کیا ویلنٹائن ڈے منانا جائز ہے اور یومِ حیا؟


جمعہ کی تقریر کے دوران کسی شخص نے مولانا سے مسئلہ پوچھ لیا کہ چند روز بعد ویلنٹائن کا تہوار آنے والا ہے جس میں آوارہ اور عیاش جوڑے ایک دوسرے کو محبت کے اظہار کے طور پر پھول پیش کرتے ہیں، جس کا مقصد ہوتا ہے کہ پھول وصول کرنے والی خاتون ہر طرح کی عیاشی کے لیے تیار ہے اور دستیاب ہے، کیا اس قسم کا تہوار منانا شریعت کی رو سے جائز ہے؟

مولانا تو سوال سنتے ہی غصے سے لال پیلے ہو گئے اور پورے 20 منٹ کا لیکچر یورپ کی بے غیرتی اور بے حیائی پر جڑ دیا۔ فرمانے لگے

” اس دن کو منانا حرام ہے اور حرامی لوگ ہی یورپ کی تقلید میں اس روز حرام زدگیاں، شراب نوشی اور عیاشی کرتے ہیں۔

یورپ والے تو اتنے کمینے ہوتے ہیں کہ جو بھائی بہن کا بھی لحاظ نہیں رکھتے، بے حیاؤں کی طرح ننگے گھومتے ہیں۔ شراب خانوں اور ریڈ ایریاز میں ایک دوسرے سے آزادانہ سیکس کرتے ہیں اور ساحلوں پر ننگے لیٹے ایک دوسرے کے وجود کو تاڑتے ہیں وغیرہ وغیرہ ”

سوال پوچھنے والا اور دوسرے مقتدین مطمئن ہو گئے کہ مولانا صاحب چھا گئے اور کتنی زبردست وضاحت فرمائی ہے۔ اب سبحان اللہ اور بیشک بیشک کی صداؤں میں بھلا کون سوال کرنے کی جرات کرے؟

مولانا سے سوال پوچھنا تو بنتا ہے نا!

جناب یورپی کلچر کے متعلق آپ کو اتنی ساری جانکاری کیسے ہے اور آپ کی اس قسم کی معلومات کا منبع یا ذریعہ کیا ہے؟

آپ ٹھہرے دنیا بیزار اور سادہ سی زندگی جینے والے متقی و پرہیزگار انسان آپ کو بھلا کیسے پتا کہ یورپ میں لوگ ننگے گھومتے ہیں اور ہر وقت سیکس میں مگن رہتے ہیں؟

ساحلوں والے مناظر کا آپ کو کیسے پتا ہے؟

حیرت ہے اتنی معلومات تو شاید یورپ میں رہنے والے باشندوں کو بھی نہ ہو جتنی آپ کو ہے، مطلب دال میں کچھ تو کالا ہے؟

یورپ سے نفرت بھی ہے اور ان کے متعلق معلومات بھی خوب ہیں یہ تو کھلا تضاد نہیں؟
کہتے ہیں کہ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔

اپنے بھائی بندوں کے متعلق کیا خیال ہے جو نجانے کتنے اللے تللے کر کے یورپ جا بسے ہیں تاکہ ان کی معیشت بہتر اور رہن سہن اچھا ہو سکے؟

پھر تو وہ بھی وہی کچھ کرتے ہوں گے جو وہاں کا چلن ہو گا؟ ہمارے بڑے بڑے علماء کرام کے بچے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مسلم ممالک کی بجائے یورپ جانے کو ترجیح دیتے ہیں اور پڑھ لکھ کے وہیں رہنا پسند کرتے ہیں کیا انہیں یورپ کا ننگا پن، حرام زدگیاں اور آزاد سیکس کا سا ماحول دکھائی نہیں دیتا؟

کیا وجہ ہے سب کچھ جاننے اور دیکھنے کے باوجود بھی وہ یورپ میں زندگی بسر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں؟

