کیچ میں انتخابات کے بعد بے چینی


muhammad taqi kuldan

کیچ گوادر حلقہ این اے 259 میں ملک شاہ جو کہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے تھے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق انہیں چالیس ہزار زائد ووٹ لے کر کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ملک شاہ کیچ گوادر کے حلقے میں ایک نووارد ہیں۔ ان کا اپنا حلقہ انتخاب چاغی ہے۔ جو بلوچستان اور افغانستان کے سرحد پر واقع ہے۔ تربت سے چاغی کا فاصلہ بہت زیادہ ہے۔ اس لیے تربت کے لوگ اس غیر مقامی امیدوار تصور کر ہے ہیں۔

لوگوں کا خیال ہے کہ ملک شاہ کو ہمارے حالات اور مسائل کا ادراک نہیں۔ وہ حقیقی معنوں میں ہماری نمائندگی کر نہیں سکتے۔ کیچ کے عوام کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی تربت گوادر حلقے میں اس سے پہلے کوئی تنظیمی وجود نہیں رکھتا تھا۔ راتوں رات تنظیم کو بنا گیا۔ اور باہر کے آدمی کیچ تربت حلقے میں کامیاب کرایا گیا۔ اس سے حلقے میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس قسم کے اقدامات الیکشن کو متنازعہ بناتے ہیں۔ کیچ تربت حلقہ روایتی طور پر قوم پرست پارٹیوں کا گڑھ رہا ہے۔ 1970 سے لے کر اب تک اس علاقے میں قوم پرست پارٹیوں کے آرگنائزیشن موجود ہیں۔

پیپلز پارٹی کی اس حلقہ انتخاب میں کامیابی نے لوگوں شک و شبہات میں ڈالا ہے۔ پاکستان میں ہر الیکشن کے بعد انتخابات کے شفافیت پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ 1970 کے انتخابات کے علاوہ باقی تمام انتخابات میں سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں کہ ان کا حق چھینا گیا ہے۔ لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ بلوچستان کے ان حالات میں جہاں روزانہ کی بنیاد پر بم دھماکے اور فائرنگ ہو رہے ہیں پھر بھی وہ انتخابات کے دن اپنے جان ہتھیلی پر رکھ کر ووٹ دینے کے لئے نکلے۔ تب بھی ہمارے اس انتخاب کا احترام نہیں کیا گیا۔ اور اپنے مرضی کے نمائندوں کو لایا گیا۔ پچھلے دو انتخابات میں کیچ کی پبلک اپنے قومی اسمبلی کے ممبر کی انتخاب کو اپنے ووٹوں سے منتخب نمائندہ نہیں سمجھتی ہے۔ ان کے خیال میں ہمارے قومی اسمبلی کے نمائندے کو ہم پر تو نپا جاتا ہے۔ اس بات میں کتنی صداقت ہے، یہ بات بحث طلب ہے۔ لیکن لوگ یہ بھی باور کراتے ہیں کہ پچھلے دو دفعہ اس حلقہ انتخاب میں ہر انتخاب کے بعد ایسا ہی ہو رہا ہے۔

کیچ، گوادر حلقہ این اے 259 میں اس الیکشن کے بعد لوگ مختلف قسم کی قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ حلقے میں ایک مایوسی کی فضا ہے۔ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ 2018 کے انتخابات میں زبیدہ جلال جو باپ پارٹی سے تعلق رکھتی تھی وہ ووٹ سے نہیں بلکہ دھاندلی کی وجہ سے اس حلقے کے ایم این اے رہی۔ اس کے علاوہ لوگوں کا یہ بھی خیال پچھلے دو مرتبہ یعنی 2013 سے لے کر 2018 تک اکبر آسکانی ایم پی اے محض اس لیے ہوئے کہ ٹپہ مافیا نے ان کی مدد کی۔ کیچ میں لوگوں کا خیال ہے کہ پچھلے دو انتخابات میں چہرے اور پارٹیاں ضرور بدلی ہیں، لیکن مائنڈ سیٹ وہی کام کر رہا ہے۔

لوگوں کے بقول زبیدہ جلال، جو کہ پچھلی دفعہ ایم این اے رہے، اس کے ساتھ اکبر آسکانی جو اسی حلقے میں ایم پی اے رہے۔ یہ وہ دونوں نمائندے لوگوں کے ووٹوں سے منتخب نہیں ہوئے۔ اس لیے انہوں نے جیت کے بعد کبھی بھی حلقے کا رخ نہیں کیا۔ وہ لوگوں کے مسائل اور مشکلات کے حل میں سرگرم عمل نہیں رہے۔ لوگوں کا خیال ہے جب زبیدہ جلال، اور ملک شاہ جیسے لوگ وفاق میں ہمارے نمائندہ کے طور پر منتخب ہوں گے تو ہمارے مسائل اور مشکلات جوں کے توں رہیں گے۔

جمہوریت کی روح یہی ہے کہ لوگوں کی رائے سے نمائندے منتخب ہوں اور لوگوں کی مشکلات اور مسائل کا حل ڈھونڈیں۔ اس سے جمہوری ثمرات عام لوگوں تک پہنچ پائیں گے۔ اگر چور راستے سے لوگ منتخب ہوں گے ۔ ان کو لوگوں کے مسائل سے سروکار نہیں ہو گا۔ اس قسم کے نمائندوں کی وجہ سے مایوسی اور بے چینی بڑھے گی۔ وقت کی ضرورت ہے کہ لوگوں کے بنیادی مسائل ان کے منتخب شدہ نمائندوں کی مدد سے حل کیے جائیں۔

