بولے نائی کی کیمیاگری اور حکمت کی کہانی
بولا نائی گاؤں کی مشہور و معروف شخصیت تھی۔ درمیانہ قد، گہرا گندمی رنگ، موٹی موٹی بولتی ہوئی آنکھیں، تہہ بند کرتہ زیب تن کیے اور سر پر ڈھیلی سی پگڑی باندھے ہوئے گاؤں کی گلیوں میں گھومتا ہوا اکثر دکھائی دیتا تھا۔ پیشے کے لحاظ سے تو اس کا کام اپنے سیپی داروں کی حجامت بنانا اور شادی بیاہ کے موقع پر مہمانوں کے لیے کھانے کی دیگیں تیار کرنا تھا۔ لیکن سوائے اس کام کے وہ دنیا جہان کے باقی تمام کاموں میں یکساں مہارت کا حامل تھا۔
حکمت اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا اور اس کے زور پر وہ اکثر اوقات سونا بنانے کی کوششوں میں مصروف نظر آتا۔ سونا بنانے کی بھٹی چڑھانے سے پہلے وہ اس کے لوازمات اکٹھے کرتا۔ بھوری بھینس کا گوبر لے کر اس کے اپلے بنائے جاتے۔ پھر ان کو دھوپ کی بجائے کیکر کے درخت کی چھاؤں میں خشک کرنے کا عمل شروع ہوتا۔ بھٹی میں آگ جلانے کے لیے کریر اور جنڈ کی لکڑی کے مخصوص جسامت کے ٹکڑے تیار کیے جاتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی کھیتوں سے جڑی بوٹیاں تلاش کرنے کا طویل المدتی کام شروع رہتا۔
اس کام میں اکثر ہفتے گزر جاتے۔ گاؤں کے تمام کھیتوں کا چپہ چپہ چھان کر مطلوبہ بوٹیاں اکٹھی کی جاتیں۔ چند خستہ حال اور کٹے پھٹے اوراق پر مشتمل ایک چھوٹا سا جنتری نما کتابچہ اس کی جیب میں موجود ہوتا۔ اس کے بقول یہ ہاتھ کا لکھا ہوا سونا بنانے کا ایک مشہور کیمیا گر کا قلمی نسخہ تھا۔ جو پشت ہا پشت سے اس کے خاندان میں ہاتھوں ہاتھ چلتا ہوا اب اس کے ہاتھ میں پہنچا تھا۔ اس کے آبا و اجداد چونکہ ان پڑھ تھے اور کسی دوسرے سے پڑھانے میں اس قیمتی نسخہ کے راز افشا ہونے کا خطرہ تھا۔ اس لیے کسی نے بھی اس نسخے کو آزمانے کی کوشش نہ کی۔ بولا اپنے خاندان کا واحد سپوت تھا جس نے اس قدر تعلیم حاصل کر لی تھی کہ اس نسخہ کو پڑھ کر اس سے استفادہ حاصل کر سکے اور اب وہ تن من دھن سے اس کام میں جتا ہوا تھا۔ گاؤں کے کھیتوں سے جڑی بوٹیاں اکٹھی کرنے کے بعد وہ شہر کا رخ کرتا اور وہاں پنساری کی دکان سے بیسیوں مزید جڑی بوٹیاں اور ادویات خرید کر نسخہ میں استعمال ہونے والے تمام اجزاء کو مکمل کر لیتا۔
سونے کی بھٹی چڑھانے سے پہلے وہ تین چار دن میں اپنے تمام سیپی داروں کی حجامتیں وغیرہ بناتا۔ اس سلسلے میں ان کی جملہ ضروریات کو پورا کرتا اور ساتھ ہی ساتھ انہیں مطلع کرتا جاتا کہ اب وہ بھٹی چڑھانے والا ہے۔ اس لیے چالیس دنوں تک وہ کوٹھری میں بند ہو کر سونا بنانے کے عمل کو مکمل کرے گا۔ اس کے بعد وہ ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں جملہ ساز و سامان کے ساتھ مقید ہو جاتا۔ چالیس دنوں تک وہ مسلسل بھٹی کو دہکائے رکھتا۔
کھانے پینے، سونے اور جملہ ضروریات اسی چلہ کشی کی حالت میں ہی پوری کی جاتیں۔ اگر اس عرصے میں کوٹھڑی سے باہر کہیں نظر آتا تو وہ بذات خود بھی راکھ کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہوتا۔ گاؤں کے باسیوں کو بڑی امید ہوتی کہ اس بار بولا نائی سونا بنانے میں ضرور کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن اس بار بھی اس کیمیا گری کے اختتام پر پتہ چلتا کہ سونا تو بس بن ہی گیا تھا اگر رنگ صحیح نہیں آیا اور اگر کبھی خوش قسمتی سے رنگ صحیح آتا تو نرماہٹ نہ آتی۔
