مولانا عبید اللہ سندھی سے مولانا فضل الرحمن تک
ملک میں انتخابات ہوئے اور دوسری جماعتوں کی طرح مذہبی سیاسی جماعتوں نے بھی بہت بلند دعووں کے ساتھ ان میں حصہ لیا۔ ان جماعتوں کے لئے نتائج بہت مایوس کن ثابت ہوئے۔ تحریک لبیک اور جماعت اسلامی کا تو مکمل طور پر صفایا ہو گیا۔ بلوچستان میں جمیعت العلماء اسلام نے معقول تعداد نشستیں حاصل کیں۔ لیکن انتخابات کے بعد فضل الرحمن صاحب کے بیان نے سب کو حیران کر دیا۔ اب تک صرف مشرف دور میں ہونے والے انتخابات میں مذہبی جماعتوں نے مل کر دس فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔
باقی انتخابات میں ان کی کارکردگی اس سے بھی بھی بہت نیچے رہی ہے۔ لیکن ہر مرتبہ یہ دعویٰ ضرور کیا جاتا ہے کہ اب قوم سیاستدانوں سے مایوس ہو چکی ہے اور یقینی طور پر اب ہم انتخابات میں کامیاب ہوں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں مذہبی جماعتوں کی ایک اہمیت ہے۔ اس کا تقاضا ہے ان کی تاریخ کا سنجیدہ مطالعہ کیا جائے۔
سو سال سے بھی زائد عرصہ سے کم از کم برصغیر میں بہت سے مذہبی حلقوں اور بہت سے مذہبی علماء کا یہی رجحان رہا ہے کہ وہ اپنے مقاصد اقتدار حاصل کر کے اور حکومت کا حصہ بن کر ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس لیے اقتدار میں آنا بہت ضروری ہے۔ جدید برصغیر میں اس کی ایک پہلی جھلک تحریک خلافت کے دوران نظر آئی۔ اسی دور میں جمیعت العلماء اسلام کی بنیاد رکھی گئی۔ اگر پاکستان کی سیاست کی تاریخ میں علماء کے کردار کا تجزیہ کرنا ہے تو تحریک خلافت کے دور کی سیاست میں علماء کے کردار کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔
پہلی جنگ عظیم کے بعد جب گاندھی جی کے تعاون سے تحریک خلافت نے زور پکڑا تو بہت سے علماء نے اس کا حصہ بن کر سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں حصہ لینا شروع کیا اور اس غرض کے لئے آریہ سماج کے لیڈروں سے جو کہ اسلام دشمنی میں مشہور تھے، بھی اتحاد کیا گیا۔ یہاں تک کہ جامعہ مسجد دہلی میں سوامی شردھانند کو بلایا گیا اور انہوں نے وہاں پر ہندو مقدس کتاب وید کے اشلوک پڑھے۔ انہی صاحب نے بعد میں مسلمانوں کو ہندو بنانے کی تحریک یعنی شدھی تحریک چلائی۔
یہ تحریک صرف ترکی کے حقوق اور سلطان ترکی کی خلافت کی حفاظت کے لیے سیاسی جد و جہد تک محدود نہیں تھی۔ بلکہ اس تحریک کے جلو میں بہت سے علماء نے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کا ایک عسکری منصوبہ بھی بنایا تھا۔ منصوبہ بھی بنایا تھا۔ عبید اللہ سندھی صاحب جن کا نام انگریز حکومت کے خلاف ریشمی رومال تحریک کے حوالے سے معروف ہے اس وقت اس منصوبے میں ایک اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ منصوبہ تحریر کر کے دیوبند کے ایک عالم شیخ الحدیث محمود الحسن صاحب کو بھجوایا تھا۔
اس منصوبہ کے دو اہم حصے تھے۔ ایک تو کابل میں ہندوستان کی جلاوطن حکومت بنائی گئی تھی۔ اس حکومت میں صدر کا عہدہ راجہ مہندر پرتاپ صاحب کو سپرد کیا گیا تھا۔ یہ صاحب بھی آریہ سماج سے تعلق رکھتے تھے۔ راجہ مہندر پرتاپ پہلی جنگ عظیم میں کسی طرح جرمنی پہنچ گئے تھے اور قیصر جرمنی سے ملاقات کی تھی۔ جرمنی کے بادشاہ نے راجہ مہندر پرتاپ کو ہندوستان کے رئیسوں اور امیر کابل کے نام ایک خط دیا اور اپنا ایک نمائندہ بھی ان کے ساتھ کر دیا۔ اسی طرح ترکی کے بادشاہ نے جو کہ جرمنی کے حلیف تھے، بھی ہندوستان کے امور کے لئے راجہ مہندر پرتاپ کو اپنا وکیل مقرر کیا اور اپنا ایک نمائندہ ان کے ساتھ کر دیا۔ اس کام میں راجہ صاحب اکیلے نہیں تھے بلکہ ایک عالم مولوی برکت اللہ بھوپالی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ یہ صاحب امریکہ اور جاپان میں رہ چکے تھے۔
یہ وفد کابل پہنچا اور امیر کابل حبیب اللہ خان سے ملاقات کی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ افغانستان کے بادشاہ یہی محسوس کرتے تھے کہ ان کی حیثیت ایسی نہیں کہ وہ برطانیہ جیسی طاقت سے ٹکر لے سکیں۔ انہوں نے اس وفد کا اعزاز سے خیر مقدم تو اعزاز سے کیا لیکن یہ وفد اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ عبید اللہ سندھی صاحب کا خیال تھا کہ ترکی کا فرض تھا کہ وہ پہلے افغانستان اور ایران کی ضروریات معلوم کر تا اور ان کو پورا کرنے کی کوشش کرتا اور افغانستان کو اسلحہ روپیہ اور انجینئر وغیرہ مہیا کرتا۔
اگر ایسا کر دیا جائے تو افغانستان برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ میں شرکت کے لئے تیار ہے۔ اور اگر ایسا ہو جاتا تو اس تحریک سے وابستہ لوگ باجوڑ، مہمند، سوات، چترال، بونیر کوہستان وغیرہ میں برطانوی حکومت کے خلاف نظم مہم چلاتے۔ لیکن جرمن اور ترک سفرا کابل خالی ہاتھ آئے بلکہ اپنی سفارت کی کوئی مناسب سند بھی ساتھ نہیں لے کر آئے تھے۔ (یہاں یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنگ عظیم میں کودنے کی وجہ سے اس وقت خود ترکی کی سلطنت عثمانیہ انہی چیزوں کی شدید محتاج تھی )
بہر حال اس پس منظر میں اس تحریک کے قائدین نے دو متوازی منصوبے تیار کیے ۔ یہ دو منصوبے عجیب و غریب ہونے کے علاوہ کئی لحاظ سے متضاد بھی تھے۔ پہلے ہندوستان کی ایک جلاوطن اور عبوری حکومت بنائی گئی جس کے صدر راجہ مہندر پرتاپ مقرر ہوئے اور یہ طے ہوا کہ اگر افغانستان جنگ میں شرکت کے لئے تیار ہو جائے تو مسلمان ان شہزادہ صاحب کو ہندوستان کا بادشاہ بھی تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔ اس حکومت کے وزیر اعظم مولوی برکت اللہ بھوپالی مقرر ہوئے اور وزیر ہند مولانا عبید اللہ سندھی کو مقرر کیا گیا۔ یہ خاکہ افغانستان کے بادشاہ امیر حبیب اللہ کو بھی پیش کیا گیا لیکن چونکہ افغانستان جنگ میں شرکت کے لئے تیار نہیں تھا، اس لئے ان کی طرف سے اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
گو کہ مہندر پرتاپ ایک راجہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے کئی والیان ریاست سے تعلقات بھی تھے لیکن حیرت ہے کہ یہ گمان کس طرح کر لیا گیا کہ ہندوستان انہیں اپنا بادشاہ تسلیم کر لے گا۔ جب کہ جمہوریت کی مہم ہندوستان میں شروع ہو چکی تھی۔ آزادی کے بعد مہندر پرتاپ صاحب بھارت کی پارلیمنٹ کے ممبر بھی رہے لیکن ان کی یہ حیثیت کبھی بھی نہیں تھی کہ انہیں ہندوستان کا بادشاہ بنا دیا جاتا۔
دوسرا منصوبہ ایک اسلامی لشکر کا تھا جسے ’الجنود الربانیہ‘ کا نام دیا گیا۔ عبید اللہ سندھی صاحب کے اس خط کے مطابق اس لشکر کے قیام کا مقصد تمام اسلامی سلطنتوں کا اتحاد قائم کرنا تھا۔ اب اس کے خدو خال کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس کے تین مربی مقرر کیے گئے تھے جو کہ ترکی کے بادشاہ، ایران کے بادشاہ سلطان احمد شاہ قاچار، اور افغانستان کے امیر حبیب اللہ تھے۔ ان تین مختلف ممالک اور مسالک کے سرپرستوں میں کس کا فیصلہ چلنا تھا اور اصل قیادت کس کی ہونی تھی؟ اس منصوبہ میں اس کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اس منصوبہ کے لئے ان میں کسی ایک کی بھی رائے نہیں لی گئی تھی۔
اور کچھ فیلڈ مارشل مقرر کیے گئے تھے جنہیں ’مرد میدان‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اور فیلڈ مارشل کے عہدہ پر ترکی کے ولی عہد، ترکی کے وزیر اعظم عباس حلمی پاشا، انور پاشا، شریف مکہ، افغانستان کا نائب السلطنت، نواب بھوپال، نواب رامپور، نظام حیدر آباد اور نواب بہاولپور۔ بظاہر یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ ان میں سے کسی کو بھی اس ’جنود الربانیہ‘ میں شریک عمل ہونے کے لئے راضی کیا گیا تھا۔ اور اس وقت خود شریف مکہ انگریزوں سے مل کر ترکی کی حکومت کے خلاف سازش کر رہے تھے۔
اور اس تمام لشکر کے سالار یا جنرل کے عہدہ کے لئے مدرسہ دیوبند کے شیخ الحدیث محمود الحسن صاحب کا نام تجویز ہوا تھا اور اس وقت وہ بھی اس منصوبہ سے بے خبر تھے۔ اور ان کی عدم موجودگی میں عبید اللہ سندھی صاحب نے قائم مقام سالار کے طور پر کام کرنا تھا۔ تجویز یہ تھی کہ شیخ الحدیث محمود الحسن صاحب مدینہ منورہ میں قیام کر کے تمام مسلمان ممالک کے اتحاد کی کوشش کریں گے۔
اب اس فرضی لشکر کے چند لیفٹیننٹ جنرل حضرات کے نام ملاحظہ ہوں۔ ان میں مولوی عبد الباری صاحب، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا شوکت علی، مولانا محمد علی جوہر، حسرت موہانی صاحب، پیر رشد اللہ شاہ سندھی صاحبان کے نام شامل ہیں۔ یہ تھی اس فوج کی قیادت جس نے پوری دنیا کی طاقتوں سے لڑ کر تمام مسلمان ممالک کی ایک مشترکہ سلطنت قائم کرنی تھی۔ اور اس منصوبہ کے لیے چین اور جاپان سمیت مختلف ممالک کی طرف سفارت کار روانہ کیے جا رہے تھے۔
اس عبوری حکومت کے متعلق مولانا عبید اللہ سندھی صاحب نے اپنی امیدوں کا اظہار ان الفاظ میں کیا، ”ایک جمیعۃ ہندوستان آزاد کروانے والی ہے۔ اس کا صدر ایک ہندی راجہ مقیم کابل ہے۔“
اور الجنود الربانیہ کے مقاصد ان الفاظ میں بیان کیے ، ”یہ فوجی اصول پر مخصوص اسلامی جماعت ہے۔ جس کا مقصد اولیہ سلاطین اسلام میں اتحاد پیدا کرنا ہے۔“
اسی منصوبہ میں جو عبید اللہ سندھی صاحب نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا دنیا کے مختلف علاقوں کو مختلف مسلمان ممالک کے حلقہ ہائے اثر میں تقسیم کیا گیا تھا۔ یورپ اور افریقہ ترکی کی سلطنت عثمانیہ کے حوالے ہوئے۔ وسطی ایشیا ایران کے بادشاہ کے حصہ میں آیا اور ہندوستان کو افغانستان کے زیر اثر علاقہ قرار دیا گیا۔
لیکن برطانوی حکومت کو مسلسل اس منصوبہ کی تفصیلات کا علم ہو رہا تھا۔ جو خط حجاز جاتے تھے وہ بھی برطانوی حکومت کو پہنچ جاتے تھے۔ اور ہندوستان میں خود مدرسہ دیوبند کے مہتمم شمس العلماء محمد احمد صاحب ان خطوط کو حاصل کر کے برطانوی حکومت تک پہنچا رہے تھے۔ محمد احمد صاحب کا برطانوی حکام کے نام ایک ایسا خط جو کہ 11 نومبر 1917 کو لکھا گیا تھا اسی فائل میں موجود ہے۔
بر صغیر کے علماء نے سیاسی اور عسکری تنظیموں کے میدان میں کس طرح پہلا قدم رکھا؟ اس کی کچھ جھلکیاں قارئین کی خدمت میں پیش کر دی گئی ہیں۔ موجودہ حالات سب کے سامنے ہیں۔ پڑھنے والے نتائج خود اخذ کر سکتے ہیں۔ اس خط و کتابت کا ریکارڈ برٹش لائبریری لندن میں محفوظ ہے۔


