پہلا ووٹ، جس کی قدر نہیں کی گئی!


جمال دین کا خیال ہے کہ جیل میں پڑا قیدی کوئی فرشتہ تو ہر گز نہیں۔ پاکستانیوں کے لئے امید کا مگر آخری چراغ تو ہے کہ چالیس عشروں سے دو خاندان جن کی پیٹھوں پر پیر تسمہ پا کی طرح مسلط ہیں۔ مصیبتوں میں گھرے شخص کی اب غلطیاں گنوانے سے کیا حاصل؟ گنواتے بھی رہیں تو ملے گا کیا؟ لاکھ عیب ڈھونڈو، پاکستانی مگر اب کچھ سننے کو تیار نہیں۔ 8 فروری کو ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہزاروں پولنگ سٹیشنوں کے سامنے جو امڈ آئے تھے۔

طویل قطاروں میں کھڑے ووٹ کے ذریعے جنہوں نے انتقام لینے کی ٹھان رکھی تھی۔ اسلام آباد کی جس بستی میں جمال دین رہتا ہے، ایک بڑی تعداد میں یہاں ریٹائرڈ فوجیوں کے خاندان آباد ہیں۔ اس بستی کے ایک پولنگ سٹیشن پر صرف نوجوان ہی نہیں، بڑی تعداد میں بزرگ بھی گھنٹوں قطار میں کھڑے رہے۔ عام شہریوں کی اس قطار میں ایک تین ستارہ جرنیل سمیت کئی ایک دیگر کو بھی دیکھا تو امید کی لو تیز ہو گئی۔ وہیل چیئرز پر بیٹھے بزرگوں کو پوتے پوتیاں، نواسے، نواسیاں اندر باہر لئے پھر رہے تھے۔

فضاء میں جوش تھا، ولولہ تھا اور اک امید تھی۔ غصہ بھی بہت تھا۔ مہینوں روا رکھے جانے والے جبر اور پری پول دھاندلیوں کا کوئی تذکرہ نہیں کر رہا تھا۔ دل مگر بھرے ہوئے تھے۔ کروڑوں پاکستانیوں کی طرح جمال دین بھی اس بار خود ڈھونڈتے ڈھانڈتے پولنگ سٹیشن پر پہنچا تھا۔ رات گئے جمال دین کو کسی نے پرچی کسی اور جماعت کے کیمپ سے بنوانے کا مشورہ دیا تھا۔ کچھ مہینوں سے خوف کا غبار دلوں پر جم چکا ہے۔ دو گھنٹے قطار میں کھڑے ہونے کے بعد باری آئی۔

اتنا ہی وقت اس کی بیوی کو عورتوں کی قطار میں لگا۔ خیال تھا کہ تھک کر بیزار ہو گئی ہو گی۔ ملی تو ہشاش بشاش تھی۔ ووٹ ڈال کر بہت مسرور تھی۔ بولی، سب عورتیں ایک ہی بات کہہ رہی تھیں۔ پچھلی گرمیوں کے بعد سے جمال دین نے اپنی بیوی کو وٹس ایپ گروپوں میں گفتگو کے معاملے میں احتیاط سے کام لینے کو کہا تھا۔ ان مہینوں میں عورتوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس کے پیش نظر احتیاط ویسے بھی لازم ہے۔ زندگی میں پہلی بار جمال دین کو عدم تحفظ کا احساس شدت سے ستاتا ہے۔

دارالحکومت کی پولیس کا عملہ پولنگ سٹیشن کے گیٹ پرہجوم کو کنٹرول کر رہا تھا۔ ایک عمر رسیدہ صاحب، بعد ازاں بتایا گیا کسی اہم عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے، کسی بات پر گیٹ پر کھڑے ایک پولیس والے سے الجھ کر اسے اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے لگے۔ پیچھے والے نے سرگوشی کی، ’سر، احتیاط کریں۔ تین چار مل کر پل پڑے تو انہیں کون روکے گا!‘

صوبے کی پولیس کے مقابلے میں کیپٹل پولیس کبھی کچھ مہذب فورس لگتی تھی۔ ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد جمال دین اور اس کی بیوی سامنے واقع کیش اینڈ کیری سٹور کے اندر چلے گئے۔ کچھ خریداری کی۔ بل کی ادائیگی کے دوران نوجوان کیشیئر نے جمال دین کے انگوٹھے پر مخصوص سیاہی کا نشان دیکھا تو بولا، ’سر، دے آئے عمران خان کو ووٹ؟‘ جمال دین ہنس پڑا۔ پوچھا، ’تمھیں کیسے پتا چلا‘ ؟ نوجوان مسکرایا اور کام میں مگن ہو گیا۔

جمال دین کی بیٹی کا پولنگ سٹیشن الگ سے مضافات کے کسی دیہی سکول کے اندر تھا۔ جمال دین نے سوچا اب کون وہاں اس گمنام سکول کو ڈھونڈے۔ بیٹی جو ووٹ ڈالنے کے لئے پرجوش تھی، میاں بیوی صبح اسے گھر چھوڑ آئے تھے۔ دوپہر تک میڈیکل یونیورسٹی میں اس کی کلاس فیلوز کے فون آنا شروع ہو گئے۔ ایک کے بعد ایک سبھی ووٹ ڈال کر آئی تھیں۔ سہ پہر کے وقت بیٹی نے اصرار کیا کہ وہ بھی ووٹ ڈالنا چاہتی ہے۔ وقت اب کم تھا۔ پولنگ سٹیشن مگر ابھی ڈھونڈنا تھا۔