اب بولا بڑی عرق ریزی سے کیمیا گری کے اس پورے عمل کا بنظر غائر جائزہ لیتا اور اس میں رہ جانے والی اس خامی کو ڈھونڈ نکالتا۔ جس کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے تھے۔ کبھی کوئی جڑی بوٹی کچی قرار دی جاتی۔ کبھی شنگرف جعلی نکلتا اور کبھی اپلے پوری طرح خشک نہ ہوتے۔ غرض کہ اس کے بعد وہ ایک بار پھر خم ٹھوک کر کیمیا گری کے میدان میں اترنے کے لیے نئے سرمایہ کار کی تلاش میں نکل پڑتا۔
بولا ہمارے گاؤں میں آنے سے پہلے کسی شہر میں کام کرتا رہا تھا۔ جب وہ شہر کی باتیں سناتا تو ہمیں ایسے لگتا کہ وہ کسی کوہ قاف کے متعلق بتا رہا ہے۔ داستان گوئی میں وہ ایسی مہارت رکھتا تھا کہ سامعین اس کی باتوں پر عش عش کر اٹھتے۔ ایک بار ایک ایسی ہی محفل میں ہم بھی موجود تھے اور بولا اپنے دور گزشتہ کے کارنامے بیان کر رہا تھا۔ قصہ شہر ہی کا تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ میں نے نذرے کے ہوٹل سے آدھا کلو دودھ گرم کروا کر اس میں جلیبیاں ڈال کر کھائیں۔
اس کے بعد پندرہ منٹ تک انتظار کیا اور پھر میرے بازوؤں کے پٹھے پھڑکنے لگے۔ پھر میں نے سیدھا کالی بد معاش کے گھر جا کر اس کو للکارا۔ وہ گھر سے باہر نکلا تو اس کے ساتھ اس کے دو شاگرد بھی تھے۔ لیکن میں نے تو دودھ جلیبی کھائے ہوئے تھے اور پورا بدن طاقت سے بھرا پڑا تھا۔ میں نے ان تینوں بدمعاشوں کی وہ دھلائی کی۔ وہ دھلائی کی کہ پورا محلہ واہ واہ کر اٹھا۔ اسی میدان میں ہی مار کھانے کے بعد کالی بدمعاش نے میرے پاؤں چھو کر مجھے اپنا استاد مان لیا اور پورے شہر میں میرے نام کا ڈنکا بجنے لگا۔
اس سارے قصے میں ہمیں یہ بات سمجھ آئی کہ یہ سارا کمال دودھ جلیبی کا تھا۔ یہی وہ تیر بہدف نسخہ تھا۔ جس کو کھانے سے بولا نائی طاقت کا ایک ایسا پہاڑ بن جاتا تھا کہ جو بھی اس سے ٹکراتا۔ پاش پاش ہو جاتا۔ جیلو تیلی بھی ہمارے ساتھ موجود تھا۔ اس نے دودھ جلیبی کے نسخے کو آزمانے کا فیصلہ کر لیا۔ ہمارے گاؤں میں عیدین کے مواقع پر کشتی اور کبڈی کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ اس نے بھی آنے والی عید پر اس نسخہ کو آزما کر گاؤں بھر میں اپنی جسمانی طاقت کی دھاک بٹھانے کا فیصلہ کیا۔
عید سے پہلے جمعہ کو حاجی شیر میلہ دیکھنے کے بہانے جا کر وہاں سے جلیبیاں لا کر مٹی کی ایک چاٹی میں چھپا کر رکھ دیں۔ دودھ گھر میں ہمہ وقت موجود ہی ہوتا تھا۔ چنانچہ عید کے دن دودھ کو بہت اچھے طریقے سے گرم کر کے اس میں جلیبیاں ڈال کر پی لیں اور بولے نائی کے بقول جسم میں طاقت کو ایسے بھر لیا جیسے اخروٹ میں سکہ بھرا جاتا ہے۔ اکھاڑے میں پہنچا اور لنگوٹ باندھ کر میدان میں اتر پڑا تو منتظمین اسے بڑی حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔
بلکہ ان میں سے ایک نے تو باقاعدہ طور پر اس سے دریافت بھی کیا کہ تم بھی کشتی لڑو گے۔ اس نے دل ہی دل میں اس کا تمسخر اڑاتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔ اس کے مقابلے میں منتظمین نے جس لڑکے کو نکالا وہ تقریباً اسی کے وزن اور عمر کا تھا لیکن وہ بضد تھا کہ صرف دارا پہلوان سے ہی کشتی لڑے گا۔ دارا پہلوان ہمارے گاؤں کا سب سے زیادہ طاقت ور پہلوان تھا۔ وہ اپنے تئیں پہلے ہی مقابلے میں پورے گاؤں کا ہیرو بننا چاہتا تھا۔
بہرحال منتظمین کے سمجھانے بجھانے پر مشروط طور پر اس نوجوان سے کشتی لڑنے کے لیے تیار ہو گیا کہ اگر جیلو نے اسے ہرا دیا تو اس کی اگلی کشتی دارا کے ساتھ کروا دی جائے گی۔ وہ اپنے مقابل کے ساتھ اکھاڑے میں اترا۔ سلامی لینے تک ساری روئیداد اسے ٹھیک ٹھیک یاد ہے۔ اس کے بعد و اللہ اعلم کیا ہوا۔ بہرحال جو بھی ہوا اس قدر تیزی سے ہوا کہ اسے جب ہوش آیا تو وہ اکھاڑے میں چاروں شانے چت پڑا تھا اور مد مقابل اس کے سینے پر سوار تھا۔
وہ بجھے ہوئے دل سے اکھاڑے سے باہر آیا، کپڑے پہنے اور سیدھا بولا نائی کے پاس پہنچا اور اسے بے نقط سنائیں کہ اس نے فضول میں مروا دیا۔ بولا حیران تھا کہ ہوا کیا ہے۔ اس کے دریافت کرنے پر سارا قصہ بیان کیا تو وہ مراقبے میں چلا گیا۔ کچھ دیر کے بعد سر اٹھا کر بڑے مدبرانہ انداز میں پوچھا کہ جب تم اکھاڑے میں اترے تو تمہارے بازوؤں کے پٹھے پھڑک رہے تھے۔ نفی میں جواب سن کر بولا کہ یہیں غلطی ہوئی ہے کہ تم نے پٹھے پھڑکنے کا انتظار کیے بغیر ہی کشتی شروع کر دی۔ ابھی دودھ جلیبی کے اثرات جسم میں ظاہر ہی نہیں ہوئے تھے۔ اب ہم آئندہ کشتی میں اتریں گے اور میں تمہیں تیار کرواؤں گا اور میں دیکھتا ہوں کہ کیسے کامیاب نہیں ہوتے۔ لیکن دوسری بار رسک لینے کا حوصلہ جیلو میں نہیں تھا۔ چنانچہ اس نے صاف انکار کر دیا۔
بولے کی شادی ہمارے گاؤں میں ہی ہوئی تھی۔ اس کی بیوی کی ٹانگیں پیدائشی طور پر ہی کچھ کمزور تھیں۔ وہ چل تو لیتی تھی لیکن سست روی سے۔ اب بولے کی برداشت سے یہ بات باہر تھی کہ وہ خود اتنا بڑا حکیم ہو اور اس کی بیوی جسمانی کمزوری کا شکار ہو۔ چنانچہ اس نے خود ساختہ ادویات اور معجون و مرکبات کی مدد سے اس کا علاج شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ ہی ان ادویات کے مثبت اثرات بھی لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کر دیے۔
مثلاً آج بھاگ بھری کو دونی بھر افاقہ ہو گیا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ افاقہ چونی ہو گیا۔ لیکن تین چار ماہ گزرنے کے بعد بھاگ بھری بالکل ہی بیٹھ گئی۔ چلنا پھرنا تو کجا اب وہ اپنی ٹانگوں پر کھڑی ہونے کے قابل بھی نہ رہی۔ اب اس کے لیے بڑے پاؤں والی ایک رنگین پیڑھی بنا کر اس پر بٹھا دیا گیا اور بولا نائی اپنی باقی ماندہ ساری عمر اپنی بیوی کو پیڑھی سمیت اٹھا کر آگے پیچھے کرتا رہتا اور اپنے خود ساختہ علاج کی سزا پاتا رہا۔
ماسٹر عظمت علی بولے کا جوٹی دار تھا۔ وہ اکثر نسخے مل جل کر تیار کرتے اور ان کے نفع و نقصان میں برابر کے شراکت دار ہوتے۔ ایک بار انہوں نے قوت مردی کے لیے کوئی دوا تیار کرنا شروع کر دی اور ساتھ ہی ساتھ مارکیٹنگ کے نقطہ نظر سے گاؤں بھر میں اس بننے والی دوا کے طلسماتی اثرات بھی بیان کرنا شروع کر دیے۔ کیونکہ وہ دونوں ہی سارا دن گاؤں میں گھومتے پھرتے رہتے۔ اس لیے چند دنوں میں ہی اس ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے مثبت اثرات مرتب ہو نا شروع ہو گئے۔
گاؤں کے اکثر لوگ ایک دوسرے سے چھپ چھپا کر اس مشہور زمانہ دوائی کے متعلق دلی زبان سے دریافت کرتے کہ اس کی تیاری میں ابھی کتنا عرصہ باقی ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا۔ مشتاقان معجون مرکب برائے قوت مردی کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ جب یہ کام اپنے نقطہ عروج پر پہنچا تو انہوں نے باقاعدہ طور پر اپنی اس شاہکار دوائی کی بکنگ شروع کردی۔ بڑے غور و فکر، رد و قد اور بحث مباحثہ کے بعد دوائی کے ایک ککھ کی قیمت 5 کلوگرام گندم مقرر کی گئی۔
اب ایک رجسٹر پر ایڈوانس بکنگ کروانے والے کا نام دوائی کی مقدار، دوائی کے عوض حاصل شدہ گندم اور آفر میں اس گندم کی قیمت درج کرنے کے لیے مناسب خانہ جات بنائے گئے۔ کیوں کہ اس معجون مرکب کی مشہوری بڑے سائنٹیفک انداز میں کی گئی تھی۔ اس لیے روزاول سے ہی بکنگ کا کام بہت اوپر چلا گیا۔ لوگ دھڑا دھڑ ایک دوسرے سے چوری بڑی تیزی سے بکنگ کروا رہے تھے۔ مبادا کہ دوائی ختم ہی نہ ہو جائے۔
ماسٹر صاحب بکنگ کے ساتھ ساتھ ہی متوقع آمدہ گندم کا تخمینہ بھی لگا رہے تھے۔ جب گندم کی مقدار پالن سو من سے بھی بڑھ گئی تو انہیں فکر لا حق ہوئی کہ اسے رکھنا کہاں ہے۔ ماسٹر صاحب منصوبہ بندی کے بڑے ماہر تھے۔ انہوں نے فوراً اللہ دتہ وٹو کو بلوا کر ان سے 200 بوری گندم کا ریٹ بھی طے کر لیا۔ اب دوائی نکالنے کا وقت آ گیا تھا۔ اب دوائی کو بھٹی سے باہر نکالا گیا۔ ٹھنڈا کر کے کوٹ پھانٹ اور چھان پھٹک کے بعد تیار شدہ معجون مرکب ایک شیشے کے مرتبان بھر لیا گیا۔ اب دونوں حکماء کے سامنے دوائی کی نقل و حمل کا مشکل ترین مرحلہ پیش تھا کہ ایک ککھ بھر دوائی کو اپنے مطلوبہ گاہک تک مخصوص وقت پر کس طرح منتقل کیا جائے۔ بہت سوچ بچار اور غور و فکر کے بعد اس کا بھی
مناسب حل تلاش کر لیا گیا۔ گندم کے بھوسے کے تنکوں کو گیلا کر کے ان کے ساتھ دوائی لگا کر گیلے گیلے تنکے کو ہی کاغذ کی ایک پڑی میں بند کر دیا گیا۔ اب یہ دوائی حسب ضرورت وقت مقررہ پر نقل و حمل کے لیے تیار تھی۔ لیکن ابھی ایک مرحلہ باقی تھا اور وہ تھا دوائی کے عملی ٹیسٹ کا مرحلہ۔ اس کام کے لیے تختہ مشق بننے کا قرعہ فال بولے کے نام نکلا۔
نتائج کی مزید بہتری کے پیش نظر اسے دوائی کی ڈبل ڈوز دی گئی۔ جونہی دوائی بولے کے گلے سے نیچے اتری وہ دھڑام سے زمین پر گرا اور بے ہوش ہو گیا۔ اس کا سارا جسم اکڑ گیا۔ منہ سے جھاگ آنے لگا۔ آنکھیں ٹھہر گئیں۔ زبان تالو سے چپک گئی۔ یہ صورت حال دیکھ کر ماسٹر صاحب کے کچھ ایسے اوسان خطا ہوئے کہ وہ وہاں سے بھاگ نکلے اور جب انہیں ہوش آیا تو وہ کراچی پہنچ چکے تھے۔ کئی ماہ ڈرتے ڈرتے وہاں چھپے رہے۔ ڈر کے مارے کسی سے رابطہ بھی نہ کرتے۔ تین چار ماہ گزرنے کے بعد اتفاقا اس کی ملاقات ہمارے گاؤں کے جاوید حمید اکبر ارائیں سے ہو گئی۔ جو دو دن پہلے گاؤں کے چکر لگا کر گیا تھا۔ ڈرتے ڈرتے بولے نائی کا حال پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ بھلا چنگا ہے۔ اس طرح ماسٹر صاحب تین چار ماہ کے خود ساختہ دیس نکالے سے گاؤں میں واپس لوٹ آئے۔


