اے دن محبت کے
ایمی تمہیں پتہ ہے چیز غلط ہونا اور ہوتا ہے اس کا استعمال غلط ہونا اور ہوتا ہے۔
کہنا کیا چاہتے ہو فیصل؟
جیسے فلم، ٹی وی، موبائل یہ سب چیزیں اتنی غلط بظاہر نہیں ہیں مگر ان کا غلط استعمال کیا جائے تو تم استعمال کو روکو گے یا اس چیز کو؟
میری کوشش وہی ہوگی جو تم سوچ رہے ہو میں اس غلط عمل کو روکوں گا۔
بس یار یہی بات ہے ایک بادشاہ تھا اس نے میدان جنگ کو بنیاد بنا کر شادیوں پر پابندی لگائی، وہ سمجھتا تھا کہ شادی کرنے کی وجہ سے نوجوان سپاہی جنگ کے عظیم جذبے کو ترک کر رہے ہیں سو اس نے شادی پر پابندی لگا دی۔ بادشاہ کے اس ظالم حکم نامے پہ ایک ویلینٹائن نامی پادری نے عمل کرنے سے انکار کیا اور لوگوں کی شادیاں چوری چھپے کرانے لگ گیا، بادشاہ کو اس حکم عدولی کا پتہ لگا غالب گمان ہے کہ اس نے فروری کی 14 تاریخ کو سر قلم کرا دیا۔ بادشاہ کے اس قہر کے بعد سے ویلینٹائن کو سینٹ کا خطاب ملا اور اس دن کو جنگ پہ فوقیت دینے کے اعزاز میں منایا جانے لگا تو بھائی جو مشہور ترین تاریخ ہے اس دن کے حوالے سے وہ انتہائی سادہ الفاظ میں یہی ہے۔
فیصل بات اتنی سادہ اور آسان ہے یقین نہیں آتا میں تو اسے اپنے عین شباب سے یومِ فحاشی کے نام سے جانتا ہوں، ایسے ایسے بینر لگے دیکھے ہیں کالج و یونیورسٹی کے آس پاس کہ پورے سال بھلے سے دماغ نہ جائے مگر اس دن فحاشی ہمیشہ ڈھونڈتا رہا ہوں۔ لیکن تم جو بتا رہے ہو یہ تو بہت عام سی بات لگی مجھے نہ اس میں کچھ معیوب لگا اور نہ ہی معاشرتی برائی۔
یار یہی تو بتا نا چاہ رہا ہوں کہ باقی جو باتیں وقت کے ساتھ شامل ہوتی گئیں وہ ایسا ہی ہے جیسے ہمارے دیگر تہواروں میں آئے دن شامل ہوتی رہیں اور اب ان تہواروں کا حصہ ہیں اور اگر وہ مذہبی تہوار ہوں تو ہمارے مذہبی لوگ اس کی سرکوبی کر رہے ہوتے ہیں اور اگر وہ قومی یا معاشرتی تہوار ہوں تو اس کی سرکوبی متعلقہ افراد کر ہی رہے ہوتے ہیں۔
تو تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ 14 فروری کو یوم ِ محبت منانا چاہیے؟
یار میں بس یہ کہہ رہا ہوں کہ حدود و قیود میں رہتے ہوئے کسی بھی دن کے منانے پہ کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے اور اس میں مذہب کا تڑکا نہ ہی لگائیں تو بہتر ہے کیونکہ جو اس دن کے آغاز کا سبب بنی اس میں مذہب کا استعمال تھا ہی نہیں۔
یار ویسے بھی تو کالج یونیورسٹی میں کو ایجوکیشن ہی ہے اس ملک میں وہاں لڑکوں کی غیر جنس سے دوستی سارا سال ہی رہتی ہے، ساتھ کھانا پینا سارا سال ہی چلتا رہتا ہے بس اس دن ضرور ہے الگ عینک لگا کر یہ سب دیکھنا۔
ویسے فیصل مجھے حیرت ہے کہ اصل مدعا اس دن کا شادیوں کو رائج کرنا تھا یہ تو انتہائی کوئی مولویانہ صفت والا دن ہے۔ اگر اس دن کی روح کو صحیح معنوں میں پروان چڑھایا جاتا تو اس دن شادیوں کا اعلان ہونا کوئی غیر مذہبی بات تو نہ ہوتی۔
ہاں اگر اس روح کے ساتھ رائج ہوتا تو مجھے یقین تھا کہ اس دن کی فضیلت بڑھ جاتی۔
یہ کیسی بات کر رہا ہے ہمیں غیر مذہبی چیز کو مذہبی ٹچ دینے کی ضرورت ہی کیا، اس سے اختلاف ہی بڑھے گا۔
بات تو تمہاری معقول ہے مگر اب کیا کر سکتے ہیں، اب تو یہ دن مذہبی طبقوں میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جاتی ہے۔
ویسے تمہیں پتہ ہے پچھلے برس ہندوستان میں سرکاری سطح پر اعلان کیا گیا تھا کہ کیونکہ بھارتی جنتا اپنے مذہب سے دور ہوتی جا رہی ہے اس لئے 14 فروری کو گائے کو گلے لگانے کا دن منایا جائے۔ Cow Hug Day
گائے نے ویسے بھی ہگ ہی دینا ہے اسے انگریزی میں 14 فروری کو یہ کہنے سے کیا وہ پیار سے ہگے گی؟
کس قسم کی بات کر رہے ہو یار ہگ کا انگریزی میں مطلب گلے لگانا ہے۔
آئے ہائے یہ کیسا لفظ ہے کم از کم کوئی لفظ بنانے سے پہلے یہی سوچ لیتے کہ کسی بڑی زبان میں اس کے کیا مطلب ہیں۔
اتنے میں بیرا آیا اور فیصل کو کہا کہ کل محبت کا دن ہے؟
فیصل نے کہا خان صاحب آپ سنگل ہیں؟
کہنے لگے ہاں۔
تو خان صاحب آپ کے لئے بُدھ ہی ہے۔
کیونکہ خان صاحب کی نظریں ایک ساتھ ہی غم و غصہ کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ یہ کہہ کر ہم اٹھ کھڑے ہوئے،
یار ایمی تمہاری وہ نظم جو اس دن پر تھی اس کا کیا بنا، مکمل ہوئی؟
ہاں یار مکمل ہو گئی ہے، چلو واپسی کے سفر میں سناتا ہوں۔
اے دن محبت کے، چین راحت الفت کے
جن دو دلوں پہ بھی پیار آ کہ ٹھہرا ہے
ان کے صبح و شاموں پر صرف تیرا پہرہ ہے
صرف تیری یادیں ہیں، صرف تیرا چہرہ ہے
لوٹ کے پھر دن آیا اور تیرے بن آیا
مشکل ہے مجھ کو بھی دفتر سے رخصت ملے
تم بھی کاموں میں ہو گم تم کو بھی نہ فرصت ملے
ہم وصل زادوں پہ یوں بھی ہجر جاری ہے
پھر تو عین ممکن ہے کہ دشت کے سرابوں پہ
اپنے سارے خوابوں پہ اب بھی رات طاری ہے
پر دیکھو غم مت کرنا آنکھ نم مت کرنا
یہ جو جان وصل ہے
ہجر سے ہی پھوٹتا یہ جذبہ دراصل ہے
لے کے تم کو بانہوں میں، عشق کی راہوں میں
تھام کے تمہارے ہاتھ
ایک دن تمہارے ساتھ
ہم بھی اس قابل ہوں گے
وصل میں داخل ہوں گے
بھاگ جاگیں گے بخت کے
اے دن محبت کے
چین راحت الفت کے


