اقرار الحسن بمقابلہ حق خطیب سرکار اور سراج الحق کا استعفیٰ
دنیا بھر میں اس قسم کے پراسرار کردار آپ کو دیکھنے کو ملیں گے جن کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ علم دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک ظاہری علم کہلاتا ہے جو کہ عام ہوتا ہے اور ایک کامن سینس رکھنے والا بندہ تھوڑی سی کوشش کر کے حاصل کر سکتا ہے۔
جبکہ علم کی دوسری قسم ”مخفی، خاص“ یا آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے جس کا ادراک یا گیان خاص افراد کو ہوتا ہے جسے علم لدنی بھی کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے بندے ”خاص یا اسپیشل“ ہوتے ہیں ان کی قدرت کے ساتھ گہری وابستگی اور ایک خاص تعلق ہوتا ہے جسے یہ تقوی و طہارت و پاکیزگی اور تسبیحات و عملیات کے ذریعے سے حاصل کرتے ہیں۔
ان ہستیوں کا یہ دعویٰ ہوتا ہے
” جو وہ جانتے ہیں دنیا بھر میں بہت کم لوگ جانتے ہیں“
ان کے مطابق یہ مخفی علم انہیں خاصی محنت و ریاضت کے بعد حاصل ہوتا ہے اور ہر کوئی اتنی گہرائی تک پہنچنے کے اہل نہیں ہوتا۔
اب ان باتوں میں کتنی صداقت ہے اس کو ماپنے کا کوئی عقلی پیمانہ موجود نہیں ہے اور نا ہی کوئی لیبارٹری ہے جہاں ان باتوں کو تجربات کے مراحل سے گزارا جا سکے اور نا ہی کوئی ایسی خوردبین یا دوربین ہے جس کے نیچے رکھ کر ان باتوں کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ ظاہر ہے جن حقائق کو آپ علم کا نام دینا چاہیں گے ان کی جانچ یا تشخیص کا پیمانہ عقل ہی ٹھہرے گی نا!
جہاں عقل کا کوئی عمل دخل نا ہو پھر تو وہ ساری باتیں فکشن یا اساطیر کہلائیں گی اور اگر آپ عقل و شعور کے بغیر کسی بندوبست کو بھی تسلیم کرنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کا انتخاب کہلائے گا۔ بہرحال علم کے دائرہ کار میں تو وہی داخل ہو گا جو عقلی پیمانے پر پورا اترے گا ورنہ تو وہ سب عقیدت کا چکر ہو گا اور عقیدت میں کچھ بھی بے چون چرا تسلیم کیا جا سکتا ہے۔
عوام میں بھی ایسے افراد کے متعلق بہت کچھ مشہور ہو جاتا ہے مثلاً
اس قسم کے پراسرار لوگوں کی دعائیں فوراً قبول ہوتی ہیں۔
ان کی دعاؤں سے گنہگاروں کی پریشانیاں دور ہوتی ہیں۔
دم درود یا جھاڑ پھونک سے ذہنی، روحانی یا جسمانی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔
ہم گنہگاروں کی دعائیں یا مناجات بارگاہ قدرت میں بڑی تاخیر سے پہنچتی ہیں جبکہ ان کی فوراً سے پہنچ جاتی ہیں۔
یہ جھاڑ پھونک کے ذریعے اور بغیر جراحی آلات کے روحانی آپریشن کر ڈالتے ہیں اور جسم کی غلاظتوں کو نکال باہر کرتے ہیں۔
اب اس قسم کی باتوں کو ماپنے جانچنے یا پرکھنے کا کوئی ایسا پیمانہ موجود نہیں ہے جس کی مدد سے اس روحانی پراسراریت کو ڈی کوڈ کیا جا سکے یا عقلی و تجرباتی پیمانوں پر پرکھا جا سکے۔
کیونکہ سارا عقیدت اور اندھے یقین کا کھیل ہوتا ہے جس کے سامنے بڑے بڑے عقل والے ڈھیر ہو جاتے ہیں۔
اس کی ہزاروں مثالیں ہمارے سماج میں موجود ہیں، ہزاروں ”شف شف“ مختلف سلسلوں، درگاہوں اور آستانوں کے ذریعے سے روحانیت اور کرامت کے نام پر شعبدہ بازی کر کے مریدین سے پیسے بٹورتے رہتے ہیں۔ بھولے بھالے عوام کی خون پسینے کی کمائی سے ان کی روحانی فیکٹریاں چلتی رہتی ہیں۔
ایک روحانی فیکٹری پر تو گزشتہ دنوں مشہور میڈیا پرسن اقرار الحسن نے چھاپہ مارا ہے، یقین مانیں حق خطیب کو جان چھڑانا مشکل ہو گئی۔
کیمرے اور میڈیا کی چاق و چوبند آنکھ نے شف شف سرکار کو بے بس کر ڈالا، موصوف کی گفتگو سے صاف نظر آ رہا تھا کہ بندہ تعلیم اور لفظوں کی شناسائی سے کوسوں دور ہے۔ اکثر الفاظ غلط بول رہا تھا اور اقرار الحسن کے بار بار اصرار پر وہ عربی کی ایک آیت بھی ڈھنگ سے نا سنا پایا روحانیت وغیرہ کو تو فی الحال ایک طرف کر دیں۔
خیر اقرار نے اپنے حصے کا کام بہت اچھے سے کیا اور شف شف کی تمام کرامات اور شعبدہ بازیوں کا پردہ چاک کر دیا۔ سوچتا ہوں پہلے وقتوں میں بھی اگر کیمرہ اور توانا قسم کا میڈیا موجود ہوتا تو نجانے اب تک کتنوں کے روحانی نقاب اتر چکے ہوتے، نجانے کتنی روحانی فیکٹریاں کامیاب بزنس دینے سے پہلے ہی ٹھپ ہو چکی ہوتیں کون جانے؟
شاید اسی لیے تو ہمیں آج زیادہ کرامات کی قصہ خوانیاں سننے کو نہیں ملتیں۔
اگر کہیں چھپ چھپا کے کوئی چکر چل رہا ہوتا ہے تو کوئی نہ کوئی ”اقرار“ اپنا کیمرہ اور انویسٹیگیٹو ٹیم لے کے پہنچ جاتا ہے اور فراڈ کا بھرم کھلنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔
شعور کی اس بالغ صدی کا زندہ پیر ”گوگل بابا“ ہے جو چند سیکنڈ میں ساری تاریخ کھول کے رکھ دیتا ہے، سائنس کے تمام شعبے بیدار ہو چکے ہیں۔
گلیلیو کی ٹیلی اسکوپ سے شروع ہونے والا سفر ترقی کے نجانے کتنے مراحل طے کر چکا ہے اور آج کا سب سے بڑا معجزہ کیمرے کی آنکھ ہے جس کا سامنا کرنے سے بڑے بڑے ڈرتے ہیں۔
اسی کیمرے کی بدولت تو شف شف سرکار کا ایک عرصے سے بنا بنایا بھرم چند سیکنڈ میں چھو منتر ہو گیا، بزنس تو خیر چلتا رہے گا۔ جہالت کو رخصت ہونے میں ابھی یہاں خاصا وقت درکار ہے۔
لاکھوں لوگوں کو بے وقوف بنانے والا کیمرے کی آنکھ کے سامنے بے بس ہو گیا، اس کے چہرے کے خد و خال، تاثرات، اشارے کنائے، ڈر اور خوف کے سایوں نے سب کچھ چند لمحات میں عیاں کر دیا۔
اب حق خطیب سرکار میں سراج الحق جیسا ظرف یا حوصلہ کہاں؟ کہ جس نے الیکشن میں بری طرح سے شکست کھانے کے بعد خود کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے جماعت کی امارت سے فی الفور استعفیٰ دے دیا اور اپنے نا اہلی کا سرعام اعتراف کیا۔
اگرچہ انہوں نے خاصی دیر کر دی یہ فیصلہ انہیں بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا لیکن دیر سے ہی سہی درست فیصلہ کیا۔
قاضی حسین احمد مرحوم کے بعد جماعت اسلامی کو وہ عروج پھر سے نصیب نا ہوسکا اور کوئی ڈھنگ کا امیر بھی نہیں ملا۔ جماعت سے اختلاف اپنی جگہ پر لیکن قاضی صاحب سیاسی بصیرت رکھنے والے انسان تھے اور ان کے دور میں واقعی جماعت کا طوطی بولتا تھا۔ منور حسن اور سراج الحق نے تو جماعت کو گلی محلے کی ایک معمولی سی جماعت میں بدل ڈالا اور اب تو خیر سیاسی عمل سے بھی باہر ہو چکی ہے۔
