بلوچستان ایک بہترین سیاحتی مقام (قسط دوئم)
چلیں، مکران کوسٹل ہائی وے اور اس خطے میں پائے جانے والے قدرتی نظاروں، ہفت تلار (آستولہ جزیرہ) جیسے حسین و دلکش اور نئے جنم لینے والے زمین کے خوبصورت حصوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بلوچستان کے دیگر علاقوں کا ذکر کرتے ہیں۔ جس طرح ہم نے اپنی علمی بساط کے مطابق مکران اور اس سے ملحقہ علاقوں کی خوبصورتی اور سحر انگیز جگہوں سے پردہ ہٹاکر ان کی خوبصورتی کو اجاگر کیا اسی طرح لسبیلہ میں حب ڈیم، سمندر کی نیلی اور بے باک اور ہر نظر کو اپنی طرف کھینچتی ہوئی پانی کو بھی بے نقاب کیا کہ جسے دیکھنے والے دنگ رہ جائیں، جسے چھونے والے سمندر جیسے مست زندگی جینے کی خواہش کریں اور اسے محسوس کرنے والے اس نیلی اور بے پایاں سمندر کو اپنی محبوبہ بنانے کی خواہش کریں۔
محبوب کو سمندر سے تشبیہ دیں یا سمندر کو محبوب سے۔ دونوں محبت کرنے کے قابل ہیں۔
چلتے ہیں جھالاوان کی طرف جو خوبصورتی، دلکشی اور مہکشی کے ساتھ اپنی مثال آپ ہیں۔ چلتے ہوئے گاڑی کے ساتھ دوڑتی ہوئی ہریالی، سانپ نما خوبصورت مگر جان لیوہ روڑ جسے کبھی خونی شاہراہ کا نام دینا مناسب سمجھتا ہوں تو کبھی زہریلہ، حسین اور جان لیوا محبوب کا۔ وہ جسے آنکھیں دیکھیں تو پسند کریں، محبت بھری لہلہاتی کھیت و کھلیانوں کے ساتھ چلتا ہوا روڑ۔ خدا کی خدائی یاد دلائے بغیر نہیں رہ سکتی۔
لسبیلہ سے جھالاوان تک کے تمام علاقے، پہاڑی سلسلے اور وڈھ جیسے تاریخی شہر جہاں عطاء اللہ مینگل جیسے رہنما دفن ہے، اپنی عظمت کے منہ بولتا ثبوت ہے۔
جھالاوان موسم، خوبصورتی اور آب و ہوا کے لحاظ سے ایک منفرد علاقہ ہے جہاں موسم گرما بہار، ہریالی اور محبتیں لے آتی ہے اور سرما خوشکن مگر دل میں کپکپی طاری کرنے والی سرد ہواؤں کا گہوارہ بن جاتا ہے
جھالاوان خضدار سے قریباً 65 کلو میٹر دور ’مولا‘ کے علاقے میں پائے جانے والا آبشار جسے ’چٹوک‘ کہا جاتا ہے۔ سیاحوں کا ان جیسے دلفریب اور خوبصورت جگہوں سے بے خبر رہنا تعجب کی بات ہے۔ یہی نہیں بلکہ زیدی، ساسول، چارو مچھی کی ٹھنڈی آبشار، پیر عمر، پیر ابراہیم، اور بہت سے ایسے جگہیں موجود ہیں جو اپنے اصل میں جنت کے مانند انسانی عقل کو مسحور کرنے والے ہیں! سوال پیدا ہونے لگتا ہے کہ سیاح پاکستانی ہو یا غیر ملکی، کہی ڈالرز خرچ کر کے دنیا بھر کا چکر لگانے کو تیار مستعد کھڑے ہیں تو وہی سیاح بلوچستان میں پائے جانے والے ان مقامات تک آنے کو زحمت کیوں نہیں کرتے؟
خضدار اور اس سے ملحقہ علاقوں میں کہی دیگر ایسے نایاب اور انمول جگہیں پائی جاتی ہے جنہیں دیکھنے پریاں بھی کوہ قاف سے دوڑی چلی آئے۔
انہی دل لبھانے والی جگہوں میں ”کھوڑی“ ”پورالی جھیل“ اور ایک صاف شفاف بہتے پانی کی قدرتی آب و گیاں جھیل جسے مقامی زبان میں ”پاٹی آ جھل ’کہتے ہیں، شامل ہیں۔
