انتخابات 2024 اور راندہ درگاہ تحریک انصاف

الیکشن بھی ہو گیا اور سیلیکشن بھی۔ کچھ جیتنے والے جیت کے بھی ہار گئے اور کچھ ہارنے والوں کی ہار کے بھی جیت ہوئی۔ سب سے بڑی پارلیمانی جماعت ہونے کے دعویدار لٹکے منہ فتح کا اعلان کر گئے تو ان کے شکست خوردہ ساتھی مخالف جماعت کے بارے میں یہی سوال اب تک دہرا رہے ہیں ”ان کی کیا کارکردگی تھی جو جیت سکے؟“ یعنی یہ جیتے نہیں جتوائے گئے ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ جب سے ”راندہ درگاہ“ ہوئے تب سے انہیں سوائے سانس لینے کے کوئی حق حاصل نہیں سو ”جتوانے“ کا تو سوال ہی پیداء نہیں ہوتا۔ وہ ٹھکرائے ہی صرف اس لیے گئے کہ انہوں نے ملکی اور عالمی اسٹبلشمنٹ کو اپنے ہٹائے جانے کی کی وجہ قرار دیا۔ قطع نظر ان کے دعوے کے، اسی لیے ان کے ساتھ وہ ہوا جو اب تک کسی کے ساتھ نہ ہوا۔ یہ شد و مد بتاتا ہے کہ اگر کسی بھی اسٹبلشمنٹ کو قصور وار ٹھہرا دیا جائے تو یاد رہے کہ وہ تو ہو گا ہی جس کا تصور تھا، وہ بھی ہو گا جس کا تصور بھی نہ کیا تھا۔
دوسری بات، اگر کارکردگی پر سوال اٹھا ہی دیا گیا ہے تو ہارنے والے اپنی گزشتہ سولہ ماہ کی ”کارکردگی“ چاہے بھول جائیں مگر یہ ہرگز نہ بھولیں کہ عوام وہ ڈیڑھ سالہ ”شاندار کارکردگی“ نہیں بھولے۔ جہاں ایک معتدل مزاج غیر وابستہ ووٹر کو پی ٹی آئی پر لاگو بندشوں نے راغب کیا وہیں اسے پی ڈی ایم کی سولہ ماہ کی کارکردگی نے بدظن بھی کیا۔ رانا ثناء اللہ سمیت کچھ دیگر سمجھ دار سیاست دان اس حقیقت کا برملا اظہار بھی کر چکے، یہ البتہ ایک نرا سیاسی بیان تھا کہ ”ہم عوام کو سمجھا نہیں سکے کہ اس مہنگائی کے ہم ذمہ دار نہیں“ ۔
ن لیگ نے اس انتخابات میں خود کو بہترین ظاہر کرنے کے لیے اپنے طور پر ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا مگر نواز شریف کی چھپائے نہ چھپے والی عدم دلچسپی اور بیٹی کی خاطر بادل نخواستہ کود پڑنا صاف ظاہر ہے۔ خوشامد پسند بیٹی کی ہی وجہ سے اس کے منظور نظر خوشامدیوں کو آگے لایا گیا اور کہنہ مشق سیاسی گروؤں کو نظرانداز کیا گیا جو خراب نتائج کی بڑی وجہ بنا۔
بیٹی ”قاسم کے ابا“ کو کوس کوس کر اور باپ کے ”کارنامے“ گنوا گنوا کر اس امید پر ووٹ مانگتی رہی کہ وہ اسٹبلشمنٹ کی مدد اور اپنی ”شعلہ بیانی“ سے میدان مار لے گی مگر سطحیت اور ناپختہ سوچ اوپر سے حد درجہ خوشامد پسندی کی وجہ سے خوشامدیوں کا جھرمٹ لے ڈوبے۔ اس بار قوم کی امیدیں اپنی ناگفتہ بہ حالت میں بہتری لانے والوں کی متلاشی ہے مگر موصوفہ اپنے بیانات میں جب عمران خان کو کوستے کوستے تھک جاتیں تو بے وقت موٹروے، میٹرو اور لیپ ٹاپ کا پرانا راگ الاپنے لگتیں جس نے عوام کی توجہ حاصل نہ کرنے میں بہت ”مدد“ کی۔
پیپلز پارٹی نے اپنے پتے سولہ ماہ کی حکومت اور اس کے بعد بھی بہت احتیاط سے کھیلے۔ یہ تو پی ڈی ایم حکومت کے بنتے ہی سمجھ آ گیا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ بن کے بھی نون لیگ کو ٹھکانے لگانے کا کام کرے گی جو اس نے بھرپور انداز میں کیا جس کا مظہر حالیہ انتخابی نتائج ہیں۔ دیکھا جائے تو صحیح معنوں میں کھیل کا میدان پیپلز پارٹی کو ملا جہاں اسے بھرپور سیاست کی آزادی تھی لیکن نون لیگ کی طرح خصوصی حیثیت حاصل نہ تھی۔ شریک چیئرمین بلاول نے ہمیشہ کی طرح معقول موقف اپنائے رکھا جو انتخابی سرگرمیوں میں واضح تھا، البتہ دس نکاتی منشور سوائے سیاسی شعبدہ بازی کے کچھ نہیں۔
مولانا فضل الرحمن میمو گیٹ کے وقت تب کے صدر پاکستان آصف زرداری اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان پل کا کردار ادا فرماتے فرماتے خود کو اتنا اہم سمجھنے لگے کہ انہیں محسوس ہونے لگا کہ یہ دونوں انہیں کبھی نہ کبھی صدر پاکستان بنا ہی دیں گے، اسی آس پر ہی وہ پی ڈی ایم میں پیش پیش رہے رہے اور صرف اسی پر ہی تکیہ کیے رہے تو ادھر ان کی عدم دستیابی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پی ٹی آئی نے ان کی سیاست ہی لپیٹ دی۔ تیرا لٹیا شہر ڈی آئی خان مولا نے او بے خبرے!
