طاہر بن جیلون اور ریت کا دروازہ


Shahzad Hussain Bhatti Lahore

ریت کا دروازہ مراکشی ادیب طاہر بن جیلون کا شہرہ آفاق ناول ہے جو انہوں نے فرانسیسی زبان میں تحریر کیا۔ مادری زبان عربی ہونے کے باوجود ان کا زیادہ تر کام فرانسیسی زبان میں ہی ہے۔ وہ یکم دسمبر 1944 کو مراکش میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد وہ جامع محمد الاخمص رباط میں فلسفے کے پروفیسر بھرتی ہوئے۔ اسی دور میں ہی انہوں نے سیاسی جریدے سوفلز کے لیے نظمیں لکھنا شروع کیں۔ اپنے پہلے شعری مجموعہ کی اشاعت کے بعد وہ نفسیات کی تعلیم کے لیے پیرس، فرانس منتقل ہو گئے۔ یہاں بھی انہوں نے شاعری کا سلسلہ جاری رکھا اور 1972 میں انہوں نے لی مونڈے میگزین کے لیے بھی لکھنا شروع کیا۔ 1975 میں انہوں نے سماجی نفسیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

ریت کا دروازہ The Sand Child) L ’Enfant de Sable) کا اردو ترجمہ ہے۔ پہلی بار یہ ناول 1985 میں فرانسیسی زبان میں چھپ کر منظر عام پر آیا۔ ناول کے مترجم خورشید عالم ہیں جن کا تعلق بھارت سے ہے۔ جب یہ 1997 میں پہلی بار دہلی سے چھپا تھا تو یہ 204 صفحوں پر مشتمل تھا جب کہ اس کے پاکستانی ایڈیشن کے 160 صفحات ہیں۔

ناول مراکش کے سماجی ارتقا اور سیاسی منظرنامہ کے حالات و اسباب میں تحریر کیا گیا ہے جو رائج دستور اور جدید انداز فکر کے درمیان کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ مصنف نے رائج العام رسومات اور ذاتی بیانیے کو جوڑ کر بڑی چابک دستی سے ایک بھرپور اور عمیق ادب پارہ تخلیق کیا ہے۔

ناول کا پلاٹ منفرد ہے جس میں شمالی افریقہ کے ملک مراکش کے معاشرے میں صنفی شناخت جیسے حساس اور پیچیدہ موضوع کو داستان کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ ناول میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ کے بعد کا منظر نامہ پیش کیا گیا ہے۔ جہاں عرب معاشرے کی روایات جو اسلام سے اخذ شدہ ہیں کے تناظر میں عورت کے مقام اور نظام میں شراکت جیسے اہم موضوعات کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔ مصنف نے عربی ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہانی کو داستان گو کے ذریعے بیان کیا ہے اور کہانی سنانے والا سنکی کردار ہے جسے اکثر سامعین شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ناول میں ایک ایسے امیر مراکشی شخص کی کہانی بیان کی گئی ہے جو اپنی دولت اور خاندانی نام کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی اولاد میں سے مرد وارث کی خواہش لیے پریشان صورت حال سے دوچار ہے کیوں کہ اس کی بیوی صرف بیٹیوں ہی کو جنم دیتی ہے۔ وہ اس کیفیت سے نجات پانے کے لیے اپنی آٹھویں نومولود بیٹی کو لڑکے کے طور پر پیش کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ وہ اس کا نام احمد رکھتا ہے اور اس کی تربیت بھی لڑکوں ہی کی طرح کی جاتی ہے۔ لڑکی کو لڑکا بنا کر معاشرے کے سامنے پیش کرنے کا یہ فیصلہ ایسے مرحلہ وار واقعات کو جنم دیتا ہے جو روایتی معاشرتی اصولوں اور توقعات کے لیے چنوتی ہیں۔

جیسے جیسے احمد مخالف جنس کے طور پر جوان ہوتا ہے وہ اپنی شناخت، والد کی توقعات اور معاشرے کے دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے بہت جدوجہد کرتا ہے۔ لڑکوں کی طرح پرورش پانے کے باوجود وہ اپنی حقیقی شناخت سے بخوبی واقف ہے لیکن پھر بھی وہ اس پر عائد پابندیوں کی پاس داری کرتا ہے۔ پھر ایسا وقت بھی آتا ہے جب وہ اپنی دوہری شناخت کی الجھی ہوئی کیفیت کو سہتے ہوئے بیگانگی اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔

بن جیلون نے اس کہانی کے ذریعے ایسے معاشرے میں جہاں مردوں کو خواتین پر فوقیت دی جاتی ہے میں احمد کے دوہرے کردار کے ذریعے ایسی صورت حال پیدا کی ہے جس کے ذریعے صنفی شناخت اور خود مختاری کی جستجو کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ احمد کی اندرونی کشمکش ثقافتی روایات کے سامنے انفرادیت اور خود کے اظہار کے لیے وسیع تر جدوجہد کی کہانی ہے۔

مجموعی طور پر یہ ناول عورتوں کے حقوق پر تحریر کیا گیا ایک طاقتور بیانیہ ہے۔ مصنف نے عرب معاشرے اور ثقافت میں سے ایک ایسی فکر انگیز کہانی دریافت کی ہے جس کی مدد سے وہ قارئین تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کرتا ہے کہ سماجی معیارات جب افراد کی نجی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں تو وہ اپنے حقیقی اظہار کی صلاحیت کو محدود کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ احمد کا مردانہ شناخت کو زبردستی اپنانا اور پیدائشی پہچان اور خودمختاری کو معاشرتی اصولوں پر قربان کر دینا دیگر لوگوں کی توقعات کے گہرے اثر کو ظاہر کرتا ہے۔

Facebook Comments HS