چلتے ہیں بلوچستان کی روح، قلات کی طرف جو کبھی بلوچستان کی شان ہوا کرتا تھا۔
وادی قلات کوہ ہربوئی، سیا کوہ و دیگر پہاڑوں کے بیچ ایک خوبصورت شہر ہے جہاں کوہ ہربوئی کی سینہ تانے کھڑا پہاڑ، گرمیوں میں بھی چشموں سے برف جیسی ٹھنڈا، شھد جیسا میٹھا اور آنسوؤں جیسے شفاف پانی اور کپکپی پیدا کرنے والی ہوائیں انسانی روح کو سکون بخشتے ہیں۔
انہی مضافات میں گیڑھ بست جو اپنی صاف شفاف پانی اور آبشاروں کی بدولت ہر ذی روح کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکتی موجود ہے تو وہی پندران اور توک جو خوبصورتی، باغ اور میوہ جات کی شیرینی میں اپنی مثال آپ ہے، ٹھہرئیے! بولان کے بعد بلوچی دفتر ”نیمرغ“ کی سیر نا کرنا ایک سیاحتی اور تاریخی غلطی ہوگی۔ وہ نیمرغ جہاں شور، پارود، کوہ لوڑو اور گوان کے سرسبز درختوں کے گھنے سائے اور سو سالہ کھڑے تنے ایک الگ کہانی بیان کرتے ہوئے سیاحوں کی ارواح تک میں مسکراہٹیں بکھیرتے ہیں۔
دوگدر کی عجیب پتھریلی چٹان اور ’دوشئی‘ کے سانپ نما لمبے پتلے اور تیز بہتی آبشاروں کا کیا کہنے۔
دیوانہ جو کبھی سیاحوں اور پکنک منانے والوں کا مرکز ہوا کرتا تھا آج بھی بغیر پانی کے اپنی حسن و جمال کے ساتھ ایک خوف اور دہشت برقرار رکھی ہوئی ہے۔
دوسری جانب، قلات شہر کے وسط میں قلعہ میری کا تاریخی ملبہ جو اپنے زمانے کی سب سے بڑی عمارت ہونے کا شرف پاکر غالباً ہزار کمروں پر محیط ہوا کرتا تھا۔ انہیں نایاب تاریخی اور یادگار جگہوں پہ پکنک منانے کا اپنا الگ ہی رنگ رلیاں ہیں مگر خواہش ناتمام! سیاحوں کو بھلا کون ان دلکش قدرتی نظاروں اور ایک مظلوم قوم تک پہنچنے دے گا ورنہ اس سرزمین میں جتنے سیاحتی مقامات ہیں تو اتنے ہی تاریخی اور ماضی سے جڑے قلعے، جگہیں پائے جاتے ہیں۔
سیر و سیاحت کے شوقین حضرات یقیناً قلات سے نکلتے نکلتے اپنے نسل نو کیلے ہزار داستانیں لکھ چکی ہوں گی کہ جہاں قدرت نے لوگوں کو اتنی بہادری اور شجاعت بخشی ہے تو وہی ”اسکلو“ جیسے باغات و چشموں میں گری ہوئی علاقے، کوہ مرجان جیسے بلوچستان کے علم کو لہراتے ہوئے مسکراتے پہاڑ، سخی رمضان اور شیخ رجب جیسے بزرگوار اور پیر و مرشد تو گزگ جوہان جیسے بلوچی گدان سے بھی نوازا ہے۔
یہ سب دیکھ کر یقیناً اس سوال کا تسلی بخش جواب ذہن میں گھوجی ہوگی کہ ہمارے آبا و اجداد نے آخر قلات (کہکانان) کو ہی کیوں بلوچستان کا دارالحکومت چنا تھا۔
خوبصورتی، سرد ہوائیں، بردبار پہاڑی چوٹیاں اور قدرتی چشمے و میٹھے پھل اور میوہ جات۔ بس یہیں وہ راز ہے کہ قلات کبھی ایک ریاست اور مملکت خداداد بلوچستان کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا اور ریاست قلات کے تمام خوانین و حکمرانوں کا پسندیدہ شہر بھی ٹھرا تھا۔
(جاری ہے )