آج وہ جہاں نظرانداز کیے جانے پر نون لیگ اور پیپلز پارٹی سے شاکی ہیں وہیں اسٹبلشمنٹ کو احتجاج کی بل واسطہ گیدڑ بھبکیاں بھی دے رہے ہیں مگر وہ نہ خود سمجھنا چاہ رہے ہیں نہ ہی اپنے ووٹر کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ وہ مقابلہ کیوں نہ کرسکے۔ وہ ایک نیاء راگ متعارف کر رہے ہیں کہ انہیں عالمی اسٹبلشمنٹ نے افغانستان میں پائیدار امن کی کوششوں کی سزا دی ہے۔
اس سارے جھمیلے میں جس کی لاٹری لگی وہ ہے متحدہ قومی مومنٹ جو کبھی کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص اور سکھر میں تقسیم ہند کے بعد بھارتی علاقوں سے ترک سکونت اختیار کرنے والوں کی واحد نمائندہ جماعت ہوا کرتی تھی مگر اس نے مشرف کی بے حساب کرم نوازیوں کے باوجود سوائے اس طبقے کی محرومیوں میں اضافے کے کچھ نہیں کیا۔
عوامی مقبولیت کھو دینے کے بعد سے ایم کیو ایم کی انتخابات میں کامیابی کی واحد حکمت عملی طاقت رہی، وہ طاقت نہیں جو عوام عطاء کرتی ہے بلکہ وہ جو وہ مسلح جتھوں کی بدولت حاصل ہوتی ہے۔ اس طاقت کے بل پر یہ جماعت بالخصوص 2002، 2008 اور 2013 کے انتخابات میں کامیاب ہوتی رہی لیکن 2018 میں ایک طرف اسٹبلشمنٹ کی پی ٹی آئی کی حمایت کی وجہ سے ان سے بے رخی تو دوسری طرف مایوس ووٹر اور غیر وابستہ عوام کے پی ٹی آئی سے لگاؤ نے ایم کیو ایم کی مقبولیت کی گویا قلعی ہی کھول دی۔
یہی وجہ تھی کہ اس بار اسٹبلشمنٹ کے عتاب کا نشانہ بننے والی پی ٹی آئی کا ایم کیو ایم نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے نون لیگ سے انتخابی اتحاد کیا اور یوں یہ دوسری جماعت بنی جو ان انتخابات میں اسٹبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ کر نون لیگ کے ساتھ مل کر ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ پر کھیلی۔
پی ٹی آئی وہ جماعت ہے جو بظاہر آئینی تبدیلی کے تحت حکومت سے برخواست ہونے کے باوجود زبردست عوامی توجہ کا مرکز بنی، صرف اس وجہ سے کہ اس نے عالمی اسٹبلشمنٹ کی منشا پر مقامی اسٹبلشمنٹ کے ذریعہ ہٹائے جانے کا موقف اپنایا جو اپنی حیثیت میں بہت دلفریب ہونے کے ساتھ تاریخ کے آئینے میں درست معلوم ہوتا تھا، باوجود اس حقیقت کے کہ یہ موقف تاریخ کے تناظر میں سیاسی موت بھی بن سکتا ہے۔
پی ٹی آئی اس انتخابات میں منشور، نعروں اور وعدوں سے ہٹ کر صرف اسی نکتہ پر مرکوز رہی اور ”حقیقی آزادی“ کا دلنشیں خواب دکھلایا جو آئین و قانون کی حقیقی بالادستی کا نقیب ہونے کی وجہ سے ساری خرابیوں اور محرومیوں کے خاتمے کے لیے پہلا قدم ہے۔
ایک طرف سیاسی بندشیں تو دوسری طرف یہ حسین خواب اوپر سے گزشتہ حکومت کی ناکامی جس نے پی ٹی آئی حکومت کے بننے اور چلنے کی خرابیوں کو بھلا دیا، پھر کیا تھا ووٹر تو ووٹر دیگر عوام بھی اس طرف راغب ہونے پر مجبور سی ہو گئی۔ دھندلی، نتائج پر اثرانداز ہونے کے تاثر اور سوشل میڈیاء پر دستیاب اس تاثر کے حق میں ثبوتوں نے پی ٹی آئی کی نامکمل کامیابی کو جہاں مکمل کرنے میں مدد دی وہیں قوی امکانی حد تک اس انتخابات کو نون لیگ کے مستقبل کے لیے بہت بڑا مسئلہ بھی بنا دیا۔
اس بار یا اگلی بار جب بھی پی ٹی آئی کی حکومت مرکز میں بنی جو بننی ہے، تب اگر پی ٹی آئی نے اس حقیقی آزادی کو کوئی عملی شکل نہ دی یا وہ پہلے کی طرح محبت کی پینگیں بڑھانے لگی اور ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہ سیکھا تو وہ یہ یاد رکھے اسے تب جس زوال اور خاتمے کا سامنا ہو گا وہ بھی ”حقیقی“ ہو گا۔

