ہنری ہشتم۔ ایک رنگین مزاج بادشاہ
28 جون 1491 ء کو گرین وچ میں پیدا ہونے والے ہنری ٹیوڈر اپنے والدین کی تیسری اولاد (دوسرے بیٹے ) تھے۔ چھوٹا بیٹا ہونے کے ناتے وہ تخت کے جانشین نہیں تھے لیکن ان کے بڑے بھائی، آرتھر، جو بچپن سے ہی بیمار رہتے تھے، کی 1501 ء میں محض 15 سال کی عمر میں وفات کے بعد ولی عہد بنا دیے گئے۔ چونکہ موت سے محض 20 مہینے قبل ہی آرتھر کی شادی سپین کی شہزادی، کیتھرین سے ہوئی تھی (شاہ فرڈینینڈ اور ملکہ ازابیلا کی بیٹی۔ یہ ازابیلا وہی ہیں جنہوں نے مسلم سپین کی آخری حکومت کا خاتمہ کیا تھا، نیز یہودیوں کا سپین سے دیس نکالا کرنا، ہسپانوی سلطنت کی بنیاد رکھنے کے ساتھ ساتھ کرسٹوفر کولمبس کے نئی دنیا کے سفر کی مالی امداد بھی انہوں نے ہی کی تھی)
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بحال رکھنے کے لیے 1503 ء میں ہنری اور کیتھرین کی منگنی کر دی گئی۔ ابتدا میں اس کی مخالفت کرنے والے ہنری نے باپ کی وفات کے بعد ان کی ”آخری خواہش“ کے احترام میں 11 جون 1509 ء کو 23 سالہ کیتھرین سے شادی کر لی جس کے 12 دن بعد وہ تخت نشین ہو گئے۔ تخت نشینی کے دو دن بعد ہی ہنری ہشتم نے اپنے والد کے دو غیر مقبول وزیروں کو غداری کا الزام لگا کر معطل کر دیا، دونوں کو 1510 ء میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ سیاسی بنیادوں پر اور اکثر ”غداری“ اور ”بدعت“ جیسے الزامات لگا کر، کسی باضابطہ مقدمے کے بغیر ہی، اپنے مخالفین کو مروا دینا ان کے دور حکومت میں عام رہا۔
کیتھرین سے ہنری کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہوئیں جن میں سے دو بیٹے اور بیٹیاں تو مردہ پیدا ہوئیں جبکہ ایک بیٹا سات ہفتے کی عمر میں چل بسا۔ صرف ایک بیٹی، میری ہی زندہ بچیں جو بعد میں 5 سال تک انگلستان کی ملکہ بھی رہیں۔ (انہیں ”خونی میری“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے )
1525 ء تک ایک ”مرد ولی عہد“ پیدا نہ کر سکنے کی وجہ سے ہنری، کیتھرین سے جان چھڑانے کا سوچنے لگے تھے۔ انہیں یقین ہو چلا تھا کہ ”بھائی کی بیوہ سے شادی کے سبب ان پر خدا کا عذاب نازل ہو چکا ہے“ ۔ دونوں کے درمیان علیحدگی تو پہلے ہی ہو چکی تھی لیکن کیتھرین نے رضاکارانہ طور پر شادی سے دستبردار ہونے اور باقی زندگی کسی خانقاہ میں بسر کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا:
”میں مرتے دم تک شادی شدہ ہی رہوں گی“
اس دوران بادشاہ کی ”نظر انتخاب“ این بولین پر پڑی، جن کی بڑی بہن میری، پہلے ہی ان کی داشتہ رہ چکی تھیں۔ این نے شادی کے بغیر صرف ان کی داشتہ بننے سے انکار کر دیا اور یہیں سے مسئلہ پیچیدہ ہو گیا۔
چونکہ عیسائیت میں شادی خدا کے سامنے کیا گیا ایک مقدس عہد ہے اس لیے اسے ختم کرنے کا اختیار بھی پاپائے اعظم کے پاس ہوتا ہے۔ ہنری ہشتم بھی کیتھرین سے اپنی شادی کو خود ختم نہیں کر سکتے تھے اس لیے انہوں نے پوپ کے پاس شادی ختم کرنے کی درخواست دے دی۔ لیکن درخواست منظور کرنے کی بجائے پوپ نے الٹا 5 جنوری 1531 ء کو ایک فتویٰ جاری کیا جس میں ہنری کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ فوری طور پر این بولین سے الگ ہو جائے کیونکہ اسے دوسری شادی کی اجازت نہیں ہے اور اگر اس کی این سے کوئی اولاد ہوئی تو وہ *ناجائز* تصور ہو گی۔
ہنری نے انگلینڈ کی مقامی عدالت سے رجوع کیا جنہوں نے پھر روم (پوپ کے پاس) درخواست بھیج دی۔ ہنری کو یقین ہو گیا کہ یہاں سے بھی اس کی شنوائی ناممکن ہے۔ مسئلے کے حل کے لیے انہوں نے کیمبرج اور آکسفورڈ میں مذہبی محققین سے رابطہ کیا کہ آیا بائیبل کسی مرد کو اس کے بھائی کی بیوہ سے شادی کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔ 22 کے مقابلے میں 27 ووٹوں سے محققین نے ہنری کے حق میں فیصلہ دیا۔ لیکن ظاہر ہے کہ برطانوی یونیورسٹیوں کے محققین کی رائے پوپ پر تو اثر انداز نہیں ہو سکتی تھی، چنانچہ وہ بدستور اپنے موقف پر قائم رہے۔
7 فروری 1531 ء کو ہنری کے کارندوں نے کینٹر بری اور یورک کے کانووکیشن (جو کہ پارلیمنٹ کا مذہبی متبادل تھا) سے درخواست کی کہ وہ بادشاہ کو ”برطانوی چرچ کا سرپرست اعلیٰ“ تسلیم کر لیں۔ 5 دنوں کی دھواں دھار بحث کے بعد 11 فروری کو (آج سے 493 سال قبل) یہ درخواست منظور کر لی گئی۔ یہ برطانیہ کی رومن چرچ سے علیحدگی کی طرف سب سے بڑا قدم تھا۔
برطانیہ کی رومن چرچ سے علیحدگی کے بعد ہنری کی کیتھرین سے علیحدگی میں بھی کوئی رکاوٹ باقی نہ رہی تھی چنانچہ 1533 ء میں ہنری اور این بولین نے شادی کر لی، اسی سال ستمبر میں این نے ایک بیٹی کو جنم دیا جس کا نام الزبتھ رکھا گیا۔ (جو بعد میں بطور ”ملکہ الزبتھ اول“ 1558 ء سے 1603 ء تک، 44 سال، برطانیہ کی ملکہ رہیں )
لیکن این بولین اور ہنری کی اس ”لو میریج“ کا انجام خوشگوار نہ تھا۔ مئی 1536 ء میں این کو ”بے راہ روی اور غداری“ کے الزام میں موت کی سزا سنا دی گئی۔ ان کا سر قلم ہونے کے گیارہ دن بعد ہی ہنری نے اپنی اگلی بیوی، جین سیمور سے بیاہ رچا لیا۔
نوٹ: یہ تصویر ڈینئیل میکلیز نے 1835 ء میں بنائی تھی اور اس کا نام ”ہنری ہشتم کا این بولین سے پہلا انٹرویو“ ہے۔


