اینف از اینف (Enough is enough) پر ایمل ولی خان سے 22 سوال
محترم ایمل ولی خان صاحب، آپ کی اینف از اینف (Enough is enough) والی تقریر کا مرکزی اقتباس، لفظ بلفظ نیچے لکھا ہوا ہے، اور اس کے بعد اسی اقتباس پر مبنی چند سوالات ہیں۔ آپ پہلے اپنی تقریر کا مذکورہ حصہ دیکھیں، کہیں اس میں کوئی کمی بیشی تو نہیں۔ اور اس کے بعد اس سے متعلق سوالات پڑھیں۔ ممکن ہو تو وضاحت دیں تاکہ مستقبل میں مورخ کو کوئی کنفیوژن پیدا نہ ہو۔
"2008 سے لے کر 2024 تک عوامی نیشنل پارٹی نے پختونخوا میں قیام امن کے لئے، دہشت گردی کے خلاف، انتہا پسندی کے خلاف، اس سوچ کے ساتھ، کہ عوامی نیشنل پارٹی ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر، اپنی قوم کے لئے مسائل کا حل ڈھونڈے گی، ہم ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے ہوئے، ہر حد تک کھڑے ہوئے، ہم اس حد تک گئے، کہ اسی ایسٹبلشمنٹ کے لئے ہم نے، اس ملک کے لئے، اس وطن کے لئے، سینوں پر گولیاں کھائیں۔ ہماری ذاتی دشمنیاں کوئی نہیں تھیں، ہماری ذاتی ضد، انا کوئی نہیں تھی۔ لیکن ہم نے کہا چلیں، پاکستان کے لئے، پختون کے لئے، پختونخوا کے لئے، اپنے وسائل کے لئے، اپنے فیوچر کے لئے، مستقبل کے لئے، ہم ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر، قوم کی خدمت کریں۔ جہاں پر آج ہم اس فیصلے پر پہنچے ہیں، کہ یہ ہماری بہت بڑی غلط فہمی اور غلطی ہے، (تالیاں) کہ ایسٹبلشمنٹ آف پاکستان پختونوں کے لئے، پختونخوا کے لئے، میرے لیے، اور آپ کے لئے کوئی اچھا سوچ رکھتی ہے۔ اینف از اینف۔ اب اور نہیں چلے گا۔ اے این پی کے لئے پاکستان میں دو راستے رکھے (گئے) ہیں، ہمیں دو راستوں سے مارا جاتا ہے، ہماری تقدیر میں بلٹ اور بیلٹ (ہے)، ہمیں بلٹ کے سامنے بھی رکھا جاتا ہے اور بیلٹ سے بھی ہرایا جاتا یے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مزید اپنی قوم اور پختونخوا کی ترجمانی کر کے، میں یہ سمجھتا ہوں، عوامی نیشنل پارٹی یہ سمجھتی ہے، کہ مزید پختون قوم کے وسائل کے لئے، تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، تمام تر لوگوں کے نظریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، عوامی نیشنل پارٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے، جس طرح ایک دور تھا، اور اللہ بخشے، مرحوم جناب خان عبدالولی خان نے پریس کانفرنس کرکے اعلان کر دیا، کہ باچا خان کی سیاست کا صفحہ میں نے الٹ دیا، مزید وہ سیاست ہمارے لیے، اس وقت ہمارا بیانیہ تھا، کہ مزید فایدے نہیں لا سکتی۔ میں یہ سمجھتا ہوں، کہ قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے، ایک لیڈنگ رول اختیار کرتے ہوئے، میں آج یہ اعلان کرتا ہوں، کہ پچھلے بیس سال کی سیاست کا صفحہ میں نے الٹ دیا ہے۔ اب ایک بات میں واضح کر دوں، کہ میں آج سے اپنا آئینی اور جمہوری کردار ادا کرتا رہوں گا۔ خواہ وہ کسی کو اچھا لگے یا برا۔ ہوسکتا ہے مجھے اس جدوجہد میں اینٹی سٹیٹ بھی قرار دے دے۔ جو میں صراحتاً کہتا ہوں، کہ میں ریاست مخالف نہیں، لیکن اس قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے، میں یہ بھی واضح کر دوں، کہ ہمیں مجبور نہ کیا جائے، کہ ہم خدانخوستہ، اس ریاست کے مخالف ہوگئے، کیونکہ اگر یہ لوگ اس ریاست کے مخالف ہو گئے، تو یہ آپ کو اگلا پچھلا یاد دلا دیں گے۔ (تالیاں) "
