حکومت کی آزمائش والا نومبر پھر آئے گا


ہر دس سال بعد ایک نیا نقارہ بجتا ہے ایک نئی کہانی سنائی جاتی اور پچھلی بھول جاتی ہے۔ یہ کہانی ہماری یاد میں نظام مصطفیٰ کی تحریک سے شروع ہوئی تھی جو اگلے دس سالوں میں جب شہید بے نظیر بھٹو جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئیں تو بھلا دی جا چکی تھی۔ ایک نئی نسل ہاتھ میں بیلٹ پیپر اٹھا کر جمہوریت کے لئے ووٹ دینے نکلی اور ریاست کے گزشتہ دس سالوں کے بیانیہ کو جھٹلا دیا۔

نوے کی دہائی میں سیاسی بیساکھی کے طور پر انتخابی نشان سائیکل دے کر ایک مذہبی سیاسی اتحاد کھڑا کر کے سرکاری خزانہ لٹایا گیا۔ سرکاری سرپرستی میں ایک ایسی چوری ہوئی جس کو ثابت کرنے کے بعد بھی نہ کسی نے معذرت کی اور نہ ہی پیسہ واپس کیا بلکہ سب ایک بار پھر ایک ایسی کرپشن کے خلاف جہاد میں مصروف ہوئے جو آج تک کہیں ثابت نہ ہو سکی۔

جب سائیکل والوں نے شیر کی کھال اوڑھ لی تو سرکس والوں نے انھیں پنجرے میں بند کر کے سائیکل کے لئے ایک بار پھر نئی سواری کا بندوبست کیا۔ یہ سواریاں اس وقت بکھر گئیں جب راولپنڈی کے لیاقت باغ کا سبزہ زار ایک اور وزیر اعظم کے لہو سے رنگین ہوا۔

اپنے لہو سے وطن میں جمہوریت کی قندیل روشن کرنے والی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی شہادت سے قبل ہی اپنے حریفوں کے ساتھ میثاق جمہوریت کی دستاویز پر دستخط کر کے ملک میں عوامی راج کے راستے میں بار بار حائل ہونے والی رکاوٹیں ختم کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔ انھیں خود تو زندگی نے اپنے خواب کے شرمندہ تعبیر ہونے تک وفا نہ کیا مگر آئین میں اٹھارہویں ترمیم ان ہی کے میثاق جمہوریت کا ثمر ہے۔

میثاق جمہوریت اور اٹھارہویں ترمیم کے بعد جمہوریت اور آمریت کا سرکس چلانے والوں کے ہاتھ میں کچھ زیادہ بچا نہیں تھا تو عدالت چلانے والوں نے اپنا کردار ادا کیا اور ایک بار پھر کسی بھی منتخب وزیر اعظم کو اپنی مدت پوری نہ کرنے کی تاریخ کو برقرار رکھا۔ اب کی بار سرکس شاہرہ دستور پر لگا تھا تو یہاں پر دھرنوں کی بھی ایک تاریخ رقم ہوئی۔

سن 2008ء سے 2018ء تک کا دور جو جمہوریت کے استحکام کے لئے اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں وجود میں آنے والے نئے اداروں کی تشکیل اور تنظیم نو کے لئے کوششوں کا ہونا تھا حکمرانوں کا اپنی کرسی اور حکومت کے دفاع میں گزر گیا۔ دو وزرائے اعظم ایک ایسے عہدے دار کے حکم سے گھر گئے جس کو نہ ایسا کرنے کا اختیار تھا نہ کوئی قانون۔

پاکستان میں ہر تیسرے سال کا نومبر اہم ہوتا ہے جب ایک سرکاری عہدے کی میعاد ملازمت ختم ہوجاتی ہے۔ حکومت جیسی بھی مستحکم ہو، ملک چاہے ترقی کی راہ پر گامزن ہو ہر تیسرے سال کے پہلے مہینے سے ہی فضاء مکدور ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ حکومت کے اتحادی گلے شکوے کرنا شروع کر دیتے ہیں، مخصوص صحافی بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور اداروں کے درمیان بھی دوریاں نظر آجاتی ہیں۔ اگست میں اسلام آباد اور راولپنڈی میں گرمی کے حدت کے ساتھ سیاسی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ نومبر تک پیش آنے والے واقعات کے نتیجے میں ایک عہدے دار کی نئی تقرری ہوتی ہے یا پرانے کی مدت ملازمت میں توسیع مگر ہر دو صورتوں میں یہ سلسلہ سیاسی حکومت کو اگلے انتخابات میں ناقابل تلافی نقصان پر منتج ہوتا ہے۔

