بچوں کا بادشاہ احمد عدنان طارق


کتنی حیرت کی بات ہے کہ ایک پولیس انسپکٹر دو دہائیوں سے مسلسل افسر مہتمم تھانہ کے فرائض سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے شاندار ادب بھی تخلیق کر رہا ہو اور 2022 میں یو بی ایل لٹریری ایوارڈ بھی اپنے نام کر چکا ہو۔ جی ہاں میں بات کر رہا ہوں احمد عدنان طارق کی جو چار دہائیوں تک محکمہ پولیس کی خاردار راہوں کے مسافر تو رہے مگر اپنے اصل ٹیلنٹ کو مرنے نہ دیا اور ہر طرح کے حالات میں اپنے قلم کی آبیاری کرتے رہے۔ ان کی اپنے فن اور فکر کے ساتھ گہرے لگاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بچوں کے لیے کم و بیش 3500 کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

احمد عدنان طارق کو پڑھنے لکھنے کا شوق تو بہت بچپن سے ہی تھا مگر پے درپے مصروفیات کی وجہ سے ان کے اندر کا ادیب کھل کر سامنے نہیں آ رہا تھا کہ پھر اچانک ان کے ساتھ ایک واقعہ رونما ہو گیا۔ سن 2010 میں خطرناک مجرمان کی سرکوبی کرتے ہوئے ان کی ایک ٹانگ میں گولی لگ گئی اور وہ گھر تک محدود ہو کر رہ گئے۔ ان فارغ اوقات میں ان کے اندر کا ادیب انگڑائی لے کر جاگ گیا اور انھوں نے قلم و قرطاس کے ساتھ کمزور پڑتے رشتے کو از سر نو جوڑ لیا اور ادب اطفال کے لیے خود کو وقف کرنے کی ٹھان لی۔ بچوں کے معصوم ذہنوں پہ نقش ہو جانے والی کہانیاں لکھنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اپنی شخصیت کی اس درخشاں جہت سے متعارف ہونا ان کے لیے حیران کن بھی تھا خوش کن بھی۔

احمد عدنان طارق کچھ عرصہ قبل محمکہ پولیس سے بطور انسپکٹر ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں اور اب کلی طور پر اپنے آپ کو فن تحریر کے ساتھ منسلک کر چکے ہیں۔ احمد عدنان طارق صاحب کی انتہائی منظم روٹین کے بارے جان کر مجھے عظیم روسی ناول نگار لیو ٹالسٹائی یاد آ گئے جو اپنے خاندان کے ہمراہ بہت سکون سے ناشتہ کر رہے ہوتے تھے کہ اچانک سے اٹھتے اور اور اپنی سٹڈی روم کی طرف چل پڑتے جہاں وہ گھنٹوں بیٹھے سوچتے اور لکھتے رہتے۔

گھر والے حیران رہ جاتے کہ ایک لمحے میں انھیں کیا ہو گیا ہے کہ بالکل اجنبی سے ہو گئے ہیں۔ احمد عدنان طارق کی لکھنے کی روٹین بھی ایسی ہی ہے۔ وہ اپنے قلم کی گرفت کو عافیت کوشی کی وجہ سے کمزور پڑتا نہیں دیکھ سکتے تبھی تو انھوں نے خود کو نظم و ضبط کا عادی بنا رکھا ہے۔ احمد عدنان کی آنکھوں میں جہاں علمی ادبی حلقوں کی طرف سے ملنے والی پذیرائی کی چمک ہے وہیں ان کے لہجے میں اپنے ہی محکمہ کے افسران کے معاندانہ رویے کا شکوہ بھی ہے۔

لیکن میرے لیے یہ چنداں حیرت کا محل نہیں تھا کیونکہ میں شاعروں اور ادیبوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا عینی شاہد ہوں اور پولیس کالج سہالہ میں ہونے والے واقعات کو صراحت کے ساتھ تحریر کر چکا ہوں۔ بہر طور احمد عدنان طارق محکمہ پولیس کا وہ روشن چہرہ ہے جس پر متعدد ایم فل کے تھیسز ہوچکے ہیں۔ قلم کے میدان کا یہ شہسوار اپنی معرکہ آرائیوں میں مصروف کار ہے اور مجھے امید ہے کہ ان کا قلم ابھی بہت سے نادر کارنامے سرانجام دے گا۔

Facebook Comments HS