محترم ایمل ولی خان صاحب، آپ نے 2008 سے 2024 تک ایسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر جس تعاون کا اعتراف کیا ہے، اور اب آپ نے اس سے اپنے رشتے ناطے توڑنے کا اعلان کر دیا، ایسا اعتراف اور اعلان، بہت سارے سیاستدان کرنے کی جرات نہیں کرسکتے۔ اس کے لئے میں آپ کی صاف گوئی کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اگرچہ کچھ حلقے آپ کے ماضی کو دیکھتے ہوئے اب بھی شک و شبہہ کا اظہار کرتے ہیں۔ کیونکہ ماضی میں ایک دفعہ آپ نے ‘یہ جو نامعلوم ہے یہ ہمیں معلوم ہے’ کا نعرہ لگایا تھا اور ایک دفعہ چارسدہ یونیورسٹی پر حملے کے دوران ‘یا بہ طالبان وی یا بہ پاکستان وی’ یعنی طالبان رہیں گے یا پاکستان، کا نعرہ بھی لگایا تھا، لیکن اس کے بعد آپ خاموش ہوگئے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ اس دفعہ آپ نے واقعی اپنے رشتے ناطے توڑ کر مزاحمتی سیاست کا راستہ اختیار کرلیا ہے۔ جس کا ثبوت، آپ کے دائیں بائیں بیٹھے، اے این پی کے زخمی بزرگ رہنما میاں افتخار حسین اور غلام احمد بلور تھے، جنکے قریبی عزیز آپ کے اس تعاون کے دوران جان سے مار دیے گئے، لیکن اس کے باوجود، بوجوہ، آپ ان بزرگوں کو کبھی دائیں بائیں بٹھانے اور پریس کانفرنس کرنے کے روادار یا اختیار مند نہیں تھے۔
آپ کے اس سترہ سالہ تعاون پر مبنی سمجھوتے یا معاہدے کے دوران پختونخوا میں کچھ ایسے واقعات اور سانحات وقوع پذیر ہوئے، جس نے آپ کی پارٹی، پختونخوا، یہاں کے باشندوں اور سیاست پر دیرپا اور ناقابلِ تلافی اثرات ڈالے۔ وقوع پذیر ہونے والے ان واقعات اور سانحات کے بارے میں، آپ سے چند سوالات کرنے کی اجازت طلب کرتا ہوں۔ امید ہے آپ جواب دیں گے۔
پہلا سوال یہ ہے کہ آپ نے ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ، تعاون پر مبنی جو معاہدہ کیا تھا، کیا آپ وہ معاہدہ قوم کے سامنے لانا چاہیں گے، تاکہ معلوم ہو جائے کہ آپ نے کن وجوہات، مفادات یا مجبوریوں کی وجہ سے ایسا کیا تھا؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا آپ اس وقت بھی ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر رہے تھے، جب غلام احمد بلور اور میاں افتخار حسین کے جگر گوشے قتل کر دیے گئے تھے؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ جب سوات اور وزیرستان میں آپریشن کئے گئے، جن میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے اور سینکڑوں مارے گئے، تو کیا اس وقت بھی آپ ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر رہے تھے؟ اور ایسا اس تعاون کی وجہ سے ہوا؟
چوتھا سوال یہ ہے کہ جب اے این پی کے ہزار سے زائد کارکنان اور رہنما قتل کئے گئے، تو کیا آپ اس وقت بھی ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر رہے تھے؟ اور وہ معصوم آپ کی تعاون کی پاداش میں قتل کئے گئے؟
پانچواں سوال یہ ہے کہ جب وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں میں، روزانہ آدھے درجن کے قریب ڈرون حملے کئے جاتے تھے، اور دہشت گرد مارنے کے نام پر پختون بچے، بوڑھے، خواتین، آبادیاں، مساجد اور مدارس نشانہ بنائے جاتے تھے، تو کیا آپ اس وقت بھی ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر رہے تھے؟
چھٹا سوال یہ ہے کہ جب پختونخوا کے بچوں کے اٹھارہ ہزار سکول بارود سے اڑائے گئے، تو اس دوران بھی آپ ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر رہے تھے؟
ساتواں سوال یہ ہے کہ جب پختونخوا کے مختلف تعلیمی اداروں پر حملے ہو رہے تھے، تو کیا اس وقت بھی آپ ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر رہے تھے؟
آٹھواں سوال یہ ہے کہ جب اے پی ایس کے اندر سو سے زائد بچے بے رحمی سے قتل کر دیے گئے، تو کیا اس وقت بھی آپ کا تعاون ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ جاری رہا۔
