یہودی ایجنٹ سے ایک قومی لیڈر تک کا سفر

ہمدرد دواخانہ اور ہمدرد یونیورسٹی کراچی کے بانی حکیم محمد سعید مرحوم کی ایک کتاب ”جاپان کہانی“ میں انہوں نے ایک راز سے پردہ ہٹایا تھا کہ بیرونی آقا ایک بندے کو تیار کر رہے ہیں، جو آئندہ برسوں میں اس کو ریاست پاکستان پر مسلط کر کے اپنی خواہش کے مطابق فیصلے کروائیں گے اور اس شخص کا نام عمران خان ہے۔
یہ بات آگے چل کر پاکستان کی ایک بڑی مذہبی جماعت کے سربراہ نے کچھ اس انداز میں پیش کی کہ عمران خان یہودی ایجنٹ ہے اور ایک خاص لابنگ کے بعد اس کو ملک پاکستان پر مسلط کر کے پاکستان کے قیمتی وسائل پر مغرب اپنے پنجے گاڑنا چاہتا ہے۔
عوام کے ذہنوں میں یہ زہر گھول لیا گیا۔ تاہم جب عمران خان نے اپنے کرکٹ کریئر سے استعفیٰ لیا تو اپنی والدہ کے نام سے ایک کینسر ہسپتال بنانے کی امید ظاہر کی اور اپنے اس مشن میں لگ گئے۔ عوام نے بھر پور ساتھ دیا اور چند سالوں کے بعد شوکت خانم میموریل ہسپتال قائم ہوا۔
مشکلات آتی گئیں اور جاتی گئیں لیکن یہ یہودی ایجنٹ اپنے کام میں مگن ہر اس مشکل کو برداشت کرتا اور آگے بڑھتا رہا۔
اور آخر وہ دن آ گیا جب عمران خان پاکستانی سیاست میں کھود پڑے۔ اور پوری دنیا نے دیکھا کہ وہ عمران جس کے متعلق لوگ مختلف آراء رکھتے تھے وہ بھی عمران خان کے قافلے میں شامل ہو رہے تھے۔ اسی سے متصل ایک اور حقیقت ذہن میں شور مچا رہی ہے، کہ وہ بھی آپ سے شیئر کروں۔ ملکہ ترنم میڈم نور جہاں کے متعلق کیا کیا باتیں ہوئیں، ان کے کردار کو جا بجا تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، تو جب ان کا انتقال ستائیس رمضان کو ہوا تو لوگ مولانا طارق جمیل صاحب سے پوچھتے تھے کہ میڈم کا انتقال 27 رمضان کو کیسے ہوا، اور یہ ہو کیسے سکتا ہے؟ تو ان سوالوں پر مولانا صاحب ہنس کر یہی جواب دیتے کہ اللہ جل جلالہ سے پوچھ لیں بھائی کہ ملکہ کو 27 رمضان کو موت سے کیوں ہمکنار کیا۔
عمران خان کے متعلق جتنا پراپیگنڈہ ہوا اور ہو رہا ہے اتنا ہی وہ سرخرو ہوتا جا رہا ہے۔ ایک انٹرویو میں خان سے پوچھا گیا کہ آپ کا ووٹ بینک نہیں ہے اور آپ اتنے بڑے دعوے کر رہیں تو ان کا جواب سنسنی خیز تھا انہوں نے کہا کہ میرا ووٹ ابھی ماؤں کی گودوں میں ہیں۔ اور وقت نے ثابت کیا کہ ایک جنون ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔
بات صرف شعور کی ہے۔ میرا اپنا یہ کہنا ہے کہ جو شخص آپ کی سوچ کی دھار کو تبدیل کرے وہی ایک عظیم لیڈر ہوتا ہے۔ اور عمران خان نے یہی کیا۔ عام لوگوں میں شعور بیدار کیا۔
تقریباً ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہمارے پیارے پیغمبرﷺ نے لوگوں کے ذہنوں اور دلوں پر کام کیا اور ان کو اپنے آپ کو پہچاننے اور اپنے رب کو پہچاننے کا شعور دیا تھا اور اسی شعور کے جذبے کے تحت عام لوگ صاحبہ کرام رضی اللہ تعالیٰرعنھم اجمعین کے درجات پا گئے اور جہاں جہاں گئے فتح ان ہی کی ہوئی۔
قصہ مختصر کہ یہودی ایجنٹ نے عوام کو باشعور کیا۔ حالیہ انتخابات میں سیاست کے بڑے بڑے برج زمین دوز ہو گئے۔ وجہ صرف شعور کا بیدار ہونا ہے۔ اور جس طرح ملکہ ترنم نور جہاں 27 رمضان کو فوت ہوئی۔ اسی طرح میرا خیال ہے بلکہ پختہ یقین ہے کہ جو خان کو یہودی ایجنٹ کہتے ہیں، شاید نہیں بلکہ یقیناً خان کے سارے اگلے پچھلے گناہ ہمارے رب نے معاف کیے ہیں۔ کیونکہ جس انداز سے خان کے خلاف پراپیگنڈہ ہو رہا ہے اتنا ہی خان کی مقبولیت کا گراف اوپر جا رہا ہے۔
آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ اس سے پہلے کسی عام شہری کو فارم 45 اور فارم 47 کا پتہ بھی نہیں تھا اور آج یہ دو فارم اور ان دو فارمز کا تذکرہ سوشل میڈیا کی زینت بن گئے ہیں۔
آخری بات اور وہ یہ کہ جو بندہ نظام اور اداروں میں اصلاحات کی بات کرتا ہے اصل میں وہی آپ کا لیڈر ہوتا ہے۔

