کیا اساتذہ کی ذلت نوشتہ دیوار ہے؟


میرے عزیزو الیکشن دو ہزار چوبیس نے پورے ادارے کی انتظامیہ کو ننگا کر دیا ہے اس قدر بدنظمی اور خواری کہ لگتا تھا ہم محشر میں ہیں اور ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں میری طبیعت اس قدر بگڑی کہ کئی گھنٹوں تک ہسپتال میں ہوش و حواس سے عاری پڑا رہا۔ اور ادویات کے زیر اثر ابھی تک روداد ستم رقم کرنے سے قاصر ہوں مگر ابھی اگر ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں احتجاج درج نہ کرایا تو اساتذہ کی تمام تر کمیونٹی کے ساتھ زیادتی ہوگی اب آتے اصل خواری کی داستان کی طرف

ضلع چکوال میں ناتجربہ کار اور نا اہل آر او کو تعینات کیا گیا جس نے ازلی نالائقی، بددیانتی اور کام چوری کی داستان رقم کی، زیادہ تر تعیناتیاں سفارش پر کیں، میرٹ کی دھجیاں اڑائیں۔ اس الیکشن میں ضلع چکوال میں سب سے بڑی بداخلاقی خواتین اساتذہ کے ساتھ برتی گئی جن کی ڈیوٹیاں ساٹھ ستر کلومیٹر دور مردانہ سٹیشنز پر لگائی گئیں، سات تاریخ کو آر او نے حکم دیا کہ تمام پریزائیڈنگ آفیسرز عملے سمیت دس بجے ڈی سی آفس پہنچ جائیں ورنہ تادیبی کارروائی عمل میں لائی جاوے گی۔

اب اس بے تکے حکم نامے کے نتیجے میں ڈی سی آفس میں تل دھرنے کو جگہ نہ بچی کئی خواتین دیگر تحصیلوں سے آئیں اور سارا دن بھوکی پیاسی قطاروں میں لگی خوار ہوتی رہیں کئی خواتین کو میں روتے دیکھا یاد رہے یہ سب پڑھی لکھی اور باشعور خواتین تھیں جب کہ الیکشن کمیشن کے تعینات کردہ تمام کلرک یقیناً میٹرک پاس ہی ہوں گے لہذا انھوں نے ان کی بے عزتی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا سارا دن بھوکا پیاسا رہنے اور دھکے کھانے کے بعد جب روانگی کا وقت ہوا تو پھر فوجی بھائیوں کے ہتھے چڑھ گئے جن کی مہربانی سے تین گھنٹے کا سفر نو گھنٹوں میں طے ہوا صبح ساڑھے تین بجے جب پولنگ سٹیشن پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ سکول میں صرف دو کمرے تین کرسیاں اور دو ٹیبل موجود ہیں اور واش روم ناقابل استعمال۔

خیر مرتے کیا نہ کرتے، جیسے تیسے اپنی مدد آپ کے تحت الیکشن کنڈکٹ کروایا اور اس دوران میں نے خواتین اور مرد اساتذہ کو جاں فشانی اور دیانت داری سے کام کرتے دیکھا تو حوصلہ بلند ہوا۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوا کہ موبائل سروس بند کر دی گئی اور یوں خواتین کا گھر والوں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ رات نو بجے واپسی کا سفر شروع ہوا تو ہمیں اندازہ ہوا کہ اصل ذلالت اب شروع ہوئی ہے۔ ساری رات سکیورٹی کے نام پر شدید سردی میں سڑک پر پابند رکھا گیا صبح سات بجے ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں انٹر ہوئے تو بیشتر اساتذہ کی حالت غیر ہو چکی تھی بہت سی خواتین گھر والوں سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے ازحد پریشان تھیں کئی خواتین کے والدین اور بھائی دیوانہ وار گاڑیوں میں اپنی ماؤں بہنوں کو تلاش رہے تھے۔

اس قیامت خیز منظر پر دل خون کے آنسو رو رہا تھا کہ جانے کس گناہ کی پاداش میں ہمارا جنم اس دھرتی پر ہوا ہے نہ جانے یہ ذلت اساتذہ کے مقدر میں کیوں لکھ دی گئی ہے؟ رزلٹ جمع کروانے کی قطار الگ تھی اور سامان جمع کروانے کی الگ۔ دو راتوں کا رت جگا لیے بھوکے پیاسے سردی سے ٹھٹھرتے مرد اور خواتین اساتذہ کا سٹیمنا جواب دے چکا تھا مگر کوئی بد بخت مائیک پر اعلان کر رہا تھا لمبی لائن بناؤ ورنہ فوجی بھائی اور پولیس آپ کی تواضع کے لیے موجود ہے۔

چار و ناچار لائن میں لگے تو اچانک دھکم پیل شروع ہو گئی اور خواتین اساتذہ کو مردوں نے تمام تر قوت کے ساتھ پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں ایک پروفیسر خاتون نیچے کھڑے مردوں کے اوپر گر گئیں اور پھر اس ذلت و رسوائی پر بلک بلک کے رونے لگیں دل پارہ پارہ تھا مگر ہم لٹے پٹے مسافروں کے دامن میں سوائے حرف تسلی کے کچھ نہ تھا۔ کوئی دو گھنٹے کی تذلیل کے بعد سامان جمع کرا کے میں پیچھے ہٹا تو حواس سے بے گانہ ہو گیا۔

ریسکیو 1122 نے ہسپتال پہنچایا پانچ گھنٹوں کے بعد حواس بحال ہوئے تو اہل خانہ کی جان میں جان آئی۔ میں نے اس محاذ سے زندہ لوٹ آنے پر خدا کا شکر ادا کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ پورے پاکستان کی اساتذہ تنظیمیں کہاں سوئی پڑی ہیں؟ کیا یہ ذلت نوشتہ دیوار ہے؟ جس کو ہم نے خوش دلی سے قبول کر لیا ہے یا پھر ہم بزدل ہیں؟ اگر بزدل ہے تو خدارا آج کے بعد ہم کلاسوں میں کربلا کے قصے نہیں سنائیں گے ہم حق کے لیے لڑنے کے بھاشن نہیں دیں گے۔ بل کہ ہم تسلیم کریں گے کہ ریاست ہمیں جس طرح چاہے ذلیل کرے جس قدر ہماری تذلیل کرے ہمیں خوش دلی سے قبول ہے کیوں کہ ہم اساتذہ ہیں اور شرافت ہمارا وصف ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “کیا اساتذہ کی ذلت نوشتہ دیوار ہے؟

  • 15/02/2024 at 6:53 شام
    Permalink

    آپ کی تحریر نے کٸ اساتذہ کی ترجمانی کی۔

Comments are closed.