وقت کا پہیہ ہمیشہ آگے کی طرف گھومتا ہے اسے زبردستی پیچھے کو گھمانے والے وقت سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ غیر متعلقہ ہو جاتے ہیں اور وقت بھی متروک راستوں پر سفر کرنے والوں کو لتاڑ کے رکھ دیتا ہے۔
شعبدہ بازی، کراماتی چکر ویو، گدی نشینیاں، سلسلہ حسب و نسب، غنڈہ گردی اور دھن دھونس زیادہ عرصہ تک کار آمد نہیں رہتے۔
شعور کے پھیلنے سے بہرحال عقل ہی غالب آتی ہے، وقتی مکاریوں کی شیلف لائف بہت زیادہ نہیں ہوتی۔
یونیورسٹیز کی حد تک جماعت اسلامی والے ”اسلامی جمیعت طلبہ“ کے نام سے جو کچھ کرتے رہے ہیں کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، طلباء کو ڈرا دھمکا کر اپنے مطابق بنانے کے لیے جماعتی صالحین یونیورسٹیز کی راہداریوں میں کیا کچھ نہیں کرتے رہے لیکن یاد رکھیں پامال راستوں پر چلنے والے تادیر قائم نہیں رہتے۔
جب آپ مذہبی محافظ بن کے لوگوں کے بیڈ روم میں گھسیں گے، نجی زندگیوں میں تاک جھانک کریں گے اور لوگوں کو زبردستی اپنے فریم آف مائنڈ کے حساب سے جینے پر مجبور کریں گے تو عوام کب تک آپ کو برداشت کریں گے؟
مذہب کی عظمت، شان و شوکت اور وقار اس کے دائرہ کار میں پنہاں ہے، ایمانیات اور اندھا اعتقاد و یقین اس بندوبست کا لازمہ ہوتا ہے، جیسے ہی اس سسٹم کو آپ کسی بھی دنیاوی نظام کے ساتھ ملا کر پیش کرنے کی کوشش کریں گے تو اس کے وقار کو ٹھیس پہنچے گی۔
یہ ایک روحانی نظام ہے اس کا تعلق انسان کے اندر سے ہے نا کہ باہر سے۔
معاملہ اس وقت خراب ہوتا ہے جب ہم اس میں سے سیاست، ٹیکنالوجی اور سائنس ڈھونڈنے لگتے ہیں اور مذہب کو اپنے ذاتی مفادات اور خود کی طاقت سہ گنا کرنے کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں۔
بد قسمتی سے ہمارے ہاں کچھ اسی قسم کا چلن پایا جاتا ہے۔ مذہب کو یہاں ذاتی نمود و نمائش، ٹھاٹ باٹ، کوٹھیوں، بنگلوں اور گاڑیوں کی حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
مذہبی جماعتوں کے قائدین کا لگژری لائف سٹائل دیکھ لیجیے کتنی شان سے گاڑیوں اور محافظین کے جھرمٹ میں سفر کرتے ہیں۔
ہر کوئی اپنے اپنے طریقے اور انداز سے اپنا راشن پانی چلا رہا ہے۔
حق خطیب جیسے کردار ہر اس سماج میں پائے جاتے ہیں جہاں کے بڑے اپنی رعایا کو جان بوجھ کر ان پڑھ، جاہل اور اجڈ رکھتے ہیں، جہاں سماجی تفریق اور محرومیاں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔
اس قسم کے معاشرے درباروں، آستانوں یا درگاہوں کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔ سکول، کالج، یونیورسٹیز اور ٹیکنیکل ادارے نا ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔
یہاں باشعور اور پڑھے لکھے افراد، اکیڈیمیا اور سائنس دانوں کی بجائے ملنگوں اور پہنچی ہوئی سرکاروں کو احترام ملتا ہے۔
اس قسم کے سماج میں ”بڑے یا عقل کل“ پیروں، فقیروں، مولویوں یا شف شف سرکاروں کو سمجھا جاتا ہے اسی لیے تو ہمارے ہاں عقل راندہ درگاہ اور خجل خراب ہو رہی ہے۔