ایک ایسے ہی سال میں جب ایک عہدہ دار اپنی مدت ملازمت کی توسیع کے لئے سرگرداں تھا اور اس کے حق میں اسلام آباد کی سڑکوں پر بینر آویزاں تھے تو دوسری طرف کینیڈا سے خصوصی طور بلائے گئے ایک سیاسی و مذہبی راہنما اور پاکستان کی ایک نئی نئی ابھرنے والی سیاسی جماعت کے درمیان اتحاد سے حکومت کے خلاف ایک لمبا دھرنا دیا گیا تھا۔ اس دھرنے کی ترویج کا اہتمام اس خوبصورتی سے کیا گیا تھا کہ ہر رات پرائم ٹائم کے دوران اس کے قائد کی تقریر پوری کی پوری نشر ہو جو چاہے خالی کرسیوں کے پنڈال میں ہی کیوں نہ ہو۔

لگتا ہے اب کی بار ہر تیسرے سال کا نومبر صرف موجودہ عہدے دار کی تقرری کے لئے ہی اہم نہیں بلکہ مستقبل میں اس عہدے پر نظر رکھنے والوں نے بھی اس سیاسی اتھل پتھل سے فائدہ اٹھانے کی ٹھانی تھی۔ جب اس دور کی حکومت کے خلاف تحریک چلائی جا رہی تھی تو کچھ عہدے داروں نے مستقبل میں ایک ایسی حکومت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جو ان کی منشا و مرضی کی ہو۔ ایسا ممکن اس وقت ہوا جب عدالت نے بھی اس نئے منصوبے میں حصہ ڈالا اور ایک بار پھر منتخب وزیر اعظم کو عہدے دار کی مدت ملازمت میں توسیع کے باوجود جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا گیا۔

حکومت انتخابات میں ہار گئی جو دھرنوں میں تھے وہ ایوان اقتدار تک پہنچ گئے۔ نومبر پھر آ گیا مگر اب کی بار نئی آنے والی حکومت سے کچھ اور لوگوں کی بھی امیدیں وابستہ تھیں جو دھرنوں اور احتجاج میں اس کے معاون و مدد گار تھے۔ امیدیں رکھنے والوں نے حکومت کو باور کروا دیا کہ ان کی تقرری اگلے دس سال حکومت کے چلنے کی ضمانت ہو سکتی ہے۔

دو سیاسی جماعتیں جنھوں نے میثاق جمہوریت اور اٹھارویں ترمیم کے باوجود اپنے اپنے حصے کے نومبر بھگتائے تھے دونوں نے اب کی بار اس سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی مگر اس کے بعد جو لوگ اقتدار میں غیر مقبول ہوئے تھے سڑکوں پر آ کر مقبول ہو گئے۔ حکومت نے انتخابات کروانے میں تامل کا مظاہرہ کیا تو ہر گزرتے دن حکومت کی گو شمالی بڑھتی گئی۔ جب انتخابات ہوئے تو نتائج ایسے نکلے جو دی گریٹ ری سیٹ کے لئے اپ سیٹ ثابت ہوئے ہیں۔

ایک سیاسی جماعت انتخابی نشان کے بغیر بھی انتخابات جیت چکی ہے جو حکومت بنانے سے محروم کردی گئی ہے، وہ کم از کم ایک ایسے صوبے میں حکومت بنائے گی جو ہر لحاظ سے اہم ہے۔ قومی اسمبلی میں اکثریت کے حامل جماعت کی ایک قوی حزب اختلاف ہوگی جس کی نہ صرف حکومت سے بلکہ اہم قومی اداروں کے ساتھ بھی مخاصمت برقرار رہے گی۔ جس انداز میں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے اس سے نہ صرف متاثر ہونے والوں بلکہ عام لوگوں خاص طور پر عام سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنان، صحافیوں اور دیگر افراد میں بڑے پیمانے پر اس سیاسی جماعت سے ہمدردی پیدا ہو چکی ہے جو پہلے نہیں تھی۔

سب عوامل مل کر ایک ملک میں ایسی سیاسی فضاء پیدا کرنے میں مدد گار ہوں گے جہاں حکومت کے لئے اخلاقی جواز کم سے کم ہوتا جائے گا۔ نئی حکومت کو ملک کے دگرگوں معاشی مسائل کے حل کے لئے ایک بار پھر آئی ایم ایف کے دروازے پر جانا پڑے گا جس سے ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور افراط زر میں مزید اضافہ ہو گا۔ ملک میں جہاں عام آدمی کی مہنگائی اور بے روزگاری سے کمر ٹوٹ چکی ہے مزید بوجھ برداشت کرنے کا قابل نہیں تو ایسے میں آنے والی حکومت کے لئے حالات انتہائی کٹھن ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں آنے والی حکومت کو بھی اپنے حصے کا نومبر اپنے اصولوں پر گزارنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو گا جو پھر آنے والا ہے۔

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan