الیکشن میں پریذائڈنگ آفیسرز کی حالت زار

08 فروری کا دن گزر چکا، حواس ابھی پوری طرح بحال نہیں ہوئے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پیچھے سے کوئی دھکا دے گا اور میں سامنے والے پر جا کر گروں گا اور پولیس والا آ کر گریبان پکڑے گا اور کہے گا کہ پیچھے لائن میں جاؤں اور میں رو پڑوں گا کہ نہیں، نہیں مجھے یہی رہنے دو ، پانچ گھنٹے خوار ہونے کے بعد باری آئی ہے اور آگے نہیں معلوم کہ کیا گزرے گی قطرے پہ گہر ہونے تک۔ یہ قصہ ہے پریذائڈنگ آ فیسر یعنی ایک دن کے مجسٹریٹ کا جس نے 08 فروری 2024 کو کمال ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمہوریت کو جیت دلوائی اور آمرانہ سوچ کا قلع قمع کرنے میں ووٹر کی مدد کی۔
اس ایک دن کے مجسٹریٹ کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ ناگفتہ بہ ہے۔ مختصر یہ کہ ہر طرح کی ذلت، خواری، پشیمانی، ارزانی اور ندامت و گراں باری اس کے ہاتھ آئی۔ ہمارے ملک کا انتظامی ڈھانچہ عجب شکل لیے ہوئے ہے۔ اس کا نہ سر ہے اور نہ پیر۔ یہ عجیب و غریب مخلوق ہے جس کے اتنے چہرے، رنگ، حلیے، اطوار اور انداز ہیں کہ آپ سر پیٹ کر رہ جائیں گے لیکن اس نظام کی منطقی رو کو سمجھ نہیں سکیں گے۔
بطور پریذائڈنگ آ فیسر جنھیں ہم جتوا کر ریٹرننگ افسر کے آفس پہنچے تھے، اگلے دن پتہ چلتا ہے کہ وہ ہار چکے ہیں۔ پوری بازی ہی پلٹ دی گئی۔ بارہ بجے کے قریب ہماری گاڑی پولیس اور فوج کی کڑی نگرانی میں ریٹرننگ افسر کے آفس میں پہنچی تو ہو کا عالم تھا، ہم نے کہا بھیا! سب جا چکے ہیں، بس ہم ہی رہ گئے ہیں، ریٹرننگ افسر کے آفس کے احاطہ میں ہر طرف خاموشی اور اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ عقبی دروازے سے جب اندر داخل ہوئے تو ایک جہان بے کراں سمٹا ہوا بلکہ خوف سے سہما ہوا سامنے پایا تو ہوش اڑ گئے کہ یا اللہ! یہاں تو ہزار بندہ موجود ہے ہماری باری کب آئے گی، پھر وہی کچھ ہوا جو آپ نے میڈیا پر سنا بھی اور دیکھا بھی۔
اگلے دن یعنی 9 فروری کو دن چڑھے جان چھوٹی اور گھر پہنچ کر بستر پر یوں گرے جیسے کوئی زندگی سے ہارا پہاڑ سے خود کو بے اختیار گرا دیتا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حتی المقدور کوشش کی ہے کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں۔ یہ الیکشن کس قدر صاف اور شفاف ہوئے اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ پریذائڈنگ آ فیسر یعنی پولنگ اسٹیشن کی حد تک میں یقینی طور سے یہ کہہ سکتا ہوں 95 فیصد ووٹ کی کاسٹنگ میں کوئی بے ضابطگی اور بے ایمانی دیکھنے میں نہیں آئی۔
دراصل پریذائڈنگ آ فیسر کے پاس اختیار ہونے کے باوجود کسی ایک جماعت کو سپورٹ کرنے اور اس کے حق میں زیادہ ووٹ ڈالنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ ہر امیدوار کے پولنگ ایجنٹ صبح سات سے گنتی مکمل ہونے کے بعد تھیلوں کی تیاری تک وہیں موجود ہوتے ہیں اور فارم 45 لے کر ہی جاتے ہیں۔ پانچ فیصد پریذائڈنگ آ فیسر کو کسی ایک جماعت سے ہمدردی اور ذاتی مفاد کی غرض سے ہیر پھیر کرتے دیکھا جا سکتا ہے اور یہ تعداد ہر جگہ ہر شعبہ میں موجود ہوتی ہے اور ہمیشہ سے رہی ہے جن کا کوئی علاج نہیں۔
8 فروری کو لاکھوں اساتذہ اور دیگر شعبہ جات کے سرکاری عملے میں اپنی ڈیوٹی فرض سے بھی اوپر سمجھ کر ادا کی ہے۔ پریذائڈنگ آ فیسر اور ان کے ماتحت عملہ پر دھاندلی اور اس سے متعلقہ الزامات کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ اس مرتبہ پریذائڈنگ آ فیسر کو ہر طرح کے ذرائع استعمال کر کے ڈرانے، دھمکانے اور ورغلانے کی کوشش کی گئی ہے اس کے باوجود پریذائڈنگ آ فیسر اور ان کے عملہ نے شفافیت کو برقرار رکھا ہے اور اپنے فرض میں کسی کو نقب لگانے کی اجازت نہیں دی۔
پریذائڈنگ آ فیسر فارم 45 اور فارم 46 میں ایک ووٹ کا رد و بدل نہیں کر سکتا۔ ووٹ کو گنتی سے خارج نہیں کر سکتا اور کسی بھی طریقے سے زیادہ ووٹ ڈلوا نہیں سکتا، اس کے باوجود پانچ فیصد طبقہ موجود ہے جو یہ کام کرتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ پچانوے فیصد پر پانچ فیصد طبقے کی دھاندلی اور دھونس اور غیر قانونی عمل کو فوقیت دے کر پریذائڈنگ آ فیسر اور اس کے ماتحت عملہ کی کردار کشی کی جائے اور انھیں دھاندلی ایسے مکروہ فعل میں شریک جرم کی حیثیت سے دیکھا جائے۔
الیکشن کمیشن نے اس بار بھی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سول لوگوں کو لگایا گیا تھا، یوں سمجھ لیجیے کہ مرضی اور پسند کے لوگ بطور ریٹرننگ افسر لگائے گئے تھے تاکہ رزلٹ میں تحریف کی جا سکے اور وہ پوری دنیا نے ہوتے ہوئے دیکھی بھی ہے۔ اگر خان صاحب کی حکومت میں منظور ہوئی ووٹنگ مشین آجاتی اور اس سے ووٹنگ ہوتی تو پانچ منٹ میں رزلٹ تیار ہو جاتا اور فارم 47 بن جاتا اور آدھ گھنٹہ میں پورے پاکستان میں کامیاب ہونے والے امیدواران کی کامیابی کے نوٹیفیکیشن بھی ہو جاتے۔
یہ مشین کیوں نہیں لائی گئی اور اس کی مخالفت کیوں کی گئی تھی۔ اس کا بات ثبوت آج ملا ہے۔ الیکشن کمیشن کی مجبوریاں اپنی جگہ اور سیاسی چال بازیاں اپنی جگہ۔ انتظامیہ کے جملہ اداروں کے اختیارات کا معاملہ اور مداخلت بھی اپنی جگہ۔ اس رجحان اور تاثر کو اب کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ پاکستانی عوام نے 1970 کے انتخابات کے بعد 2024 میں ووٹ کا حق رائے جس انداز میں ہر طرح کے جبر اور ظلم کے باوجود استعمال کیا ہے وہ لائق تعریف اور لائق تحسین ہے۔
یہ ایک علاحدہ بحث ہے کہ حکومت کون بنائے گا اور کس جماعت کو اپوزیشن میں بیٹھنا ہے اور کس جماعت کو کہاں کس کے ساتھ اتحاد کرنا ہے۔ سب سے بڑا اور سب سے اہم اتحاد اس الیکشن میں جو ہوا ہے وہ عوام کا ہے۔ پاکستانی عوام نے پہلی دفعہ اپنے اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے جو ملک کی تاریخ میں اس سے پہلے قیام پاکستان اور 1970 کے بعد اب دیکھنے کو ملا ہے۔ اگر یہ اتحاد یونہی قائم رہا تو بہت جلد روایتی سیاست ختم ہو جائے گی اور پاکستان درست سمت کی گامزن بڑھتا ہوا دکھائی دے گا۔
پاکستانی عوام کو ہجوم کہنے والے اور کند ذہن سمجھنے والے اب ہوش کے ناخن لیں اور آئندہ اپنی زبان بند رکھیں اور فرزان جہان کو مشورہ ہے کہ یہ مٹی بہت زرخیز ہے اور اس کے ساقی کم کوش ہونے کے باوجود بے ذوق نہیں ہے۔ ان کے ذوق آگہی کی آبیاری کریں، گلہ ترک کر دیں اور مل جل کر آگے بڑھیں۔ سیاسی اکھاڑے اب الٹنے کو ہیں اور ایک نیا نظام سیاست وضع ہونے کے بالکل قریب ہے۔ باشعور اور تعقل مزاج پاکستانی عوام اب ایک قوم کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی ہے۔ اس کے انگڑائی لیتے ہوئے شعور کو خود ساختہ مصلحت کی بھینٹ نہ چڑھنے دیجئے گا۔ یہ لاوا اگر پھوٹ پڑا جو ہر چیز کو جلا کر راکھ کر دے گا۔