اس مرتبہ لوگ اس بات پربھی زیادہ غم و غصے میں ہیں کہ ایک غیر مقامی آدمی کو اس حلقے انتخاب میں منتخب کیا گیا۔ اس حلقے کے اپنے ڈیمانڈ اور مشکلات ہیں جو ایک مقامی نمائندہ بہتر جانتا ہے۔ مکران کا سب سے زیادہ لکھا پڑھا طبقہ اسی حلقے میں رہتا ہے۔ جب اس پر باہر سے لوگ لاکر زبردستی ان کا نمائندہ کیا جائے، جو نہ اس علاقے سے واقف ہو۔ اور نہ ہی اس علاقے مشکلات اور مسائل جانتا ہو۔ اس سے مایوسی اور مسائل بڑھنے کے خدشات زیادہ ہوں گے ۔ آج حلقے کے عوام سڑکوں پر احتجاج کر ہے ہیں۔ اور اس انتخاب پر اپنے ناپسندیدگی کا اظہار کر ہے ہیں۔

با اختیار لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ کیچ، گوادر ایک حساس علاقہ ہے۔ سی پیک جیسے اہم منصوبے اس علاقے میں امن وامان سے مشروط ہے۔ اس حلقے میں پہلے سے بے چینی ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے عوام اور زیادہ متنفر ہونا قرین قیاس نہیں۔

پاکستان کے دشمن بھی یہی چاہتے ہیں کہ اس علاقے کے لوگوں کو ورغلا کر یہ باور کرایا جائے کہ پاکستانی حکام آپ سے مخلص نہیں۔ بلوچستان کو ان کے حق نمائندگی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں رہنے والے زیادہ تر لوگ محب وطن ہیں۔ ایسے اقدام جس سے لوگوں کو محسوس ہو کہ ان کی حق نمائندگی ان سے چھینا جا رہا ہے۔ اس کے برے نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس سے نوجوان مزید مایوسی اور بے بسی کا شکار ہوں گے ۔ پاکستان کے ذمہ دار حلقوں کو ایسی مداخلت کو روکنا چاہیے، بصورت دیگر اس سے غلط فہمیاں مزید بڑھیں گی۔ جو ملک اور حلقے کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہیں۔

شفاف انتخابات جس میں عوام کے منتخب کردہ نمائندے کو حلقے عوام کی قیادت کا موقع وقت کی اشد ضرورت ہے۔ جب انتخابات شفاف ہوں اور اس کے نتیجے میں ایک بہتر نمائندہ منتخب ہو، وہ علاقے کے مسائل کو بہتر انداز میں حل کرنے میں معاون ہو گا۔ لوگ اپنے منتخب نمائندے سے اپنے مسائل کے حل کے لئے رجوع کریں گے۔ جب ایک نووارد حلقے کا نمائندہ ہو، لوگوں کی پہنچ ان تک نہ ہو اس سے بے چینی اور مایوسی بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوں گے ۔

لوگوں کے منتخب نمائندہ لوگوں کے درمیان میں اس وقت رہے گا جب اس کو لوگوں کی ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔ ایک حقیقی نمائندے کو لوگوں کی ضرورت ہے۔ اور لوگوں ان کی ضرورت ہے۔ یہی جینوئن جمہوریت کی خاصیت ہے۔ حقیقی جمہوریت کی بدولت لوگوں کے مسائل حل ہوں گے تو اس سے بے چینی کا خاتمہ ہو گا، اور حلقے میں امن وامان قائم ہو گا۔ جو سب کی مفاد میں ہے۔ لیکن ایسا نظر نہیں آ رہا۔ اس سے لوگوں کا انتخابات سے دوری مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ آپ کسی بات کو چھپا سکیں۔ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ لوگ سمجھدار ہیں۔ انہیں پتہ چل ہی جاتا ہے۔

10 فروری سے لوگ احتجاج کے لئے باہر نکلے۔ اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ آج 13 فروری کو قوم پرست تنظیموں نے پھر ہڑتال کی کال دی ہے۔ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں شٹر ڈاون ہڑتال رہا۔

پاکستان میں انتخابات کی شفافیت پر جس طرح سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ ایک نیک شگون نہیں۔ دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں۔ وہاں ادارے مضبوط ہیں۔ اور اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ لیکن وطن عزیز میں ایسا بالکل نہیں۔ ادارے شکست و ریخت کے شکار ہیں۔ اور لوگ ان پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں۔ الیکشن کمیشن بظاہر ایک خود مختار ادارہ ہے۔ باوجود اس کے ہر طرف الیکشن میں دھاندلی کا شور ہے۔ لوگ بدل اور مایوس ہیں۔

اگر شفاف انتخابات ہوں۔ اور لوگوں کے رائے کا احترام ہو۔ یہ ملک کی بہترین مفاد میں ہو گا۔ ادارے جتنے اپنے دائرے اختیار میں ہوں گے ۔ اتنے ہی مضبوط ہوں گے ۔ اداروں کا مضبوط ہونا ملک وسیع تر مفاد میں ہوتا ہے۔ جب ادارے ایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار ہوں حالات ویسے ہی ہوں گے ، جو آج کل وطن عزیز کے ہیں۔

یہ وطن ہم سب کو عزیز ہے۔ پاکستان کے دوسرے حصوں کی طرح بلوچستان کے لوگ بھی محب وطن ہیں۔ ان کی مایوسی اور بے چینی کو بہتر حکمت عملی سے دور کیا جاسکتا ہے۔ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے کہ جس سے علاقے کے مسائل اور مشکلات حل ہو سکیں۔ لوگوں کو باعزت روزگار اور زندگی بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں، ان کی رائے کا احترام ہو، اس سے لوگوں کی مایوسی امید میں بدل سکتی ہے۔

Facebook Comments HS