ہم جیسی چاہتے تھے بنا لی ہے روشنی
فلم روشن راہیں۔
کبھی کبھی تیرگی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اپنے حصے کی شمع جلانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ ہر کسی میں یہ ہمت اور شعور بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے حصے کو روشن کر سکے اور جو ویسا کر پاتے ہیں دراصل وہ ہی تبدیلی کی بنیاد رکھ پاتے ہیں۔ یہ ہی پیغام ہمیں ٹیلی فلم ”روشن راہیں“ سے ملتا ہے۔
سرمد سلطان کھوسٹ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ چاہے ہدایتکاری ہو یا اداکاری آپ ہر میدان میں ہی کچھ الگ کر گزرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں شاید یہ ہی وجہ ہے کہ ان کے بینر یا ان کی ہدایتکاری تلے ریلیز ہونے والی کوئی بھی فلم یا ٹیلی فلم کا ناظرین کو شدت سے انتظار رہتا ہے۔ معروف صحافی سید طلعت حسین اور ثاقب تنویر کی پروڈکشن میں بننے والی اس فلم کو گزشتہ ہفتے ہی پی ٹی وی اور کھوسٹ فلمز کے یو ٹیوب چینل پر ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔ ٹیلی فلم کی کہانی نرمل بانو کی تحریر کردہ ہے جبکہ بنیادی خیال عمر اصغر فاؤنڈیشن کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔
روشن راہیں کی کہانی زلیخا نامی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جس کا شوہر نوکری کے سلسلے میں ملک سے باہر ہے۔ وہ ایک پڑھی لکھی اور باشعور لڑکی ہے جو گھر بیٹھ کر اپنی تعلیم ضائع کرنے کے بجائے مقامی اسپتال کی فارمیسی میں نوکری کر رہی ہے۔ دیگر نوکری پیشہ خواتین کی طرح جہاں اسے روز مرہ کی بنیاد پر بہت سے چھوٹے چھوٹے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں اس کا سب سے بڑا مسئلہ اس کے علاقے میں ہونے والے ترقیاتی کام کے باعث بجلی کی تاریں کٹ جانے کی وجہ سے اس کے گھر تک جانے والے راستے میں اسٹریٹ لائٹس کا نہ ہونا ہیں۔
اس کے کام کے اوقات ایسے ہیں کہ اسے آتے آتے دیر ہو جاتی ہے اور یوں اندھیرے راستوں پر محض اپنے موبائل کے ٹارچ کی روشنی میں سفر کرنا اسے روز ایک نئے ڈر سے متعارف کرواتا ہے۔ نہ صرف وہ بلکہ اسی کے محلے میں رہنے والے ایک اور بچی جو کالج کے بعد کرکٹ اکیڈمی سے واپس آتے ہوئے اس کی ہمراہی بن جاتی ہے اسے بھی اسی اندھیری گلیوں سے گزر کر گھر کی راہ لینی پڑتی ہے۔
جب وہ اس بات کا ذکر اپنے گھر پر کرتی ہے تو اس کا شوہر اسے اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ وہ نوکری چھوڑ دے کیونکہ ویسے بھی وہ اسے باہر بلوانے والا ہے۔ زلیخا اپنے باس سے اوقات کار تبدیل کرنے کی درخواست بھی کرتی ہے لیکن کچھ مسائل کی وجہ سے ایسا ابھی نہیں ہو پاتا۔ زلیخا یونین آفس کے اسٹریٹ لائٹس لگوانے کی درخواست بھی دیتی ہے لیکن اسے محض انتظار کرنے ہی کہا جاتا ہے۔ روز روز کی اس پریشانی سے تنگ آ کر وہ استعفیٰ دینے کا فیصلہ ہی کرتی ہے لیکن جب اسے پتہ چلتا ہے کہ اس بچی کو بھی محض اسی وجہ سے کالج جانے نہیں دیا جا رہا تب وہ محلے کے دیگر لوگوں سے اپنے ساتھ یونین آفس جانے کی درخواست کرتی ہے۔
پہلے پہل تو اسے سب ہی منع کر دیتے ہیں بالا آخر بڑی بحث و مباحثہ کے بعد محلے والے مل کر اس کے ساتھ جاتے ہیں۔ اتنے لوگوں کو ایک ساتھ دیکھ کر کلرک بالآخر اس کی درخواست کو سنجیدگی سے لیتا ہے لیکن فوری عمل تب بھی نہیں ہوتا۔ بالآخر زلیخا زبردستی یونین کے افسر کے آفس میں گھس کر اس سے اپنی شکایت کہتی ہے اور تب سارے محلے والوں کی جانب سے پیش کی جانے والی عرضی اور زلیخا کی ہمت کی بدولت ان کے علاقے میں اسٹریٹ لائٹس لگ جاتی ہیں۔
بہت عام سے انداز میں کہی جانے والی اس خاص کہانی کو اس کے کرداروں نے بھی بخوبی نبھایا ہے۔ زلیخا کے کردار میں راستی فاروق نے بہترین اداکاری کی ہے اگر انھیں مستقبل کی ثانیہ سعید قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا دیگر اداکاروں میں ثانیہ سعید، علیزہ فاطمہ اور عدیل افضل شامل ہیں۔ فلم کی ہدایتکاری میں ایک بار پھر سرمد نے زندگی کو بھر پور انداز میں دکھانے کی کوشش کی ہے جو کہیں سے بھی بناوٹی نہیں لگ رہا ہے۔ اندھیری گلیوں میں سے گزر نا ہو یا ایک مڈل کلاس گھر کا کوئی کمرہ سرمد نے ہر فریم کو انتہائی خوبصورتی سے فلمایا ہے جو دیکھنے والی آنکھ کو بخوبی متاثر کر گیا۔
بلاشبہ روشن راہیں نوکری پیشہ خواتین کو پیش آنے والی کئی مشکلات میں سے ایک بڑی مشکل کی جانب نشاندہی کرتی ہے جسے دیگر افراد تو شاید یہ کہہ کر ہنسی میں اڑا سکتے ہیں کہ یہ بھی کوئی بات ہوئی لیکن اس حقیقت سے منہ نہیں موڑ سکتے کہ چاہے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا ہو یا نوکری کے اوقات کار میں دیر سویر کا ہونا جاب کے لیے باہر نکلنے والی خواتین کو چومکھی لڑائی لڑنی پڑتی ہے۔ جس کا احساس صرف چند دردمند دل ہی کر سکتے ہیں۔