اس کی ایک دوست نے، جو صبح اسی پولنگ سٹیشن پر اپنی فیملی کے ساتھ ووٹ کاسٹ کر کے آئی تھی، اپنی والدہ سے راستے کی رہنمائی سے متعلق وائس میسیج خاص طور پر ریکارڈ کروا کر اسے بھیجا۔ بمشکل وقت پر پہنچے۔ بیٹی اپنا ووٹ کاسٹ کر رہی تھی تو جمال دین باہر اس کا انتظار کرنے لگا۔ ساتھ کھڑے سادہ لباس میں ملبوس نوجوان سیکیورٹی سٹاف سے علیک سلیک ہوئی تو اس نے سرسری انداز میں پوچھا، ’سر، کس کو ووٹ دیا ہے؟‘ جمال دین نے مسکرا کر جواب دیا، ’اور کسے دینا تھا؟‘

نوجوان کچھ توقف سے بولا، ’جیت جائے گی، سر۔ بڑی لیڈ کے ساتھ جیت جائے گی‘ ۔ واپسی پر جمال دین نے جب اپنی بیٹی کو بتایا کہ خود اس نے ستاون برس کی عمر میں میں پہلی بار ووٹ کاسٹ کیا ہے، تو وہ حیران ہوئی۔ جمال دین کی بیٹی اور اس کی کلاس فیلوز کو قومی شناختی کارڈ بنوائے ایک سال بھی نہیں گزرا تھا، مگر وہ سب ووٹ ڈالنے نکل پڑی تھیں۔ جمال دین نے ازراہ مذاق بیٹی سے کہا کہ اس نے جو ووٹ آخری لمحات میں کاسٹ کیا ہے، کیا خبر اسی ایک ووٹ کی وجہ سے ’ہمارا امیدوار‘ جیت جائے۔

شام گئے پولنگ کا وقت ختم ہوا تو مہینوں کے بعد جمال دین نے سٹڈی میں آ کر ٹی وی آن کیا۔ کروڑوں پاکستانیوں کی طرح جمال دین بھی نتائج سے متعلق پرجوش تھا۔ نتائج وصول ہونے لگے تو بہت جلد ہوا کا رخ بھی متعین ہونے لگا۔ تمام تر رکاوٹوں اور مشکلات کہ تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی، انتخابی نشان کے بغیر میدان میں اترنے والی پارٹی کے ’نامزد امیدوار‘ بھاری تعداد میں جیت رہے تھے۔ شام گئے، دن کے غیر معمولی طور پر بڑے ٹرن آؤٹ کا اثر صاف دکھائی دینے لگا تھا۔

سندھ میں بوجہ وہی ایک خاندان جیت رہا تھا، پختونخوا میں مگر عوامی عزم آندھی بن کر چھا چکا تھا۔ دھرتی کا خون چوسنے والے بے ثمر درخت جڑوں سے اکھڑ رہے تھے۔ پنجاب میں بھی غیر معروف امیدواروں کے ہاتھوں بڑے بڑے برج الٹائے جانے کا ’ٹرینڈ‘ جاری تھا۔ بیلٹ باکسز بول رہے تھے۔ دو چار گھنٹوں کے اندر ہی مگر نتائج آنے کا سلسلہ بغیر کسی وجہ کے یک دم رک گیا۔ ماسوائے ایک خاندان کے، تمام سیاسی جماعتوں سمیت ہر ٹی وی چینل پر مبصرین نے سوالات اٹھانا شروع کر دیے۔

کیا ہو رہا تھا کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس ہنگام چیف الیکشن کمشنر صاحب کہاں تھے؟ محض اندازے لگائے جا رہے تھے۔ معتوب جماعت کے امیدوار اب تک اچھی پوزیشن میں تھے۔ رات کے پچھلے پہر جمال دین یہ سوچ کر سونے چلا گیا کہ اب جو بھی ہو، صبح کے اجالے کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ دن جو پھوٹا تو اجالا داغ داغ تھا۔ گزشتہ شب جو ہزاروں ووٹوں کے فرق سے ہار رہے تھے، اب جیت رہے تھے۔ جیتنے والے حیران کن طور پر اب ہار رہے تھے۔

شنید ہے کم ازکم چالیس نشستوں پر ایسا ہوا ہے۔ دو چار بار جمال دین سے اس کی بیٹی نے پوچھا کہ ہمارے حلقے کے امیدوار کا کیا ہوا؟ اب حکومت کون بنائے گا؟ اور یہ کہ قیدی جیل سے کب رہا ہو گا؟ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ دو دن ہو گئے، جمال دین کی بیٹی اب انتخابات کے نتائج سے متعلق پرجوش نہیں رہی۔ جمال دین کو افسوس رہے گا کہ اس کی بیٹی نے اپنے ہم عمر پاکستانیوں کے ساتھ مل کر اپنی زندگی میں جو پہلا ووٹ کاسٹ کیا، اس کی قدر نہیں کی گئی۔

Facebook Comments HS