پیپلز پارٹی مسلم لیگ نون کے امیدوار کو ووٹ دے گی، وفاقی کابینہ کا حصہ بننے میں دلچسپی نہیں : بلاول بھٹو


چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کی تشکیل یقینی بنانے کے لیے مسلم لیگ نون کے امیدوار کو ووٹ دے گی۔ تاہم وفاقی کابینہ میں شمولیت میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی کے پاس وفاقی حکومت بنانے کا مینڈیٹ نہیں ہے، اس لیے میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں ہوں۔ ‘

انھوں نے کہا کہ وہ ایشو ٹو ایشو اور اہم مواقع پر (ن لیگ کو) ووٹ دے گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم ایک کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں جو دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرے گی۔‘

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم 18 ماہ کے لیے ہم نون لیگ کے ساتھ حکومت میں رہے، جس پر میری جماعت کے لوگوں نے کافی اعتراضات اور ایشو اٹھائے ہیں۔ ‘

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’پاکستان کو مستحکم بنانا ہے، اسے بحران سے نکالنا ہے۔ پیپلز پارٹی پر پھر وہ وقت آ گیا ہے کہ ایک بار پھر پاکستا کھپے کا نعرہ بلند کریں۔ ‘

بلاول بھٹو نے کہا کہ مسلم لیگ نون کے پاس بھی اکثریت نہیں ہے جبکہ پی ٹی آئی نے کہہ دیا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی سے مذاکرات نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق اب ایسے میں پھر دوبارہ انتخابات ہوں گے جو ملک کے استحکام کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہمیں ملک میں سیاسی عدم استحکام بھی نظر آ رہا ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ ہم پاکستان کو اس بحران سے نکالیں۔ اور اس ملک کو وہاں لے کر جائیں جو اس ملک کے لوگوں کا حق ہے۔ ان کے مطابق‘ عوام مزید عدم استحکام نہیں چاہتی، وہ سیاستدانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ بحرانوں سے ملک کو نکالیں۔ ’

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم ملک میں دوبارہ استحکام لے کر آنا چاہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کا صدر، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی کے لیے اپنے امیدوار لانے کا اعلان

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اہم آئینی عہدوں پر اپنے امیدوار لانے کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی صدرمملکت، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کے لیے اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ نون لیگ کا اپنا فیصلہ ہو گا کہ کون وزارت عظمیٰ کا امیدوار ہو گا۔ تاہم ان کے مطابق ’میری خواہش ہے کہ جب صدارت کے انتخابات ہوں تو آصف زرداری صدر بنیں۔ ‘

ان کے مطابق وہ اس وجہ سے یہ نہیں کہتے کہ وہ میرے والد ہیں بلکہ اس وجہ سے کہ ملک جل رہا ہے، بجھانے کی صلاحیت آصف زرداری کے پاس ہے۔ وہ ایک بار پھر صدر بن کر ملک کو بحران سے نکالیں۔ ’


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32026 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments