سارا قصور اکیڈمی کے ڈائریکٹر کا تھا

آسٹریا کے شہر لنز کا ایک نوجوان پروفیشنل آرٹسٹ بننے کا خواب لیے بیسویں صدی کے اوائل میں ویانا پہنچتا ہے۔
1907 میں وہ پہلی بار ویانا کے اکیڈمی برائے فائن آرٹس میں داخلے لینے کے لیے فارم جمع کرواتا ہے۔ داخلہ ٹیسٹ میں ناکامی پر دل برداشتہ ہوجاتا ہے تاہم ہاسٹل میں رہنے والے دیگر ساتھیوں کے سمجھانے پر صبر کر لیتا ہے۔ متوسط طبقے سے تعلق کے باعث معاشی مشکلات کی وجہ سے چھوٹی موٹی نوکریوں پر گزارا کرتا ہے۔ اگلے سال دوبارہ انٹری ٹیسٹ میں شرکت کرتا ہے۔ انٹرویو بھی دیتا ہے۔ پینٹنگ میں مہارت کے باوجود قسمت اس بار بھی اس کا ساتھ نہیں دیتی اور اسے مطلوبہ شعبے میں داخلہ نہیں ملتا اور اکیڈمی کا ڈائریکٹر اسے مسترد ہونے کا خط تھما دیتا ہے۔
زندگی کے ان مشکل دنوں اور ویانا میں رہائش کے دوران اس نوجوان کی ملاقات خطے کے سیاسی حالات پر نظر رکھنے والے کچھ ایسے افراد سے ہو جاتی ہے جس سے اس کے نظریات تبدیل ہو جاتے ہیں اور وہ سیاست میں دلچسپی لینا شروع کر دیتا ہے۔ اسی اثناء میں پہلی جنگ عظیم چھڑ جاتی ہے اور یہ نوجوان فوج کا حصہ بن کر 16 ویں بویرین ریزرو ریجمنٹ کا حصہ بن جاتا ہے۔ جنگ کی تباہ کاریوں اور اس دور کے حالات کا جائزہ لے کر جنگ کے بعد جرمن ورکرز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیتا ہے۔
فن خطابت میں مہارت کے باعث جلد ہی وہ نظروں میں آ کر پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس چیز کا فائدہ اٹھا کر وہ پارٹی چھوڑنے کی دھمکی دے کر رہنما بن جاتا ہے۔ کچھ عرصے بعد پارٹی کا نام تبدیل کر کے نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی رکھ دیتا ہے۔ 1922 میں پارٹی پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے سیاہ و سفید کا مالک بن جاتا ہے۔ 1923 میں فوج کے چند اعلی افسران اور پارٹی ورکرز کے ساتھ مل کر جرمن ریاست بویریا ”بائرن“ کی حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کوشش میں ناکامی کے دوران گولی لگنے سے زخمی اور بعد ازاں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔
پانچ سال کی سزا ملنے کے باوجود آٹھ ماہ بعد رہائی پاتا ہے۔ اسی عرصے میں اپنی کتاب میری جنگ (جدوجہد) لکھ ڈالتا ہے۔
پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی ناکامی کا بدلہ لینے، اتحادی ممالک کی جانب سے عائد سخت شرائط اور پابندیوں سے ملک کو نکالنے، معیشت کی خرابیوں کو دور کرنے، بنیادی سہولتیں اور روزگار فراہم کرنے کے دلفریب نعروں اور نفرت کی سیاست کے ساتھ ایک نئی شروعات کرتا ہے۔
1932 کے انتخابات میں اس کی جماعت پارلیمنٹ میں زیادہ نشستیں لینے والی جماعت بن کر سامنے آتی ہے۔ سادہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود وکٹری تقریر کر کے وہ چانسلر کا امید وار بن بیٹھتا ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچا دیتا کہ صدر مملکت کو مجبوراً اس کی پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت دینا پڑتا ہے اور یوں مار دھاڑ اور نفرت کی سیاست کرنے والا اڈولف ہٹلر 10 سال میں ایک عام ورکر سے پہلے پارٹی رہنماء اور پھر جرمنی کی سیاہ و سفید کا مالک بن جاتا ہے۔ اور پھر دنیا دیکھتی ہے کہ اپنی مرضی کے اکیڈمی میں داخلے سے محروم ایک شخص دنیا کی ایسی کی تیسی پھیر دیتا ہے۔