ہمارے نامی گرامی علماء کرام تو اکثر تبلیغ کے نام پر یورپ کا طواف کرتے رہتے ہیں، اس کے علاوہ علامہ طاہر القادری، جاوید احمد غامدی اور فرحت ہاشمی کے علاوہ ساشے پیک ننھا پروفیسر بھی یورپ کو پیارا ہو چکا ہے۔

ہمارے علماء کرام ایک متفقہ فتویٰ جاری کیوں نہیں کرتے کہ اس قسم کی غلاظتوں سے بھری سرزمین پہ ایک مسلمان کا پاؤں ٹکانا ہی حرام ہے، جہاں دن رات سیکس ہوتی ہو اور لوگ ننگے گھومتے ہوں وہاں ہم ایسے باحیاؤں کا کیا کام ہے؟ ہم ایسوں کا ایسی پلید جگہوں پر جانا، قیام کرنا یا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا سب حرام ہے اور جو کوئی بھی وہاں ٹکا ہوا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ لوگوں کو بتائیں کہ جو ہمارے بھائی بندے وہاں روزی روٹی کما کے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں وہ سب حرام کما رہے ہیں۔ اور لگے ہاتھ سعودی عرب کا قضیہ بھی نمٹا دیں کہ جو آئے روز مقدس سرزمین پر کفریہ تہوار منانے کی اجازت دیتے رہتے ہیں۔

یہ تو فقط چند نام ہیں جو کہ واضح ہیں، گوگل کی مدد سے سرچ کر لیں تو نجانے ہمارے کتنے اکابرین مخفی طور پر یورپ میں آباد ہیں۔

اب رہا ویلنٹائن کا تہوار منانا چاہیے یا نہیں؟

تو جناب آپ کی مرضی ہے یورپ والوں نے کون سا ہمیں مجبور تھوڑے کیا ہے یا وہ ہر ویلنٹائن ڈے پر ہماری سرزمین پر پھولوں سے لدی ریڑھیاں کھڑی کر کے رات کے اندھیرے میں کہیں غائب ہو جاتے ہیں؟

ہاں حیرت اس بات پہ ضرور ہوتی ہے کہ اس دن ہمیں یوم حیا منانے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔

لگتا ایسا ہے کہ جیسے انتہا کے مذہبی ہونے کے باوجود بھی ہم میں حیا کا فقدان پایا جاتا ہے۔ اسی لیے تو جماعتی صالحین ہمیں حیا کا یہ دن خاص طور پر یاد دلاتے ہیں۔

ویسے ویلنٹائن ڈے بھی سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں منایا جاتا ہے لیکن یوم حیا منانے کا تصور ہمارے سوا اور کہیں بھی نہیں ہے۔

مسلم ممالک میں بھی یوم حیا منانے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اب تو ہمارے روحانی مرکز یعنی حجاز مقدس میں بھی ویلنٹائن ڈے کے علاوہ دنیا بھر میں سیلیبریٹ ہونے والے تہوار انتہائی شان و شوکت سے منائے جاتے ہیں۔

آج کی دنیا کے مسائل ہی کچھ اور ہیں جنہیں مستقبل کی فکر ہوتی ہے وہ ہمیشہ آگے کی طرف دیکھتے ہیں، ابھرتے رجحانات کا بغور جائزہ لیتے رہتے ہیں اور درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں۔ دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے جبکہ ایک ہم ہیں جنہیں دوسروں کی زندگیوں میں سوائے تاک جھانک کے کوئی اور کام ہی نہیں ہے۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ مدر ڈے، فادر ڈے یا ٹیچر ڈے یا ہر وہ تہوار جو ہماری نظر میں اچھا ہے جنہیں ہم بڑھ چڑھ کے مناتے بھی ہیں وہ سب بھی مغرب ہی کی دین ہیں۔

سوچنے والی بات یہ ہے کہ پھر ہمارا کیا ہے؟
ہاں یوم حیا ہے نا!

Facebook Comments HS