مولانا ہدایت الرحمان کے عزائم


muhammad taqi kuldan

گرم پانیوں پر اس وقت دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ گوادر بندرگاہ کی اہمیت یہ ہے یہ سمندر کے جس حصے پر واقع ہے وہاں کا پانی گرم ہے۔ گرم سمندر میں تمام سال تجارت ممکن ہوتی ہے۔ برفیلے پانی میں واقع بندرگاہوں میں یہ خصوصیت مفقود ہے۔ گوادر کے سمندر جس طرح تجارت کے لئے اہمیت رکھتی ہے، اسی طرح ڈیپ ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ ڈیپ سی میں سمندری جہاز بہتر انداز میں لنگر انداز ہوسکتے ہیں۔

پاکستان میں گوادر اور اس سے ملحقہ پیشکان اور گنز کے ساحل نہایت ہی گہرے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیپ سی میں سی فوڈ لذیذ ہوتا ہے۔ چنانچہ گوادر، اور اس سے ملحقہ پیشکان اور گنز میں جو مچھلی پائی جاتی ہے، پاکستان کے دیگر سمندر کے مقابلے میں ان علاقوں کی مچھلی بہت زیادہ لذیذ ہوتی ہے۔ گوادر اور گنز سمندر میں سفید پاپلیٹ، اور سرمئی مچھلی لذیذیت میں اپنی مثال آپ ہے۔

گوادر میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ سمندری حیات کو درپیش مشکلات ہیں۔ یہ خطرہ ٹرالنگ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ گزشتہ چند سال سے اس میں شدت آئی ہوئی ہے۔ مولانا ہدایت الرحمان کو زیادہ تر ووٹ اس مسئلے کو ختم کرنے کے لئے پڑا ہے۔ ٹرالنگ بڑی مقدار میں مچھلیوں کو پکڑنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ جبکہ ٹرالر اس بڑی ماہی گیری کی کشتی کو کہا جاتا ہے جس میں مچھلیوں کو پکڑنے کے لیے باریک اور بڑے جال موجود ہوتے ہیں۔

یہ غیر قانونی عمل پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کے ساحل سمندر پر بھی عام ہے اور ماضی میں اس کو روکنے کے لیے کئی مہمات کا آغاز کیا گیا ہے۔ مگر جہاں کچھ ممالک اسے روکنے میں کچھ حد تک کامیاب ہوئے ہیں، وہیں پاکستان کا ساحل اب بھی اس غیر قانونی عمل سے متاثر ہے اور متاثرہ شہری گزشتہ بہت عرصے سے اس کے خلاف لگاتار احتجاج کرتے رہے ہیں۔

ٹرالنگ کے ذریعے مچھلیوں کو پکڑنے کے کام میں نہایت ہی باریک جال کا استعمال ہوتا ہے جسے عام زبان میں ’گجہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

اس باریک جال کو سمندر کے ساحل کے قریب پھینکا جاتا ہے، جہاں سے بڑی اور چھوٹی مچھلیوں کے ساتھ ساتھ پیدا ہونے والی مچھلیوں کی نئی نسل بھی شکار کر لی جاتی ہے جسے مقامی افراد ’سمندر کو بانجھ‘ کرنا کہتے ہیں۔ گوادر شہر جو اہمیت اس وقت اختیار کر گئی ہے، ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں۔ گوادر ایک ابھرتا ہوا شہر ہے۔ گوادر کو سی پیک کا جھومر کہا جاتا ہے ۔ سی پیک پاکستان کے ترقی کا موجب بن سکتا ہے، جب تک گوادر میں رہنے والے لوگوں کی روزگار کا تحفظ نہ ہو، لوگوں میں بے چینی ختم نہیں ہو سکتی۔

گوادر میں بہت سارے مسائل ہیں۔ لیکن سرفہرست مسائل میں ٹرالنگ کا ایشو سب سے بڑا ہے۔ 2024 کے الیکشن میں اس حلقے میں ایک ایسے شخص کو منتخب کیا، جو شاید پورے ملک میں منتخب ہونے والے نمائندوں سے سب سے زیادہ منفرد اس لیے ہے کہ وہ ایک غریب لور مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے۔ مولانا ہدایت الرحمان کے پاس الیکشن کمپین چلانے کے پیسے نہیں تھے۔ حلقے عام لوگوں نے مل کر مولانا کی الیکشن کمپین چلائی۔ پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ ایک عام آدمی جو کہ ایک عام آدمی کے مسئلے سے واقف ہے، اسمبلی کے لئے منتخب ہوا ہے۔ لوگوں کی مولانا کے ساتھ توقعات وابستہ ہیں۔ مولانا کی اصل کامیابی 8 جنوری کی کامیابی نہیں ہے، اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان میں رہے، ان کے مسائل کے لئے کوشاں ہو، عملی کام کرے، جب ایک سال بعد ان کی مقبولیت اسی طرح برقرار رہی تو یہ سمجھا جائے گا کہ مولانا کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔

سندھ سے آنے والا ٹرالر مافیا نے بلوچستان کے ساحلوں تاراج کیا ہے۔ اور مسلسل غیر قانونی جالوں کے ذریعے سمندری حیات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

گوادر کے نو منتخب ایم پی اے اور حق دو تحریک سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کو گوادر کے حلقے میں لوگوں نے اس لیے ووٹ کیا کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں۔ گوادر میں رہنے والے زیادہ تر آبادی کا پیشہ ماہی گیری ہے۔ اس سلسلے میں مولانا نے اپنے عزائم کا اظہار کیا۔

حق دو تحریک کے سربراہ اور نو منتخب ایم پی اے ضلع گوادر *مولانا ہدایت الرحمان بلوچ* نے حلف اٹھانے کے فوری بعد ضلع گوادر کے سمندر سے ”ٹرالر صفایا“ مہم کا اعلان کر دیا انہوں نے کہا کہ ٹرالر مافیا شرافت سے ضلع گوادر کے سمندر کو خالی کر دئے بصورت دیگر ماہی گیروں کے ساتھ مل کر سرکاری مشینری کو ان کے خلاف بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب ضلع گوادر میں صرف وژنری افسران تعینات ہوں گے جو مخلص لیڈرشپ کے ساتھ مل کر لوگوں کی خدمت کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پسنی پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی جدوجہد سڑک سے شروع کی تھی اور میں سڑک سے کسی بھی طرح لاتعلق نہیں ہو سکتا ۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ ہم نے عوام کے بنیادی حقوق اور مسائل کے حل کے لیے طویل دھرنا دیا تشدد برداشت کیا اور جیل کاٹیں اور ہمارے ساتھی آج بھی عدالتوں میں پیشی لگا رہے ہیں ہمارے کارکنان پر مقدمات قائم کیے گئے اور اتنی طویل قربانی کے بعد عوام نے 8 فروری کو ہمیں عزت دی اور ہمیں کامیاب کرایا اور یہ عزت ہم پر ایک قرض ہے اور ہم اپنے عوام کے مقروض ہیں اور انشاء اللہ ہماری پوری ٹیم بھرپور طریقے سے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گی اور جن مسائل کے حل کے لیے کل ہم نے سڑکوں پر جاکر دھرنا دیا اب ہم پر فرض ہے کہ ہم انہیں اسمبلی فلور پر جاکر حل کرائیں۔

انہوں نے کہا کہ ضلع گوادر میں صحت اور ایجوکیشن کا نظام تباہ ہے پانی اور بجلی کا ایشو بھی ہے منشیات عام ہیں۔ میری والدہ اور میرے بچے آج بھی سرکاری اسپتالوں میں جاکر لائن میں کھڑے ہو کر اپنا علاج کراتے ہیں اور انہی اسپتالوں سے پیناڈول لیتے ہیں ہم غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں اور ہماری قوم علاج کے لیے کراچی جاتی ہے اور میں کوشش کروں گا کہ علاج کی تمام سہولتیں اپنے عوام کے لیے ضلع گوادر تک پہنچا دوں۔

انہوں نے کہا کہ میری جدوجہد کا آغاز سڑک سے ہوا تھا اور میں سڑک کا آدمی ہوں اور سڑک سے کسی بھی طرح لاپروا نہیں ہو سکتا میں ایک پرامن سیاسی کارکن ہوں اگر کوئی شخص اپنے حقوق کے لیے سڑک پر نکلے گا تو میں ضرور اسکے پاس جاؤں گا اگر میرا عوام کسی مسئلے پر سڑک پر احتجاج کر رہے ہوں اور میں بحیثیت ایم پی اے اس سے لاپروا رہوں قطعاً ایسا نہیں ہو گا میں خود کو سڑکوں سے بھی لاتعلق نہیں رکھوں گا ہم سیاسی کارکن ہیں جدوجہد کرتے رہیں گے اور میں کسی بھی طرح خود کو ایم پی اے کی سیٹ کا اسیر نہیں بنا سکتا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments