تاکہ ریکارڈ درست رہے


سوشل میڈیا نے طویل تحریریں پڑھنے اور گھنٹے پر محیط ٹاک شوز دیکھنے کا دور سمیٹ دیا ہے اب ایک پیراگراف کی تحریر اور 60 سیکنڈز کی ویڈیو ہی قابل قبول ہوتی ہے۔ اس لیے بلا تمہید مطلب پر آتے ہیں۔ شفافیت کے حوالے سے مشکوک انتخابات کے بعد کا منظر نامہ یہ ہے کہ مرکز میں اسٹیبلشمنٹ کی منشا کے عین مطابق معلق پارلیمنٹ وجود میں آ چکی ہے انتہائی کمزور اور بے اختیار حکومت بننے جا رہی ہے۔ اور مسلم لیگ نون ایک مرتبہ پھر ملک بچانے کے نام پر نیم حکمرانی کے مزے اڑانے کے لئے پر تول رہی ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کے لئے ناقابل قبول نواز شریف کو اپنے فرمانبردار شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ مسلم لیگ کے لئے اس وقت مرکز میں حکومت بنانا گلے کی ہڈی بن گئی ہے جس کو اگلنا اور نگلنا ایک برابر تکلیف دہ ہوتا ہے۔ حکومت نہیں بناتی ہے تو قومی اسٹیبلشمنٹ اور عالمی دوستوں کے ساتھ کیے گئے وعدے وعید آڑے آتی ہے۔ اور ان کے سالوں کے کیسز ہفتوں میں ختم ہونا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ حکومت بناتی ہے تو پیپلز پارٹی کی جال میں بری طرح پھنسنے کا خدشہ ہے۔

کیونکہ حکومت مسلم لیگ کو دینے اور تمام آئینی عہدے لینے کا مطلب ہو گا کہ پیپلز پارٹی کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہوگی اور وہ پانچ سال میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تو تو کی پوزیشن میں ہوگی۔ شہباز شریف مقتدر قوتوں سمیت پیپلز پارٹی کی ہر بات ماننے پر مجبور ہو گا۔ معیشت کو بہتر کرنے کے لئے دن رات ایک کرے گا تاکہ اشرافیہ کی عیاشیاں برقرار رہے۔ ایسی کمزور اور کمپرومائزڈ حکومت سے یہ توقع کرنا کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اشرافیہ کے مفادات پر ضرب لگانے کا کوئی فیصلہ کرے گی خام خیالی ہے۔

عالمی سرمایہ کاری کے لئے ایپکس کمیٹی کی پالیسی جاری رہے گی جو اچھی بات ہے۔ مگر پرائیوٹائزیشن میں پیپلز پارٹی پہلے کی طرح رکاوٹ بنی رہے گی۔ اور یہ سفید ہاتھی جیسے نام نہاد بڑے ادارے عوام کا خون چوستی رہے گی۔ سٹیٹس کو کی موجودہ صورتحال میں پڑوسیوں سمیت خارجہ پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کی کوئی امید نہیں لہذا سی پیک، ریجنل کنیکٹیویٹی پاک افغان یا پاک انڈیا تجارت پر حسب معمول کبھی خوشی کبھی غم والی کیفیت طاری رہے گی۔

پشتون عوام چونکہ پی ٹی آئی کے کچھ زیادہ دلدادہ تھے اس لیے یہاں ان کو حکومت دی جا رہی ہے تاکہ ایک تو ملک بھر کے کارکنوں کو یقین دلایا جا سکے کہ انتخابات شفاف ہوئے ہیں اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی پختونخوا میں ان کی حکومت بن گئی دوم یہ کہ موجودہ مشکل معاشی صورتحال میں اس کی ناکامی کے چانسز زیادہ اور کامیابی کے کم ہے۔ لہذا اس کو تیسرا موقع دے کر آزمانا چاہتے ہیں اگر سر تسلیم خم کیا اور پر امن اور شریفانہ انداز سے ڈیلیور کیا تو شاید عمران خان سمیت پوری پارٹی کی مشکلات میں کمی آئے بصورت دیگر ان کی ناکامی عوام کی نفرت اور مایوسی کا ذریعہ بنے گی۔

ایک اور خیالی تصویر پیش کر رہا ہوں۔ ظاہر ہے اس پر کسی نے اس وقت عمل نہیں کرنا مگر کم از کم ریکارڈ درست رہے کہ ایسا بھی ممکن تھا۔

یعنی اگر مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی واقعی ملک میں سول سپر میسی اور خودمختار عوامی حکومت چاہتی ہے تو اس کے دو ممکنہ حل ہے۔ ایک یہ کہ تینوں بڑی پارٹیاں قومی اسمبلی کی حد تک ری پولنگ پر راضی ہو جائے۔ قومی اسمبلی کے تمام حلقوں میں پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والوں کے درمیان دوبارہ الیکشن ہو۔ اس کے لئے دوبارہ کاغذات جمع کرنے یا مزید مشکلات میں پڑنے کی بجائے صرف بیلٹ پیپرز دوبارہ چھاپنے اور عملہ تعینات کرنے کی مہلت دی جائے۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر اس طرح کرنے میں کوئی رکاوٹ ڈالتا ہے تو نون لیگ اور پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی ممبران کو مل کر استعفی دینا چاہیے۔ تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ پھر دوبارہ انتخاب آئینی اور قانونی مجبوری بن جائے گی۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس دوسرے طریقے میں خطرات زیادہ ہے۔ کیونکہ مایوسی گناہ ہے اللہ کرے کہ میں غلط ہوں مگر لگتا ہے کہ پاکستانی عوام کی مشکلات اور اشرافیہ کے مزے معمول کے مطابق جاری رہے گی۔

Facebook Comments HS