نواں سوال یہ ہے کہ جب لکی مروت کے شاہ حسن خیل گاؤں میں سارے مرد والی بال کھیلتے ہوئے قتل کردیے گئے، جسے اب بیواؤں کا گاؤں کہا جاتا ہے، تو کیا اس کے بعد بھی آپ کا تعاون ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ جاری رہا۔
دسواں سوال یہ ہے کہ جب روزانہ پشاور، بنوں، کوہاٹ، چارسدہ، سوات، اور مردان میں خودکش حملے ہوا کرتے تھے، تو کیا اس وقت بھی آپ ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر رہے تھے؟
گیارہواں سوال یہ ہے کہ جب ڈمہ ڈولہ، باجوڑ میں، بچوں کے مدرسے پر کئے گئے ڈرون حملے میں سو کے قریب بچے مار دیے گئے، اور مشر اسفندیار ولی خان اس کے خلاف باجوڑ جاتے ہوئے ناوہ گئی سے آگے جانے نہیں دیے گئے، تو کیا اس وقت بھی آپ ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر رہے تھے؟
بارہواں سوال یہ ہے کہ جب فاٹا کو پختونخوا میں ضم کیا جا رہا تھا، اور آپ اس انضمام کی حمایت کر رہے تھے، تو کیا اس وقت بھی آپ ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر رہے تھے؟
تیرہواں سوال یہ ہے کہ جب خڑ کمر کا واقعہ رونما ہوا، اور بیگناہ نہتے پختون بچے اور جواں اپنے خون میں نہلائے گئے، تو کیا آپ لوگوں نے مرنے والوں کو تشدد پسند اس لیے کہا تھا، کہ آپ ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر رہے تھے؟
چودھواں سوال یہ ہے کہ جب علی وزیر قید و بند کی صعوبتیں بھگت کر آزاد ہوا، تو آپ نے اسے "ڈیل” کہہ کر رسوا کرنے کی کوشش کی، تو کیا وہ بھی آپ ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر رہے تھے؟
پندرھواں سوال یہ ہے کہ اس دوران، جب آپ بار بار اپنے سینکڑوں کارکنان کی قربانیوں کا ذکر کرتے، اور ہم پختون سمجھتے، کہ آپ کے مخاطب ہم ہیں، لیکن آپ دراصل ایسٹبلشمنٹ کو اپنی قربانیوں کی یاد دہانی کراتے تھے تو کیا ایسا ہی تھا؟
سولہواں سوال یہ ہے کہ جب شدید سردی میں افغان مہاجرین واپس کیے جا رہے تھے اور آپ رضامندی کا اظہار کر رہے تھے، تو اس وقت بھی آپ ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر رہے تھے؟
سترھواں سوال یہ ہے کہ جب آپ پی ٹی ایم اور ٹی ٹی پی کو ایک باور کرا رہے تھے تو اس وقت آپ ایسٹبلشمنٹ سے تعاون کر رہے تھے؟
آٹھارواں سوال یہ ہے کہ منظور پشتون کو جب آپ ایسٹبلشمنٹ کا بندہ کہتے تھے تو کیا اس وقت بھی آپ ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر رہے تھے؟
انیسواں سوال یہ ہے کہ عمران خان کی رخصتی کے بعد آپ کی محنت کے بدلے میں میاں افتخار حسین کو گورنر بنانے کی بات چل رہی تھی، اور آپ نے غلام علی کو گورنر بنانے کی سفارش کردی، کیونکہ میاں افتخار حسین اور غلام احمد بلور گڈ بک میں نہیں ہیں، تو کیا آپ اس وقت بھی ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر رہے تھے؟
بیسواں سوال یہ ہے کہ اس سارے تعاون کے بدلے میں آپ نے کیا مفادات حاصل کئے، نیز پختونوں اور پختونخوا کو کیا ملا؟ کیا آپ اس کے بارے میں وضاحت پیش کرنا چاہیں گے؟
اکیسواں سوال یہ ہے کہ اتنی مدت تک قتل و غارت اور تباہی برپا ہونے کے باوجود آپ آج تک خاموش رہے، اس دوران آپ الیکشن پر الیکشن ہارتے رہے، اور ناراض یا مایوس نہیں ہوئے، تو پھر اس الیکشن میں ایسی کیا خاص بات ہوئی ہے، کہ آپ نے ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ اپنا تعاون ختم کردیا؟
بائیسواں سوال یہ ہے کہ آپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ اینف از اینف! آئیندہ میں پختونوں کے نمائندہ کی حیثیت سے اپنا جمہوری اور آئینی کردار ادا کروں گا، خواہ کسی کو اچھا لگے یا برا، تو کیا آپ پر کوئی دباؤ تھا کہ آپ آج تک پختونوں کے لئے اپنا جمہوری اور آئینی کردار ادا نہیں کر سکے؟


