گڑ سے چینی اور چینی سے گڑ تک ہماری ترقی کا سفر


گڑ، شکر اور دیسی کھانڈ (براؤن شوگر) ہماری دیسی اور خالص اشیاء ہوا کرتی تھیں۔ چینی اپنے اندر موجود کیمیائی عناصر اور ان کے زہریلی اثرات کی وجہ سے کبھی بھی ان اشیاء کی متبادل نہیں ہو سکتی۔ یہ اشیاء مقامی سطح پر ہر گاؤں اور بستی میں تیار کی جاتیں تھیں۔ یوں ہر گاؤں اور قریہ ان کی پیداوار میں خود کفیل ہوا کرتا تھا۔ ہر خاص و عام اور امیر و غریب کو یہ قدرتی اشیاء با آسانی اور کم نرخ پر دستیاب تھیں۔

لیکن رفتہ رفتہ شوگر ملیں کہیں سے کھمبیوں کی طرح پھوٹنے لگیں۔ چونکہ یہ ملیں سرمایہ داروں کی ملکیت تھیں، اسی وجہ سے انہیں حکومتی سرپرستی بھی حاصل ہو گئی۔ ابتداء میں کسان اپنی گنے کی فصل ان ملوں کے حوالے کرنے کے لیے قطعاً راضی نہ تھا۔ تب باقاعدہ طور پر قانون سازی کے ذریعے ان کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنا گنا شوگر ملوں کو مہیا کریں۔ کسان بیچارہ مرتا کیا نہ کرتا! وقت گزرتا کیا اور دھڑا دھڑ گنا شوگر ملوں میں بھیجا جانے لگا۔ کمرشل میڈیا پر دیسی مصنوعات کی حوصلہ شکنی کی گئی اور ملوں / ملٹی نیشنل کمپنیوں کی چینی کی مدد سے تیار کردہ مصنوعات کو تشہیر کے ذریعے پروان چڑھایا گیا۔ شوگر ملوں کی بنی ہوئی چینی اور چینی سے بنی مصنوعات کو سٹیٹس سمبل بنا دیا گیا۔ نتیجتاً ہماری دیسی اشیاء کا استعمال کم سے کم تر ہونے لگا۔

رفتہ رفتہ گڑ اور شکر جیسی خالص اشیاء عوام الناس کی پہنچ سے بہت دور چلی گئیں اور ان کو تیار کرنے والے افراد بھی نایاب/ ناپید ہوتے گئے۔ عرصہ دراز گزرنے کے بعد جب ہمیں معلوم ہوا کہ یہ دیسی اور خالص اشیاء کس قدر صحتمندانہ تھیں اور چینی کا زیادہ استعمال کس قدر نقصان دہ ہے تو یہ دیسی اشیاء اپنی کم پیداوار کی وجہ سے ہماری قوت خرید سے دور نکل چکی تھیں۔ شوگر ملوں کی تیار کردہ چینی سستی اور یہ دیسی مصنوعات مہنگی ہو چکی ہیں۔

شہر تو کجا اب گاؤں / دیہاتوں میں کسان خود بھی ان خالص دیسی اشیاء سے محروم ہو چکے ہیں۔ اب ان خالص اشیاء کو مالی طور پر مستحکم اور خوشحال لوگ ہی باآسانی استعمال کر سکتے ہیں۔ عوام اب چینی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ گڑ، شکر اور کھانڈ ایک سٹیٹس سمبل بن چکی ہیں جن کو بڑے بڑے ہوٹلوں میں بطور سوغات پیش کیا جاتا ہے۔

ہماری ترقی کا سفر ابھی جاری ہے!

Facebook Comments HS