الیکشن ڈیوٹی میں اصلاحات ناگزیر ہیں


مسلسل دو دن الیکشن ڈیوٹی کے قومی فرائض سرانجام دینے کے بعد جب آہستہ آہستہ تھکن اتری تو سوچا، سابقہ ایک روزہ مجسٹریٹ اول کے طور پر ہونے والے تجربات کی داستان رقم کی جائے۔ اس نظام میں اصلاح کی بہت ضرورت ہے مگر سوچتا ہوں کہاں سے شروع کروں۔ ان خواتین کے واقعات لکھوں جو مردوں کے ہجوم میں دھکے کھاتی صبح سے رات تک اپنے پولنگ اسٹیشن کا سامان اکٹھا کرتی رہیں اور اگلے روز سارا دن ڈیوٹی کے بعد ، رات کے دو دو بجے تک آر او آفس میں ریزلٹ جمع کروانے ایک طویل لائن میں یوں کھڑی رہیں کہ ان کے پیچھے ایک جم غفیر اپنے اپنے پولنگ اسٹیشن کا سامان لیے چلا آ رہا تھا۔

خیر الیکشن ڈیوٹی وہ چیز ہے جہاں خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ ایک جیسی مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔ گھر کے قریب تو دور، اگر آپ کی ڈیوٹی آپ کے اپنے شہر میں لگ جائے تو شکر ادا کیجیے۔ الیکشن سے ایک روز قبل تقریباً آدھے شہر کے پولنگ اسٹیشن کے عملے کو ایک ہی بلڈنگ سے سامان لینے کے لیے بلوا لیا جاتا ہے جہاں اس رش میں الیکشن کا سامان حاصل کرنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہیں سے آپ کو سامان کے لیے گاڑی اور سپاہی مہیا کیے جاتے ہیں۔ جنہیں لے کر آپ اپنے پولنگ اسٹیشن پہنچ کر سیٹ کرواتے ہو۔ اب اس سامان کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے۔ یوں اس سارے عمل میں تقریباً پورا دن گز ر جاتا ہے۔

اگلے دن صبح جلدی آ کر آپ بقیہ حساس سامان کھول کر پورے آٹھ بجے سے پانچ بجے تک مسلسل پولنگ کرواتے ہو جس میں کھانے پینے کا کوئی وقفہ نہیں ہوتا۔ پولنگ کے فوراً بعد ڈیڑھ دو گھنٹے تک ووٹ گنے جاتے ہیں اور ایک رف ریزلٹ بنتا ہے۔ اس کے بعد قومی اور صوبائی نشستوں کے الگ الگ فارم پینتالیس ہی نہیں بلکہ اس کا دوسرا حصہ فارم چھیالیس بھی بنتا ہے جو ایک طرح کی بینک کی کیش بک ہوتا ہے جس میں اوپننگ سے لے کر کلوزنگ بیلنس کا حساب بھی دینا ہوتا ہے، جو بچنے والے بیلٹ پیپرز کی کتابیں ہوتی ہیں۔

پھر فارم پینتالیس کی ایک ایک کاپی تمام امیدواروں کے نمائندوں کو دے کر ایک کاپی اسٹیشن کے باہر چسپاں کی جاتی ہے اور تین چار کاپیاں ریکارڈ کے لیے بنتی ہیں۔ کاربن کی مدد سے بنانے میں اکثر کی چھپائی دھندلی ہوجاتی ہے تو پھر لکھنا پڑتا ہے۔ اس دفعہ یہ فارم الیکشن کمیشن کی ایپ پر اپلوڈ بھی کرنے تھے۔

اس کے بعد کتابچے کی مدد سے سارا سامان، الگ الگ لفافوں کے نمبروں کے حساب سے تینوں تھیلوں میں پیک ہوتا ہے۔ اس وقت تک پولنگ عملہ اتنا تھک جاتا ہے کہ یہ کام نمٹاتے نمٹاتے مزید کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اس کے بعد سارا سامان آر او کے اسی دفتر میں جمع کروانے کے لیے گاڑی میں ڈالا جاتا ہے جس کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔ اب پولنگ عملہ پریزائیڈنگ افسر سے چھٹی کا جھگڑا شروع کر دیتا ہے کہ باقی کام آپ خود کرو۔

پہلی دفعہ الیکشن ڈیوٹی دینے والے کو اگر پریزائیڈنگ افسر بنا دیا جائے تو اس کے لیے کام ختم کروانا واقعی مشکل ہو جاتا ہے اور ریزلٹ میں تاخیر ہوتی ہے۔ الیکشن سے قبل جو ٹریننگ کروائی جاتی ہے اس میں پریکٹیکل سے زیادہ تھیوری پر توجہ دی جاتی ہے۔ اس دفعہ بھی بہت سے دوستوں کو فارم چھیالیس بنانے میں مشکلات کا سامنا رہا اور وہ رات دو بجے سے چار بجے تک کام نمٹا کر آر او آفس ریزلٹ جمع کروانے پہنچ سکے جہاں اتنے رش میں وہ صبح آٹھ بجے تک فارغ ہوئے۔

دوسری اہم بات یہ کہ سب کی قوت مدافعت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ایک دن قبل سامان لے جاکر پولنگ اسٹیشن سیٹ کرنے کی مشقت کے بعد اگلے دن مسلسل سولہ سترہ گھنٹے کا کام، کسی کے بھی اعصاب ہلا کر رکھ سکتا ہے۔ واضح رہے اس کالم کا مقصد پولنگ عملے کو در پیش آنی والی مشکلات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو چند تجاویز دینا مقصود ہے۔ براہ مہربانی اسے کسی سیاسی مداخلت یا ریزلٹ میں گڑبڑ جیسے مسائل کے تناظر میں نہ لیا جائے۔

الیکشن کے عملے کی دو ٹیمیں بنائی جائیں جن میں ایک کا کام سامان لانا اور لے جانا ہو جب کہ دوسری صرف پولنگ کروانے کے بعد ریزلٹ بنانے پر مامور ہو۔

سب کو ایک جگہ سے سامان لینے اور ریزلٹ جمع کروانے کی بھیڑ کے بجائے، بیس تیس پولنگ اسٹیشنز کے گروپ بنوا دیے جائیں جہاں صرف انہی کو ڈیل کیا جائے اور لوگوں کے کئی گھنٹے محض باری کے انتظار میں ضائع نہ ہوں۔

موجودہ مہنگائی میں دونوں دن پولنگ عملے کو اپنی فیس سے ہی کھانے پینے اور آمدورفت کا خرچہ برداشت کرنا پڑتا ہے تو عملے کی فیس میں بھی اضافہ کیا جائے۔

بہت سے جگہوں پر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی پولنگ میں مداخلت جیسے واقعات اب بھی سننے گئے ہیں تو ان کا سدباب کیا جائے۔

ختم شد

Facebook Comments HS