو پھر دیگر ممالک بھی گرتے پتوں کی طرح روس کے آگے ڈھیر ہوجائیں گے بظاہر یہ صورتحال کسی صورت امریکہ برداشت نہیں کر سکتا کہ دنیا میں کوئی اس کی چوہدراہٹ کو میلی آنکھ سے دیکھے۔
امریکیوں کے لئے اس سے بڑی تسلی نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنے ایک فوجی کو میدان جنگ میں عملاً جھونکنے کے بغیر ہی اپنے سب سے بڑے حریف کو پچھاڑ دے۔ مگر دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے کے مصداق کچھ ممبران کانگریس ان دوررس نتائج سے بے پروا ہو کر اپنی مقامی سیاسی گروہ بندی اور مفاد میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں وہ کسی صورت بائیڈن کو کامیاب نہیں دیکھ سکتے۔ یہ بات دوست احباب اور شدید ترین مخالفین کے لئے بھی ازحد تشویشناک ہے۔
ظاہر اب یہ موقع ہے جب تائیوان، جاپان اور جنوبی کوریا سوچ میں مبتلا ہیں کہ اگر کوئی ایسا وقت امتحان ان پہ آیا تو پھر ان کے ساتھ کیسا امریکی رویہ ہو گا۔ وھائٹ ہاؤس ہی خارجہ پالیسی طے کرتا آیا ہے۔ انتظامی اخراجات کی منظوری البتہ کانگریس ہی دیتی ہے۔ ظاہر ہے اگر اس موقع پہ حکومتی ایوانوں اور کانگریس میں مقابلہ آرائی ہو جائے تو پھر خارجہ پالیسی چل نہیں سکتی۔ اب کانگریس پہ لازم ہے کہ وہ مقامی سطح کی محاذ آرائی کو چھوڑ کر ایک عالمی سطح کی سوچ کو اپنائے ورنہ امریکہ اپنا مقام کھو سکتا ہے جو امریکہ عوام اور دنیائے عالم کے لئے مناسب نہیں ہو گا۔ امریکہ پہ بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔


