انتخابی نتائج نے بحران بڑھا دیا
اتوار کو شائع ہونے والے حتمی نتائج کے اعداد و شمار کے مطابق عمران خان کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے قومی اسمبلی کی 93 نشستیں جیت لیں، پی ڈی ایم میں شامل جن جماعتوں نے انہیں تقریباً دو سال قبل اقتدار سے بے دخل کیا انہوں نے مجموعی طور پہ قومی اسمبلی کی 160 نشستیں حاصل کر لیں جن میں نواز لیگ نے 75، پیپلز پارٹی نے 54، ایم کیو ایم نے 17، جے یو آئی نے 5، مسلم لیگ قاف نے 3 اور دیگر گروپوں نے 7 سیٹیں جیتی۔
سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں نواز لیگ نے 137، تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے 116، پی پی پی نے 10، عام آزاد امیدواروں نے 22 اور کئی چھوٹی جماعتوں نے مجموعی طور پہ 10 نشستیں بچا لیں۔ سندھ میں پی پی پی 84، ایم کیو ایم 28 اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی 11 سیٹوں کے علاوہ چھوٹے گروپوں نے 8 نشستیں جیت لیں۔ اسی طرح خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے 84، جے یو آئی 8، نواز لیگ 5، عام آزاد 8، پیپلز پارٹی 4، پرویز خٹک کی پارلیمنٹیرین 2، اے این پی 1 اور جماعت اسلامی صرف 2 نشستیں جیت سکی۔
بلوچستان میں پی پی پی نے 11، مسلم لیگ 10، جے یو آئی 11 اور 5 عام آزاد امیدواروں کے علاوہ سات علاقائی جماعتوں نے مجموعی طور پہ 10 نشستیں جیتیں۔ عام انتخاب کے لیے گزشتہ جمعرات کو ہونے والی ووٹنگ سے قبل تشدد کے واقعات اور موبائل فون بندش کے خلاف احتجاج کی گونج میں دھاندلی کے الزامات نے پورے انتخابی عمل کو جزئیات تک گہنا دیا۔ ریاستی قوت کے بل بوتے دبانے کی کوششوں کے باوجود انتخابات میں عمران خان کی پارٹی سے منسلک امیدواروں کی شاندار کارکردگی نے جہاں ایک طرف ملک کے طاقتور جرنیلوں کی سبکی کے اسباب مہیا کیے وہاں زیادہ تر سیاسی پیشگوئیوں کو غلط ثابت کر کے سیاسی بحران دوچند کر دیا لہذا انہی غیرمتوقع نتائج نے جہاں سانحہ مئی کے فوجی بیانیہ کو دفن کر دیا وہاں زخم خوردہ قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کے حامیوں کے دل و دماغ میں بجلیاں بھر دیں، ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا لب و لہجہ نہایت تلخ ہو گیا، مقتدرہ کے قریب سمجھی جانے والی سندھ و بلوچستان کی علاقائی تنظیموں اور مذہبی جماعتوں کا تشویشناک ردعمل نیک شگون نہیں ہو گا، کراچی میں جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم نے ایم کیو ایم کو جتوانے، پشاور میں اے این پی کے صدر ایمل ولی خان نے قوم پرست جماعتوں کو بلٹ اور بیلٹ سے نشانہ بنانے اور اندرون سندھ میں جی ڈی اے کے سربراہ پیر پگاڑا نے پیپلز پارٹی کو کامیاب کرانے کے لئے مقتدر حلقوں پہ دھاندلی کا الزام عائد کرنا محل نظر ہے۔
پی ٹی آئی پہلے ہی الیکشن میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے اور پولنگ کے دن دھاندلی ثابت کرنے کے لئے بڑے پیمانہ پہ انتخابی عذر داریاں داخل کرنے کے علاوہ مبینہ فارم 45 کو لے کر سوشل میڈیا پہ ہنگامہ برپا رکھنے میں مصروف ہے۔ علی ہذالقیاس، تازہ الیکشن کے نتیجہ میں کسی جماعت کو حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت نہ مل سکی، اس لیے پاکستان میں پھر ایسی مخلوط حکومت بننے کا امکان ہویدا ہے، جس میں مقتدرہ کو ہمیشہ کی طرح حتمی ثالث کے طور پر یہ فیصلہ کرنے کا اختیار مل گیا کہ ملک کا وزیراعظم کون ہو گا کیونکہ شدید نوعیت کی گروہی کشمکش کے باعث ذہنی لچک سے محروم ہماری قومی قیادت باہم مل کر کوئی راہ عمل نکالنے کی استعداد سے عاری نکلی، یہی وجہ ہے جو نواز شریف اور عمران خان سمیت کوئی وزیراعظم کبھی اپنے عہدے کی مدت پوری نہیں کر سکا۔
اب بھی سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور عمران خان دونوں نے جمعہ کو انتخابات میں اپنی کامیابیوں کے متضاد دعوی کر کے ملک میں جاری سیاسی بحران کی مزید گہرا کر دیا۔ تاہم سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ملکی تاریخ کے اس متنازعہ ترین الیکشن کے نتائج سے ایک طرف جہاں یہ ثابت ہوا کہ ہماری مقتدرہ بتدریج قومی سلامتی اور مملکت کی حاکمیت اعلی پہ غلبہ کی استعداد کھو رہی ہے، وہاں دوسری جانب خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کی لہر اور بلوچستان میں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی جیسی ملک گیر جماعتوں کی کامیابی نے قومی سلامتی کی حرکیات کو بدل کے رکھ دیا، یعنی پس منظر میں دراصل پاکستانی قوم ایسی صحتمند وحدت کی طرف بڑھ رہی ہے جو عن قریب اسے ایک مربوط قوم کے سانچے میں ڈھال کر ساورن بنا سکتی ہے۔
نواز لیگ نے 8 فروری کے انتخابات میں بطور جماعت کسی ایک پارٹی سے سب سے زیادہ نشستیں جیتیں۔ نواز شریف کی ہدایت پر ان کی پارٹی مخلوط حکومت بنانے کے لیے دوسرے گروپوں سے بات چیت میں مصروف ہے۔ تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی تھی کہ کوئی واضح اکثریت نہ لے سکا تو ایک ایسے ملک کی پریشانیوں میں اضافہ ہو گا جو اقتصادی بحران سے نکلنے اور گہرے پولرائزڈ سیاسی ماحول میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔
نواز شریف نے 9 فروری کو لاہور میں اپنے انتخابی آفس کے باہر جمع ہونے والے حامیوں کے ہجوم کو بتایا کہ ”مسلم لیگ آج انتخابات کے بعد ملک کی واحد سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرنے کے باعث ملک کو بھنور سے نکالنا اپنا فرض سمجھتی ہے، انہوں نے کہا کہ جس کو بھی عوامی مینڈیٹ ملا، چاہے وہ آزاد ہوں یا پارٹیاں، ہم تمام لوگوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے انہیں مل بیٹھنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ اس مجروح قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں کچھ مدد کر سکیں۔
تاہم عمران خان نے نواز شریف کے جیتنے کے دعوے کو مسترد کر کے سیاسی تضادات کو زیادہ گہرا کر دیا، بانی پی ٹی آئی ان دنوں ریاستی رازوں کے افشاں، بدعنوانی اور غیر قانونی شادی کے الزام میں قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔ بلاشبہ انتخابات سے قبل نوا شریف کو ملک کی قیادت کے لیے سب سے زیادہ فیورٹ اور اہل سمجھا جا رہا تھا، جس نے طاقتور فوج کے ساتھ طویل عرصے سے جاری اپنے تنازعات کو دفن کر کے ملک و قوم کی خاطر بڑے پیمانے کی سیاسی مفاہمت کے لئے آمادگی ظاہر کی تھی۔
