اولوغ بیگ – ایک عالم ترک حکمران


اولوغ بیگ 15 ویں صدی کا ایک معروف ماہر فلکیات و طبیعیات، ریاضی دان، سائنسدان اور ترک حکمران تھا۔

اس کا اصل نام مرزا محمد طورگائے بن شاہ رخ سلطان تھا۔ وہ 22 مارچ 1394 کو سلطانیہ شہر، ایران میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شاہ رخ سلطان امیر تیمور لنگ کے بیٹے تھے اور وسطی ایشیا کے حکمران تھے۔ ان کی والدہ گوہر شاد تھیں۔

شروع ہی سے ان کے گھر کا ماحول علمی تھا۔ وہ 11 سال کے تھے کہ انہوں نے قرآن مجید حفظ کر لیا۔ وہ بڑے خوش الحان قاری تھے۔ انہیں عربی، فارسی، ترکی، منگولی اور چینی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ انہوں نے قرآن مجید کی تفسیر بھی تفصیل سے پڑھی۔ بچپن ہی سے ان کی تعلیم و تربیت اچھی ہوئی۔ انہیں موسیقی، ادب اور شعر و شاعری سے بھی خاصی دلچسپی تھی۔ انہوں نے بڑے بڑے دیوان پڑھ رکھے تھے اور انہیں کئی اشعار زبانی یاد تھے۔ موسیقی کا بھی شوق تھا اور طنبور ساز بجانے میں ماہر تھے۔

وہ بچپن سے ہی کائنات پر غور وفکر کرتے۔ ستاروں اور آسمان کی طرف توجہ کرتے اور مزید جاننے کی خواہش ان کے دل میں موجزن تھی۔ انہیں اپنے باپ شاہ رخ سلطان کے دور حکومت میں بھی زمانے کے نامور اساتذہ سے کسب فیض کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران انھیں مشہور ”مراغہ“ کی تجربہ گاہ جانے کا اتفاق ہوا۔ یہاں سے علم فلکیات و طبیعیات میں ان کی دلچسپی کا آغاز ہوا۔

سمرقند اس وقت علم و ادب کا گہوارہ تھا جس سے انہوں نے استفادہ کیا۔ خاص طور پر انہوں نے اپنے زمانے کے نامور ماہر فلکیات اور ریاضیات ”غیاث الدین جمشید الکاشی“ سے کسب فیض کیا۔ استاد ان کی ذہانت پر بہت حیران تھے۔ اولوغ بیگ بچپن میں ہی تاریخی واقعات کے نہ صرف درست وقت بلکہ منٹ اور سیکنڈ کو بھی آسانی سے نکال لیتے تھے۔ ”قاضی زادہ رومی“ جو اپنے زمانے کے مشہور ماہر ریاضیات اور فلکیات تھے، ان کے زیر سایہ بھی انہوں نے ریاضی اور جیومیٹری میں مہارت حاصل کی۔

ان کے والد شاہ رخ سلطان جو کہ اس وقت وسطی ایشیا کے حکمران تھے، انہوں نے اپنے بیٹے اولوغ بیگ کو ”ماورا النہر“ کا گورنر منعقد کر دیا اور خود ہرات چلے گئے اور ہرات کو اپنا دارالحکومت بنا لیا۔ اس وقت اولوغ بیگ کی عمر 16 سال تھی۔ حکمران اور گورنر ہونے کے باوجود علم فلکیات میں ان کی دلچسپی جاری رہی۔ انہوں نے 39 سال گورنر شپ کی اور اپنے نام سے سمرقند اور بخارا میں مدرسے، رصدگاہیں اور تجربہ گاہیں قائم کیں۔ وہ خود بھی ان مدرسوں اور تجربہ گاہوں میں درس و تدریس سے منسلک رہے۔

1420 میں سمرقند میں انہوں نے اپنے نام سے رصدگاہ قائم کی۔ اس رصدگاہ کا افتتاح انہوں نے اپنی والدہ گوہر شاہ سلطان کے ہاتھوں سے کرایا۔ سمرقند کی یہ رصدگاہ پوری دنیا کے طلبہ اور علم کے پیاسوں کا مرکز تھی۔ یہ 15 ویں صدی کی اہم ترین رصدگاہ اور علم کا مرکز تھی۔ انہوں نے علم و آگاہی کے لیے خزانوں کے منہ کھول دیے تھے اور سمرقند میں تین منزلہ رصد گاہ بنائی جو 45 میٹر بلند تھی اور یہاں بہت سی ایجادات کیں۔ بطور خاص انہوں نے یہاں اپنے لیے کمرہ بنوایا۔

1437 میں انہوں نے ستاروں کا ایک جدول اور کیٹالاگ بنایا جو ٹیلیسکوپ کی ایجاد تک ستاروں کے جدول کی اہم ترین ایجاد تصور کیا جاتا ہے۔ اس جدول میں انہوں نے ستاروں کی حرکات و سکنات کے بارے میں روشنی ڈالی۔ اسے ”زائچہ اولوغ بیگ“ بھی کہا جاتا ہے۔ اس زائچے میں 48 ستاروں کی حرکات و سکنات درج ہیں۔ ستاروں کے بارے میں درج معلومات کے اس کتابچے نے صدیوں تک علم فلکیات کے طالب علموں کی رہنمائی کی۔ یہ اپنے دور کی اہم ترین دریافت تھی۔

علم فلکیات کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ”علم فلکیات کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی“ ۔

سمرقند میں قائم اس رصدگاہ میں سورج اور چاند ستاروں پر تحقیق کی جاتی تھی۔ انہوں نے شمسی سال کی طوالت کو 365 دنوں، چھ گھنٹوں، 10 منٹ اور آٹھ سیکنڈ کا حساب لگا کر بتایا۔

والد شاہ رخ سلطان کی وفات کے بعد انہیں حکمران بنایا گیا۔ اپنے دور حکمرانی میں انہوں نے علم خاص طور پہ علم ریاضیات، طبیعیات اور فلکیات کی خوب سرپرستی کی۔

بعد میں ایک کھدائی کے دوران آپ کی رصدگاہ سمرقند میں تلاش کی گئی جسے یونیسکو نے ”بین الاقوامی ورثہ“ قرار دیا۔

ان کی وفات 27 اکتوبر 1449 کو ہوئی اور ان کا مزار سمرقند، ازبکستان میں ہے۔

علم فلکیات، طبیعیات اور ریاضیات میں ان کی خدمات کے نتیجے میں چاند کی ایک مخصوص جگہ کو ان کا نام دیا گیا ہے۔ انہیں آج بھی نہ صرف وسطی ایشیا اور ترکیہ بلکہ علم فلکیات، طبیعیات اور ریاضیات کے میدان میں اہم ترین سائنسدان، ماہر فلکیات و طبیعیات اور ریاضی دان مانا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS

اسلم بھٹی

اسلم بھٹی ایک کہنہ مشق صحافی اور مصنف ہیں۔ آپ کا سفر نامہ ’’دیار ِمحبت میں‘‘ چھپ چکا ہے۔ اس کے علاوہ کالم، مضامین، خاکے اور فیچر تواتر سے قومی اخبارات اور میگزین اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ آپ بہت سی تنظیموں کے متحرک رکن اور فلاحی اور سماجی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

aslam-bhatti has 45 posts and counting.See all posts by aslam-bhatti