میر واہ کی راتیں: ایک ریویو

کہتے ہیں کہ اچھی کتاب کو آپ نہیں ڈھونڈتے بلکہ وہ خود آپ کو ڈھونڈ لیتی ہے۔ کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ عموماً میں وہ کتابیں خریدتی ہوں جن کے مصنفین سے آگاہ ہوتی ہوں یعنی جو پاپولر فکشن رائٹرز میں شمار کیے جاتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کتاب کا سرورق اتنا خوبصورت ہوتا ہے کہ وہ میری توجہ کھینچ لیتا ہے تو کبھی کتاب کا عنوان اپنی کہانی خود کہہ

Read more

تبصرہ: شاکا

کہتے ہیں کہ انسانی دماغ اگر اپنی پوری صلاحیتیں استعمال کر لے تو وہ کون کون سے محیر العقول کارنامے انجام دے سکتا ہے اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ شاید اسی لیے کہتے ہیں کہ تخیل حقیقت سے زیادہ حقیقی بن کر سامنے آتا ہے۔ تخیل کو بیان کرنے کے لیے لفظوں کا سہارا لینا قرنوں سے چلا آ رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ قصے سننے سنانے کا رواج اور انسانی تاریخ کا چولی

Read more

ہم جیسی چاہتے تھے بنا لی ہے روشنی

فلم روشن راہیں۔ کبھی کبھی تیرگی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اپنے حصے کی شمع جلانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ ہر کسی میں یہ ہمت اور شعور بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے حصے کو روشن کر سکے اور جو ویسا کر پاتے ہیں دراصل وہ ہی تبدیلی کی بنیاد رکھ پاتے ہیں۔ یہ ہی پیغام ہمیں ٹیلی فلم ”روشن راہیں“ سے ملتا ہے۔ سرمد سلطان کھوسٹ کا

Read more

ودرنگ ہائیٹس: عشق پر زور نہیں

عشق۔ اگر پورا ہو جائے تو اپنی ہیئت بدل لیتا ہے اور اگر ادھورا رہ جائے تو ہر اس شخص کی زندگی کو ادھورا کر دیتا ہے جو اس عشق کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ جتنا عشق کے بارے میں پڑھنا آسان ہے اتنا ہی اسے برتنا مشکل ہے۔ ایسے ہی ہلاکت خیز عشق کی داستان ودرنگ ہائیٹس میں بیان کی گئی ہے۔ بظاہر دو گھروں اور ان کے مکینوں کے درمیان گھومتی یہ کہانی جذبات اور احساسات کا

Read more

اک پرندہ ابھی اڑان میں ہے

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کتاب پڑھتے ہوئے آپ کے ذہن میں اس کی تعریف میں یا اس پر تبصرہ لکھنے کے لیے ہزاروں جملے ترتیب وار سامنے کھڑے نظر آتے ہیں لیکن کوئی کوئی کتاب اپنے اندر اس قدر کاملیت لیے ہوتی ہے کہ آپ اس کی شان میں اگر کوئی قصیدہ بھی لکھ دیں تب بھی اس کا حق ادا نہیں کر پاتے۔ سر مستنصر حسین تارڑ کے لکھے ناول ”منطق الطیر، جدید“ کے بارے میں

Read more