پارلیمانی جمہوریت میں ریاستی ڈھانچے کا علمی تجزیہ
انتخابات کے بعد حکومتی تشکیل کے حوالے سے جاری سرگرمیوں کے دوران پیپلز پارٹی کی فیصلہ کن حیثیت کے باعث سب نظریں زرداری صاحب پر لگی تھیں کہ اس دوران بلاول بھٹو کے اعلان نے تہلکہ مچا دیا۔ پارلیمانی جمہوریت میں ایسی معلق پارلیمان کوئی غیر معمولی بات نہیں اور اس کے نتیجے میں اقلیتی حکومتوں کا قیام بھی کوئی انہونی نہیں۔ البتہ پاکستان کے معروضی حالات میں جہاں دو تہائی اکثریت والی حکومتوں کے قدم بھی خلا میں معلق ہوتے ہیں وہاں بلاول بھٹو صاحب کا یہ بیان کہ پیپلز پارٹی حکومت میں شامل ہوئے بغیر نون لیگ کو حکومت سازی میں حمایت دے گی، عوام کے لئے خاصا ناقابلِ یقین تھا۔ عوام تو ایک جانب، کئی ٹیوی اینکرز اور تبصرہ نگاروں کے ردِ عمل سے یہ صورتحال ان کے لئے بھی یہ اعلان ناقابلِ فہم محسوس ہوا۔
تو آئیے عملی سیاست کو ایک طرف رکھتے ہوئے خالص علمی سطح پر ایک پارلیمانی جمہوریت میں ریاستی ڈھانچے کے خدو خال اور تقسیمِ کار کے سبق کا اعادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
عمومی طور پر ریاستی ڈھانچے کے تین ستون گنے جاتے ہیں، عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ۔ عدلیہ بظاہر اپنے الگ تشخص کے باعث الگ پہچان رکھتی ہے۔ عدلیہ اور انتظامیہ کے دائرہ کار میں نچلی سطح پر کئی معاملات باہم خلط ملط ہیں اور عدلیہ کی خود مختاری کے لئے عدلیہ کو انتظامیہ سے مکمل ناوابستہ کرنا ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے، لیکن اس پر گفتگو ایک الگ تحریر کی متقاضی ہے۔ لیکن پارلیمانی جمہوریت میں چونکہ انتظامیہ، یعنی حکومت، مقننہ، یعنی پارلیمان میں عددی اکثریت کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے اس لئے علمِ مدنیت سے نابلد افراد اکثر ان کو ایک دوسرے سے کنفیوز کر دیتے ہیں۔
سادہ الفاظ میں پارلیمانی جمہوریت میں عوام جو ارکانِ اسمبلی منتخب کرتے ہیں، ان کا بنیادی فریضہ اسمبلیوں میں قانون سازی کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے اسمبلیوں کا بنیادی دائرہِ اختیار مقننہ کا ہے۔ یعنی یہ مختلف امور پر قانون سازی کرتی ہیں۔ عام قوانین سادہ اکثریت سے منظور کیے جاتے ہیں جبکہ دستور میں ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
اس بنیادی دائرہِ کار کے علاوہ پارلیمانی جمہوریت میں اسمبلیوں کا ایک اور اہم کام ریاست کے تیسرے ستون یعنی انتظامیہ کا انتخاب ہوتا ہے۔ یہ انتخاب اسمبلی میں عددی اکثریت کے تعین سے کیا جاتا ہے۔ جب ایک دفعہ انتظامیہ کا انتخاب ہو جائے تو یہ انتظامیہ اپنے کام میں ارکانِ اسمبلی کی مرہونِ منت نہیں ہوتی، تاوقتیکہ کہ اسے اپنے امور کی انجام دہی میں کسی قانون سازی یا کسی قانون میں ترمیم کی ضرورت ہو۔ مقننہ کا انتظامیہ پر کنٹرول صرف مالیاتی بل (عرفِ عام میں بجٹ) کی منظوری کی حد تک محدود ہوتا ہے۔ ارکانِ اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز کا اجرا پارلیمانی جمہوریت پر ضیائی ظلمت کا شاخسانہ ہے جس کی کسی مستحکم اور درست جمہوریت میں کوئی گنجائش نہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ آج کل حقیقی جمہوریت کے بارے میں آگہی دینے کے دعویدار بھی بڑی آسانی سے عوام کو انتخابی امیدواروں سے ترقیاتی کاموں کا مطالبہ کرنے کا درس دے رہے ہوتے ہیں۔ خیر یہ ایک جملہ معترضہ آ گیا۔
یاد رہے کہ کئی جمہوریتوں میں انتظامیہ بھی براہِ راست انتخابات کے ذریعے تشکیل پاتی ہیں۔ جیسے امریکہ میں صدارتی نظام کے تحت صدر براہِ راست عوامی ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔ البتہ پارلیمانی نظام میں اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔
اس علمی تجزیے کے بعد امید ہے کہ بلاول بھٹو صاحب کے اعلان کو سمجھنا آسان ہو گا۔ اس اعلان کے مطابق، نون لیگ کی حکومت کے انتخاب میں پیپلز پارٹی ان کے امیدوار کو ووٹ دے گی، البتہ حکومت میں شامل نہیں ہوگی اسی طرح مستقبل میں ہونے والی کسی بھی قانون سازی کے موقع پر وہ کیس ٹو کیس کی بنیاد پر حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کرے گی۔ حکومت نون لیگ اور ان کے دیگر اتحادیوں کی ہو گی، جسے عددی برتری حاصل نہی ہو گی لیکن چونکہ کسی دوسری پارٹی کے پاس بھی یہ عددی اکثریت نہیں ہو گی تو ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اس وقت تک نہیں آ سکے گی، جب تک پیپلز پارٹی ان کے خلاف کسی پارٹی سے اتحاد نہیں کرتی۔ ایسی حکومت اقلیتی حکومت کہلاتی ہے اور پارلیمانی جمہوریتوں میں مختلف ممالک میں اس کی مثالیں موجود رہی ہیں۔
بلاول صاحب کی اس پیشکش کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اور آئندہ حکومت کی کیا شکل سامنے آتی ہے، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ لیکن پاکستان کے معروضی حالات میں اقلیتی حکومت کا یہ تجربہ کتنا کامیاب رہتا ہے اور یہ سیاسی استحکام میں کس قدر ممد و معاون ہو سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔


