پی ٹی آئی وفاق اور پنجاب میں مجلسِ وحدت المسلمین اور خیبرپختونخوا میں جماعتِ اسلامی کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی: رؤف حسن


پاکستان تحریکِ انصاف کے ترجمان رؤف حسن نے اعلان کیا ہے کہ پی ٹی آئی نے وفاق اور پنجاب میں مجلسِ وحدت المسلمین کے ساتھ حکومت بنانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں جماعتِ اسلامی کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے حکومت بنائی جائے گی۔

خیال رہے کہ اس وقت تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواران آزاد ہیں اور انھیں الیکشن کمیشن کی طرف سے حتمی نتیجے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے تین دن تک کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ضروری ہو گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو وہ آزاد حیثیت سے بھی اسمبلیوں میں بیٹھ سکتے ہیں۔ مگر اس صورت میں انھیں مخصوص نشستیں حاصل نہیں ہو سکیں گی۔

تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ارکان اسمبلی اب ان جماعتوں میں شامل ہو کر مخصوص نشستیں بھی حاصل کر سکیں گے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف اس وقت مخصوص نشستوں سے محروم ہو گئی تھی جب الیکشن کمیشن نے اس کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دے کر اس سے بلے کا نشان واپس لے لیا تھا۔ اس فیصلے کو سپریم کورٹ کی جانب سے برقرار رکھا گیا تھا۔

تحریک انصاف کے آزاد امیدوارن الیکشن کمیشن کے فارم 49 جاری ہونے کے بعد جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کر لیں گے۔ اسی طرح وفاق اور پنجاب میں تحریک انصاف کے آزاد اراکین مجلس وحدت مسلمین میں شامل ہو جائیں گے۔

تحریک انصاف اسمبلیوں میں اپنے پارلیمانی سربراہ کا بھی اختیار اپنے پاس رکھے گی کیونکہ سپریم کورٹ کے ہی ایک فیصلے کے مطابق جب عدم اعتماد یا اہم امور پر ووٹنگ کا عمل ہوتا ہے تو پھر اسمبلی اراکین کا پارلیمانی سربراہ کی ہدایات کا پابند ہونا ضروری ہے یعنی پارٹی سربراہ کی ہدایات پر عمل پیرا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔

یوں جماعت اسلامی اور مجلس وحدت مسلمین کی قیادت تحریک انصاف کو اپنی مرضی کے مطابق آگے لے کر نہیں جا سکے گی۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان دونوں جماعتوں نے اس ’فیور‘ کے بدلے تحریک انصاف سے کیا مطالبات کیے ہیں۔

عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے لیے علی امین گنڈا پور کے نام کی منظوری دے دی

عمران خان نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے لیے علی امین گنڈا پور کے نام کی منظوری دے دی ہے۔

نومئی کے واقعات سے متعلق درج ہونے والے مقدمات کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی اور سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے علی امین گنڈا پور کو کے پی کے کا وزیر اعلیٰ نامزد کیا ہے۔

جیل میں اس ملاقات میں موجود انگریزی روزنامہ ’دی نیشن‘ کے نمائندے علی حمزہ نے بی بی سی کو اس منظوری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے میڈیا کو یہ بتایا کہ ان کی جماعت کا ’پیپلز پارٹی نون لیگ اور ایم کیو ایم سے اتحاد نہیں ہو سکتا۔‘

عمران خان نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی سے ملک میں عدم استحکام بڑھے گا۔

علی حمزہ کے مطابق عمران خان نے کہا کہ سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی رؤف حسن سے ملاقات ہوئی انھیں تین جماعتوں کے علاوہ سب کو اکٹھا کرنے کا کہا ہے۔

اس گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ ’دھاندلی زدہ انتخابات کا معیشت پر برا اثر پڑے گا، کہتا رہا کہ ازاد اور شفاف انتخابات واحد حل ہیں۔ ‘

عمران خان نے مزید بتایا کہ دھاندلی کے خلاف اواز اٹھانے والی تمام جماعتوں کو اکٹھا کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’منی لانڈرنگ سنڈیکیٹ کو لانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ شریف خاندان ملک کا سب سے بڑا منی لانڈرر ہے۔ ‘

ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ڈالرز ہیں اور یہ ڈالر بیرون ملک بھیجتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ’جیل میں کسی بھی اعلی سرکاری عہدے دار سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 31961 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments