”غروب شہر کا وقت“ اسامہ صدیق کا منفرد ناول


پتہ نہیں اسامہ صدیق کا ناول ”غروب شہر کا وقت“ ہاتھ میں تھامتے ہی رگ و پے میں ایک گہرا دکھ اور یاس سا کیوں اترنے لگتا ہے۔ شاید سینکڑوں سالوں سے بار بار بسنے اور اجڑنے والا یہ نوسٹلجیائی سی کیفیات کا حامل دلبر سا شہر جسم و جان سے روح کی طرح ہی چمٹا ہوا ہے کہ اس کے زوال بارے کوئی بھی بات انی کی طرح کلیجے میں اتر جاتی ہے۔

ابھی کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا، یہی کوئی سات آٹھ سال پہلے کی بات ہوگی یہ انگلش میڈیم نوجوان اپنی پہلی تخلیق Snuffing Out The Moon کے ساتھ ادبی افق پر ایک طمطراق کے ساتھ نمودار ہوا۔ ایک بڑے کینوس کا ناول جو زمانوں پر محیط تھا۔ کتاب کی پذیرائی ایلیٹ کلاس کے حلقوں میں شاندار انداز میں تھی۔ تاہم کتاب کی مقبولیت کے پیش نظر اس کا ترجمہ اردو میں کروانے پر عام لوگوں اور جہلم بک کارنر کے شاہد برادران کا بھی بڑا اصرار تھا۔ ”چاند کو گل کریں تو ہم جانیں“ کے عنوان سے عاصم بخشی کے اردو ترجمے نے اسے شہرت کی بلندی پر پہنچا دیا، یوں کہ ڈیڑھ دو ماہ میں ہی پہلا ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ گیا۔ جولیس سیزر کی اس کہاوت ”میں آیا میں نے دیکھا میں نے فتح کر لیا“ جیسی صورت سے یقیناً اسامہ نے حظ اٹھا یا ہو گا۔

جلد ہی ”غروب شہر کا وقت“ کے عنوان سے اسامہ کی دوسری اردو کی تخلیق منظر عام پر آئی، جسے بڑے منفرد انداز میں لکھا گیا تھا۔ یہ نئے رنگ و آہنگ لیے ہوئے تھی۔ ناول کی بنت تمثیلی کہانی کی صورت میں کی گئی ہے۔ کہیں آرٹ کہیں شاعری اور کہیں قدیم داستان گوئی کی کلاسیک سے معنی خیز مفہوم دیے گئے ہیں۔ کتاب کی اردو پڑھنے والے حلقوں میں خاصی پذیرائی ہوئی۔

ہمارے بے حد ہر دل عزیز مستنصر حسین تارڑ کتاب پر اپنی قیمتی رائے کے اختتام پر اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

”اسامہ بھی جوناتھن لیونگ سٹون Jonathan Livingston Seagull کی مانند پرواز کی طے شدہ حدوں سے باہر جا نا چا ہتا ہے۔ ناول کی جو مقید حدود ہیں ان کو بھی عبور کرنا چا ہتا ہے“ ۔

ممکن ہے کہ کچھ لوگوں نے اس ناول کو پڑھ رکھا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ کی نظر سے نہ گزرا ہو۔ پہلے ذرا سی تفصیل دے دوں۔ یہ دراصل امریکی مصنف رچرڈ بیک کا شہرہ آفاق ناول ہے۔ جس کے کردار بگلے کو جوناتھن لیونگ سٹون کا نام دیا گیا ہے، جس کے اڑنے کے انداز اور طریق سے لگتا ہے کہ وہ جیسے کائنات کی تسخیر چاہتا ہے۔ باقی بگلوں سے سبقت کا خواہاں ہے۔ آزادی چاہتا ہے اور فضاؤں کی ہر حد کو پار کرنے کا متمنی ہے۔

اب حق سچ کی بات اگر کی جائے تو وہ یہی ہے کہ آسمان کو تھگلی لگانے کو تو ہر کوئی مرا جا تا ہے۔ کون ہے جو نہیں چاہتا کہ اس کی تخلیق انفرادیت کی حامل ہو مگر کتنوں میں یہ ذہنی استعداد ہے۔ کتنوں کے پاس علم و آگہی کا وہ شعور ہے جہاں نگاہ کو بلندی نصیب ہوتی ہے۔ مروجہ طریقوں سے ہٹ کر نئی راہوں کو کون کھوجتا ہے؟ یوں بھی ناول کی مقید حدود کے کچھ معنی نہیں۔ بدلتا وقت اور نئے رجحانات بہتے پانیوں کی طرح اپنے راستے بدلنے پر قادر ہوتے ہیں۔

اس ناول کو ہی دیکھیے جسے 1970 میں لکھا گیا۔ رچرڈ چونکہ امریکی ایر فورس میں فائٹر پائلٹ تھا۔ ناول کے اس خیال کو اس نے نئے رنگ و آہنگ کا جامہ پہنایا۔ تمثیلی صورت دی۔ اپنے آرٹسٹ رسل سے کہا کہ اس کی یعنی بگلے کی آنکھوں کی چمک، اس کے اڑان بھرنے کی ہمک، اس کے انداز میں ایک تڑپ، اس کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ کی گھن گرج میں اس کے سب عزائم کی عکاسی ہو۔ تو جان لیجیے مصنف اپنے ہاتھ اور دماغ کے اظہاریے کے ساتھ ایک اور بھی طاقتور موڈ چاہتا تھا جو اس کی سوچ کی زیادہ کھل کر نمائندگی کرے۔

تو پھر بھئی لوگ منفرد بننے کی آرزو رکھتے ہیں نا، اور وہ بھی اسامہ جیسے مضطرب اور بے چین بندے جو اپنے شوق و اضطراب کی تسکین کے لیے عراق کے 55 اور 60 ڈگری درجہ حرارت میں اس کے تپتے صحراؤں اور بابل کے کھنڈرات میں تاریخ کھوجتے پھرتے ہیں۔ تو میسوپوٹیمیا پر ناول لکھتے ہوئے اگر وہ حدود و قیود کی خلاف ورزی کرے تو جائز ہے۔

جوناتھن لیونگ سٹون سیگل 1970 میں چھپا تھا۔ یقیناً بہت سے پاکستانی ادیبوں نے اسے پڑھا ہو گا کیونکہ مجھے اسی طرح کا ایک اردو ناول لگ بھگ اسی زمانے میں نظر سے گزرا یاد پڑتا ہے۔ نام میں بھولے بیٹھی ہوں بہت کوشش پر بھی یاد نہیں آ رہا ہے۔

” غروب شہر کا وقت“ پڑھتے ہوئے اس کی جدت کا احساس ہوتا ہے۔ ہاں مگر بے ترتیبی کا عنصر میری آنکھ کو محسوس نہیں ہوا۔ ”بکھری بکھری زندگی ٹکڑا ٹکڑا کہانیاں“ اور ٹکڑوں میں بتائی زندگی ذات کی تلاش اور اس کی دریافت کے بیانئے کی دلچسپ کاوش ہے۔

اب اور تب کے دو لفظ حال اور ماضی میں جانے کے لیے کا فی سمجھے گئے ہیں۔ یہ بہت مانوس ابواب ہیں۔ ہمارے وقتوں کے گھر اور گلی کوچے ان میں رہنے والے لوگ، ان کے طور طریقے، عادات و اطوار، بودوباش کے انداز کافی ملتے جلتے تھے جنہیں پڑھتے ہوئے اپنا بچپن اور جوانی جھانکنے لگتی تھی۔

بیسویں صدی کی آخری دہائیاں جبرالحق اور لبرالحق کے زیر معاشرے میں قبیح برائیوں کے در آنے، اخلاقی طور پر معاشرے کے کھوکھلے پن کے ظہور اس خوبصورت شہر کا ستیاناس کرنے والے قبضہ اور مافیا گروپ کے کارنامے، اس کے حسن کو کھاتی سیمنٹ سریا کی عمارتیں اور بے ہنگم آبادی کا پھیلاؤ جیسے مسائل جو شہر کے جسم کو کینسر کی طرح اندر اندر کھاتے جا رہے تھے کا دل گداز بیانیہ جس میں کہیں کہیں چمکتے جگنو جیسے کچھ بکھرے کردار یہ بتاتے ہیں کہ ابھی امید باقی ہے۔

ناول معاشی سماجی اقتصادی اور سیاسی حالات کی بہترین تصویر کشی بھی کرتا ہے۔ پچھتر سالہ تاریخ کا کوئی اہم واقعہ جس نے ملکی حالات کو متاثر کیا ہو۔ اس کا ذکر کسی نہ کسی انداز میں ہوا ہے۔ عنوانات کی دلکشی اور انفرادیت معنی خیز اور متاثر کن ہے۔

Facebook Comments HS