شریف نے کہا کہ ان کی پارٹی سادہ اکثریت حاصل کرنے کی متمنی تھی لیکن اس کی عدم موجودگی میں وہ پیپلز پارٹی کے سابق صدر آصف علی زرداری سمیت دیگر گروپوں سے رابطہ کرے گی تاکہ حکومت سازی کے لئے اتفاق رائے حاصل کیا جا سکے۔ اپنے پہلے ردعمل میں، عمران خان کے نمائندے بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما آپس میں مشاورت کے بعد خان سے جیل میں ملاقات کر کے مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کے لئے جو رہنمائی مانگی اس کے مطابق مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے سوا سب سے بات ہو سکتی ہے انہوں نے خان کی ہدایت آزاد حیثیت میں جیتنے والے اپنے امیدواروں کو وحدت المسلمین میں شامل ہونے کے علاوہ علی امین گنڈا پور کو خیبر پختون خوا کا متوقع وزیراعلی نامزد کرنے کا مژدہ جاں فزا بھی سنایا۔
واضح رہے کہ پاکستان کے انتخابی قوانین کے تحت آزاد ارکان اپنے طور پر حکومت نہیں بنا سکتے جس میں اقلیتوں اور خواتین کی مخصوص نشستوں کا شامل ہونا لازمی ہے جو ان کی اعدادی جیت کی بنیاد پر پارٹیوں کو الاٹ کی جاتی ہیں تاہم آزاد امیدواروں کو انتخابات کے بعد کسی بھی پارٹی میں شامل ہونے کا اختیار ہوتا ہے۔ امید کی جا رہی تھی کہ اصل انتخابی معرکہ خان کے حمایت یافتہ امیدواروں اور نواز لیگ کے درمیان ہو گا لیکن غیر متوقع طور پہ پی ٹی آئی نے سیاسی مقابلہ کی مہمات کا رخ فوج کی طرف پھیر کر ریاستی ڈھانچہ کو مرتعش کر دیا۔
برطانیہ سے آزادی کے 76 سالوں میں جوہری ہتھیاروں سے لیس فوج نے ملک پر بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پہ سیاسی غلبہ قائم رکھا لیکن عالمی طاقتوں، بالخصوص امریکی آشیرواد سے فوج نے مدت تک اس تاثر کو برقرار رکھا کہ وہ سیاست میں مداخلت نہیں کرتی تاہم افغانستان میں ذلت آمیز شکست کے بعد مغربی طاقتیں خاص کر زخم خوردہ امریکی عمران خان کی پاپولر لہر کے ذریعے فوج کی ملک کے اقتدار اعلی سے مکمل بے دخلی کی سکیم پہ عمل پیرا ہیں، حالانکہ ماضی میں پاکستان میں فوجی حکمرانی کے اصل بینیفشری امریکی رہے جنہوں نے جنوبی ایشیا خاص کر برصغیر پر روسی غلبہ کی راہ روکنے کے لئے اسے اسلامی نظریاتی مملکت اور عالمی فوجی اڈے کے طور پہ استعمال کیا اور اپنے انہی مفادات کی آبیاری کی خاطر ماضی میں لیاقت علی خان، حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو سے لے کر نواز شریف جیسے پاپولر لیڈرز کو ٹھکانے لگانے کا اہتمام کرتے رہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت کو جن چیلنجوں کا سامنا ہو گا، اس میں معاشی مسائل اور دہشتگردی سے نمٹنا زیادہ اہم ہوں گے، مغربی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اتحادی حکومت ممکنہ طور پر غیر مستحکم اور کمزور ہو گی اور اس میں سب سے زیادہ سبکی مقتدرہ کی ہو گی کیونکہ فوج نے واقعی عوامی مینڈیٹ لینے کی پیش دستی پر اپنی ساکھ داؤ پر لگائی، انتخابات سے ان بحرانوں کو حل کرنے میں مدد کی توقع کی جا رہی تھی جن سے پاکستان نبردآزما ہے لیکن عوام کا منقسم فیصلہ ایسی قوتوں کے مزید طاقت فراہم کرے گا جو عدم استحکام پیدا کرنے کا محرک بنیں گی۔


